ہمارے اجداد خائن تھے


جہاں بزرگوں کو آنے والی نسل سے توقعات ہوتی ہیں تو وہاں کئی خدشات بھی لاحق ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ خدشات بے سر و پا ہوتے ہیں لیکن عموماً ان خدشات کی تعداد توقعات سے زیادہ ہوتی ہے۔ وہیں نوجوان نسل بھی بزرگوں سے متعلق شکایات کا انبار لیے ہوئے ہے۔ بزرگ اگرچہ آنے والی پیڑھی کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے لیکن آنے والی نسل کے بعض خدشات نا صرف درست ہیں بلکہ کچھ شکایات لمحہ موجود میں بزرگی کی مسند پر براجمان نسل پر فرد جرم کا درجہ رکھتی ہیں۔

والدین یا وسیع معنوں میں موجودہ نسل کا سب سے اہم فریضہ آنے والی نسل کے بہترین مستقبل کے لیے وراثت میں وسیع امکانات چھوڑنا ہے۔ یہاں حالت یہ ہے کہ بہترین مستقبل تو دور کی بات آنے والوں کے لیے زندگی کی بقا کے امکانات ہی خطرے سے دوچار ہیں۔ ہمارے پرکھوں نے وراثت میں جو زمین امانتاً ہمارے بزرگوں کے حوالے کی تھی وہ اب ویسی نہیں رہی جیسی کبھی پہلے تھی۔

اس زمین پر کبھی رنگارنگ پرندے چہچہاتے تھے ہم نے اپنے بچپن میں ایسے کئی پرندے دیکھے ہوں گے جو اب کہیں بھی نظر نہیں آتے، کچھ کے تو نام بھی اب ذہن سے محو ہو گئے، ۔ نیم کے پیڑ میں کھوہ کھودنے والے سبز طوطے اب خال خال نظر آتے ہیں۔ انسان نے پچھلی ایک صدی کے دوران ہوس زر کے ہاتھوں مجبور ہو کر زمین کا ماحول بگاڑ دیا جس کے نتیجے میں صرف سبز طوطے نہیں بلکہ بلکہ کئی زندگیاں صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔ اور اب تو بات خود حضرت انسان کی بقا تک پہنچ چکی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے زیر اثر موسمی تغیر انسان کے لیے خوراک کے سنگین مسائل پیدا کرنے کو پر تول ہی چکا ہے۔ جن زمینوں پر ہری بھری فصلیں لہراتی تھیں وہاں اب دھول اڑتی ہے بچھی کچھی زمینوں پر ہم بلند و بالا عمارتیں بنا کر ترقی کا بگل بجاتے ہیں جو چند ایک زرخیز زمینیں انسان کی دست درازی سے محفوظ رہتی ہیں انہیں سمندر ہڑپ کر لیتا ہے۔ اور سمندر تو بالواسطہ مورد الزام ٹھہرتا ہے درحقیقت یہ بھی انسان کی اندھی ہوس کا نتیجہ ہے جو وسائل کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے سوائے منافع کے اور کسی شے پر دھیان دینے کو تیار نہیں۔

زمین نامی سیارہ ہمارا واحد قیمتی اثاثہ ہے اور لفظ زمین استعاراتی طور پر جن جن معنوں میں برتا جاتا ہے وہ انسانی زندگی اور سماج کے اہم شعبوں کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہے۔ یوں تو زمین پر چار چار فٹ کے رقبے کے لیے بھائی بھائی کا قتل کرتا ہے، مقدمہ بازی میں لاکھوں لٹائے جاتے ہیں ججوں کو خریدا جاتا ہے اور وکیلوں کو تولا جاتا ہے۔ اس تمام اٹھک بیٹھک سے بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے زمین کے باسی زمین کے معاملے میں بہت حساس ہیں۔ یقیناً وہ حساس ہیں لیکن یہ حساسیت صرف انفرادی ملکیت تک محدود ہے۔ وہ زمین جس سے پوری نسل انسانی کا مفاد جڑا ہے اس سے کسی کو غرض نہیں، تقریباً ہر فرد بنی نوع انسان کی مشترکہ ملکیتی زمین کو نقصان پہنچا کر اپنے پیسے کھرے کرنا چاہتا ہے ایک ایکڑ جیسے معمولی رقبے پر موجود لہلہاتے درختوں کو کاٹتے ہوئے ایک عام انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس معمولی مقدار سے کیا فرق پڑے گا۔ لیکن جب چالیس کروڑ انسان ایسا سوچنے لگ جائیں تو ہر سال چالیس کروڑ ایکڑ کے جنگلات کا صفایا ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں اوسط درجہ حرارت میں ایک سینٹی گریڈ کا اضافہ گلیشیر کو پگھلا کر سیلاب کے ذریعے مزید زمینوں کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔

زمین کی یہ حالت گزشتہ تین نسلوں کی ”محنت“ کا نتیجہ ہے انہوں نے ہماری اس امانت کی کماحقہ حفاظت نہیں کی جو پرکھوں نے انہیں سونپی تھیں، اب ہماری نسل گزشتہ نسلوں کی کارستانیوں کے نتائج بھگتتے ہوئے دبے دبے لفظوں میں سوال کرتی ہے کہ آخر کیوں صحیح وقت پر صحیح فیصلے نہ کیے گئے۔ حالات یونہی بگڑتے رہے تو آنے والی نسلیں ہماری قبروں پر تھوکیں گی، اس لیے بہتری اسی میں ہے کہ ہم ابھی سے آئندہ نسل کی وراثت میں اچھی اور زرخیز زمین ممکن بنانے پر کمر باندھیں۔ زمین ہم سب کی ہے آنے والے بھی ہماری ہی اولادیں ہیں اس لیے اس کے مسائل بھی ہمارے ذاتی مسائل ہیں۔ وسائل کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے یہ عذر نہیں تراشا جا سکتا کہ یہ معاملات ریاستی اور تجارتی پالیسیوں سے جڑے ہیں، نہیں بالکل نہیں آٹھ ارب انسان بھی پانی کے استعمال میں اسراف سے پرہیز اور رہن سہن میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں سے ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں زمین کو لاحق خطرات میں ممکنہ حد تک کمی لا سکتے ہیں

Facebook Comments HS