فلاحی ادارے یا سیاسی سہولت کار


پشتو کی ایک کہاوت ہے ”دا چا پہ شر کی دا چا خیر یی۔“ جس کا ترجمہ ہے کہ ”کسی کے شر میں کسی کی خیر ہوتی ہے“ 2022 کو آنے والے سیلاب نے نے جہاں عوام کی کمر توڑ دی وہی پہ حکومت کو بیساکھیوں کی مانند سہارا بھی دے دیا۔ کیونکہ سیلاب سے قبل تمام بین الاقوامی فلاحی ادارے اپنا بوری بسترا سمیٹ کر اس ملک سے دلہن کی طرح رخصتی حاصل کر رہے تھے مگر سیلاب کی آمد نے انھیں یہ قسم دے کر روک دیا کہ رکو ان غریبوں کے نام پہ اشرافیہ اور لٹیروں کی مدد کر دو اگر تم بھی چلے جاؤ گے تو ان سیاسی لٹیروں کے مستقبل کو کون سنبھالے گا؟

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق جہاں 70 لاکھ سے زائد لوگ حالیہ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور اپنے گھروں اور بنیادی ضروریات سے محروم ہوئے وہی پہ ہزاروں لوگوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے یہاں تک کہ چند کا تو نام و نشان تک باقی نہ رہا مگر پھر بھی یہ عوام عقیدہ رکھے ہوئے ہے کہ یہ سب پروردگار کی طرف سے آزمائش ہے اور اس میں انسانی عمل دخل موجود نہیں۔ اسی اثنا میں نطشے نے کیا خوب کہا ہے کہ ”اگر عقل کو مطمئن کرنا چاہتے ہو تو جستجو اور تحقیق کرو، اور اگر روح کو مطمئن کرنا چاہتے ہو تو عقیدہ رکھو“ ۔

بحیثیت مسلمان یہ ہمارے عقیدے کا لازمی جزو بن گیا ہے کہ تمام تر آفات کو قدرت کی طرف سے آزمائش سمجھتے ہیں اسی ہے ہم نے ان سے نمٹنے کے لیے کبھی کچھ نہیں کیا بلکہ ہر آفت کو ایک تقریب کے طور پہ دیکھتے ہیں اور ہر سال اس آزمائش کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب پروردگار ہماری طرف دیکھے گا۔ سب کچھ قدرت کے حوالے کر دیتے ہیں اور سیاسی لٹیروں سے پوچھتے تک نہیں کہ ہمارے بچاؤ کے لیے کیا تدابیر اختیار کی گئی، کن پالیسیوں پہ کام کیا گیا وغیرہ ہم یہ سب کچھ اس لیے نہیں پوچھتے کیونکہ ہمارے عقیدے کے مطابق آفت قدرت کی طرف سے نازل شدہ آزمائش ہوتی ہے شاید اسی لیے پاکستان کو مملکت خداداد بھی کہا جاتا ہے!

حالیہ سیلاب میں میں پاکستان کو دنیا بھر سے امداد موصول ہوئی تاکہ سیلاب متاثرین کو بروقت امداد پہنچا دی جائے۔ اس کام میں تمام اداروں (قومی و بین الاقوامی) نے بڑھ چڑھ کے اس حد تک حصہ ڈالا کہ عوام کا تو پتہ نہیں مگر سیاسی لٹیروں کی مدد ضرور ہوتی چلی گئی۔ جس طرح عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کو سیاسی رخ دیا گیا اور اقتدار کے مزے لوٹے گئے بالکل ویسے ہی حالیہ سیلاب میں ملنے والے امدادی سامان کو سیاسی لٹیروں نے اپنی مرضی سے استعمال کیا جس کا فائدہ اشرافیہ اور لٹیروں (سیاسی اور بیوروکریٹس) کو ہوا۔

حالیہ سیلاب میں سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ اور بلوچستان ہے جہان 7 ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی عوام کی صورتحال بہتر نہیں ہوئی۔ فلاحی اداروں نے لوگوں کی مدد کے لیے جہان تک ممکن ہوا کام کیا اور امداد فراہم کی چونکہ ان اداروں کا مقصد سیاسی نہیں بلکہ فلاحی ہوتا ہے اسی لیے انھیں چنداں فرق نہیں پڑا کہ ان کا دیا ہوا سامان اور امداد کو کون سی سیاسی پارٹی اپنے نام سے منسوب کر کے عوام میں تقسیم کر رہی ہے اور اپنے سیاسی مستقبل کو روشن اور عوام کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل رہی ہے!

بحیثیت طالبعلم ان تمام تر صورتحال کو سامنے رکھتے ایک معصومانہ سوال جس کا بالواسطہ اور بلاواسطہ تعلق فلاحی اداروں اور ان کے ملازمین سے بنتا ہے وہ یہ کہ، ”کیا واقعی فلاحی ادارے سچ میں فلاحی ہیں یا پھر سیاسی پارٹیوں کے سہولت کار؟ آئیں مل کے اس سوال کا معلوم مگر نامعلوم جواب تلاش کریں۔

 

Facebook Comments HS