فلم ”کلی جوٹا“ کیوں دیکھنی چاہیے


فلم کو سوشل ایشو یا سوشل ایشو کو فلم سے جوڑا جائے تو ایسی فلم کی کہانی سنی سنائی اور دیکھی دکھائی لگتی ہے لیکن اگر کہانی کہنے اور دکھانے کا انداز ڈرافٹ کی بجائے کرافٹ سے نکلا ہو تو پھر ایسی فلم آپ کو اس مسئلے پر بیٹھ کر کتھارسس کرنے اور اسے ڈسکس کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ فلم میڈیم میں ایسے ہی کتھارسس کو سینما کا اصل پرزم ”میڈیم آف رئیل ایکسپریشن“ یا ”حقیقی اظہار کا ذریعہ“ مانا جاتا ہے۔

3 فروری کو انڈیا میں ریلیز ہونے والی پنجابی فلم ”کلی جوٹا“ بھی ایک ایسی ہی فلم ہے جس کی کہانی ایک ایسے مسئلے کو بنیاد پر تخلیق کی گئی ہے جو دیکھا، دکھایا اور سنا، سنایا ہے لیکن جس طرح سے نوجوان لکھاری ہرندر کور نے اس کو لکھا، نیرو باجوہ نے نبھایا اور ستندر سرتاج نے گایا ہے۔ اس نے فلم ناظر کو ایسا جھنجھوڑا، ایسا گھمایا اور ایسا رلایا کہ فلم کہیں پیچھے رہ گئی اور ناظر رابعہ (نیرو باجوہ) اور دیدار (ستندر سرتاج) کا ہاتھ پکڑ کر کہیں آگے نکل گیا۔

فلم کی کہانی میں نوجوان وکیل آننت اپنی وکالت کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد اپنی فیورٹ اور ہر دلعزیز ٹیچر مس رابعہ سے ملنے اس کے گاؤں آئی ہے لیکن گاؤں میں مس رابعہ غائب ہے۔ رابعہ کو ڈھونڈے اور اس کے بارے میں پوچھنے پر ملنے والے جوابات اور تاثرات پر اسے رابعہ کے متعلق تجسس اور پریشانی میں ڈال دیتے ہیں۔ رابعہ غائب ہے لیکن کہاں غائب ہے کسی کو کچھ نہیں پتا اور نہ ہی کوئی اس پر بات کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہنستی کھیلتی رابعہ کہاں گئی۔ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ کہانی کس رخ گئی یہی اس فلم کا اصل کرافٹ ہے۔

اور یہیں سے کہانی بیک گئیر میں جاتی ہوئی فلیش بیک میں آجاتی ہے۔ جہاں فلم زندگی جینے والی، خوش رہنے والی اور خوشیاں بانٹنے والی رابعہ کے گرد گھومتی ہے جس کا یہ ماننا ہے کہ زندگی کے ہر پل کو محسوس کیا جائے اور اسے بھرپور جیا جائے اور دیدار وہ لڑکا ہے جسے دیکھ کر رابعہ کا یہ یقین اور بڑھتا ہے لیکن زندگی ان دونوں کے لیے دو الگ، الگ رستے چنتی ہے۔ رابعہ سرکاری نوکری میں ایک سکول ٹیچر بن کر آزاد، پروفیشنل لڑکی کی طرح کہانی کو آگے بڑھاتی ہے جبکہ دیدار شادی کے لیے کسی اور کا ہاتھ تھام کر خاموشی سے الگ رستے چل پڑتا ہے۔

لو سٹوری دی اینڈ لیکن یہ لو سٹوری صرف فلم کے فرسٹ ہاف کے لیے ہے۔ فلم کا دوسرا حصہ جذبات، احساسات، حادثات اور سماجیات سے اس گرد لپٹا ہوا ہے کہ ناظر فلم کا پہلا ہاف بھول جائے گا۔

سوشل ہراسمنٹ کیا ہے۔ پروفیشنل خواتین کو پیش آنے والے مسائل کا وجود کب سے ہے۔ آزاد خیال اور انڈیپنڈنٹ لڑکی ہر مرد کے لیے دوستی کا ایک کھلا دعوت نامہ کیسے ہے۔ ڈپریشن کی کون قسم میں عورت کا قتل معاف ہے۔ گھروں میں بیٹوں کے مقابلے میں بیٹی کے لیے لاڈ پیار کے مطلب کیوں بدل جاتے ہیں۔ معاشرتی اخلاقی اقدار کون اور کیوں تشکیل دیتا ہے۔ فلم ان تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے ایسے، ایسے موڑ سے گزرتی ہے کہ ہر درد دل انسان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

فلم کی رائٹر ہرندر کور کا ایک افسانہ میں پہلے پڑھ چکا ہوں اور ان کی لکھت کا مداح ہوں لیکن اس فلم کے بعد میرے لیے یہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے کہ ہرندر افسانہ اچھا لکھ لیتی ہیں یا اس افسانے کو فلم سکرپٹ میں ڈھال اچھا لیتی ہیں۔ میں ان کا بے حد معترف ہوں۔

نیرو باجوہ پچھلے 25 سالوں سے انڈین سینما میں اپنا بے شمار کام دکھا چکی ہیں اور ان کے کریڈٹ پر کئی کامیاب فلمز ہیں لیکن ”کلی جوٹا“ میں جو اداکاری نیرو نے دکھا دی ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے یہ رول لکھا ہی انہی کے لیے گیا تھا۔ میں چاہوں گا کہ وہ اگلے 25 سال بھی یونہی سکرین پر نظر آتی رہی کیونکہ ان کی اداکاری کی اٹھان اب انہیں ایک نئے سفر کی طرف لانے والی ہے۔

ستندر سرتاج نے صوفی میوزک میں ایم فل اور کلاسک میوزک میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ جو بول لکھتے ہیں اپنا علم نچوڑ کر لکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر بول کا جادو دل کے اس کونے کو چھوتا ہے جہاں سے دھڑکن نکلتی ہے۔

وامیکا گبی، پرنس کنول جیت، روپ روپیندر نے بھی جس طرح فلم میں اپنے، اپنے معاون کردار ادا کیے۔ اس نے اس فلم ریسپی کو لاجواب کر دیا اور خاص طور پر نکیتا گروور اس فلم اور انڈین پنجابی سینما کی ایک نئی کھوج ہے جو یقیناً آنے والے کئی سالوں تک اپنے کرداروں سے راج کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈائیلاگ، گانے، سیچویشن، ٹوئسٹ اور کرداروں کے بہترین تال میل آپ کو بتاتے ہیں کہ اصل انٹرٹینمنٹ کیا ہوتی ہے اور پیسہ وصول فلم کسے کہتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS