پاکستان میں کتنے فیصد غدار بستے ہیں؟

آج وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب نے ایک پریس کانفرنس طلب فرمائی۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ خطاب فرمایا۔ وہ بے تکان بولتے رہے۔ اور اتنا تیز تیز بول رہے تھے کہ بیچ میں سانس لینے کا موقع بھی نہیں مل رہا تھا۔ اس پریس کانفرنس کے شروع ہونے سے قبل یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کے لئے کوئی نسخہ تجویز فرمائیں گے لیکن انہوں نے شروع میں ہی واضح فرما دیا کہ اس کانفرنس کا مقصد عمران نیازی صاحب کو آئینہ دکھانا ہے۔ اس وقت عمران خان صاحب فارغ نہیں بیٹھے تھے۔ انہوں نے یہ بیان دیا کہ پاک آرمی کے سابق سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کا کورٹ مارشل کر دینا چاہیے۔
اس مقصد کے لئے کسی پریس کانفرنس بلانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ حکومت کسی کی بھی ہو، اس دوران جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے اس کی ذمہ دار گزشتہ حکومت ہوتی ہے۔ اور موجودہ حکومت گزشتہ حکومت کو آئینہ دکھاتی ہے۔ اس کے بعد جوتم پیزار کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ سلسلہ تو پہلے سے چل رہا تھا۔ اب ہم نے اور بھی ترقی کر لی ہے۔ بہت فراخدلی سے ایک دوسرے پر غداری کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ شاید ہی کوئی بد قسمت نمایاں سیاستدان ہو جو اس الزام کی زد سے محفوظ رہ گیا ہو۔ اور جو احباب اس الزام سے محفوظ رہ گئے ہیں، انہیں اپنی فکر کرنی چاہیے کہ ان کے مد مقابل انہیں غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کیوں کر رہے ہیں؟
پاکستان کے آئین کے تحت سب سے بڑے عہدے صدر مملکت اور وزیر اعظم کے ہوتے ہیں۔ جب موجودہ حکومت کا دور شروع ہوا تو چند ہی روز بعد یہ خبریں شائع ہونی شروع ہو گئیں کہ وزارت داخلہ اور وزارت قانون مل کر ایک ریفرنس تیار کر رہی ہیں جس کے تحت صدر مملکت عارف علوی صاحب، سابق وزیر اعظم عمران خان صاحب، ڈپٹی سپیکر قاسم سوری صاحب اور گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ صاحب پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ بنایا جائے گا۔ کیونکہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد اور حمزہ شہباز صاحب کے وزیر اعلیٰ بننے کی راہ میں روڑے اٹکائے تھے۔ (پاکستان ٹوڈے 29 اپریل 2022 )
جولائی 2022 آیا تو سینٹ میں سینیٹر افنان اللہ خان صاحب نے ایک قرارداد پیش کی جس میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی صدر عارف علوی صاحب اور قاسم سوری کے علاوہ سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری صاحب پر بھی آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کے مقدمہ کی کارروائی شروع کی جائے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ چونکہ اب صدر مملکت پر غداری کا الزام لگ گیا ہے، اس لئے اب یہی مناسب ہے کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ کر گھر چلے جائیں۔ (ڈیلی پاکستان 15 جولائی 2022) ۔ چونکہ پہلے تحریک انصاف کے راہنما یہ الزام اسی فراخدلی سے اپنے سیاسی مخالفین پر لگاتے رہے تھے، اس صورت حال میں 5 اپریل کو روزنامہ ڈان نے ایک اداریہ شائع کیا جس کا عنوان تھا ’غدار بمقابلہ غدار‘ ۔
یہ خیال نہ کریں کہ یہ الزام ڈپٹی سپیکر صاحب پر لگا تو سپیکر صاحب محفوظ رہ گئے ہوں گے۔ وہ اس سے بھی قبل اس الزام کی زد میں آ چکے تھے۔ جب انہوں نے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد مقررہ مدت میں قومی اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کیا تو اس وقت کی اپوزیشن نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب غداری کے مرتکب ہوئے ہیں چنانچہ انہیں آئین کے آٓرٹیکل 6 کے تحت سزا دینے چاہیے۔ (ایکسپریس ٹریبیون 20 مارچ 2022)۔ واضح رہے کہ 1973 میں بنائے گئے قانون کے مطابق سنگین غداری کی سزا عمر قید یا موت ہے۔
موجودہ حالات میں وزیر خزانہ کی ایک خاص اہمیت ہے۔ اس لئے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین صاحب کیسے بخشے جاتے؟ گزشتہ ماہ یہ خبر شائع ہوئی کہ ایف آئی اے لیک ہونے والی آڈیو کی بنیاد پر سابق وزیر خزانہ کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے پر کام کر رہی ہے۔ (دی نیوز 17 فروری 2023)
اب ایسا بھی نہیں کہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب بالکل ہی غیر اہم سمجھے گئے ہوں اور ان پر غداری کا الزام نہ لگا ہو۔ وہ 2014 میں ہی اس الزام سے فیض یاب ہو گئے تھے۔ چنانچہ اگست 2014 میں ایک شخص نے ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی کہ عمران خان صاحب اور شاہ محمود قریشی صاحب نے عدلیہ کے خلاف بیانات دیے ہیں چنانچہ ان کے خلاف غداری کے مقدمہ کی کارروائی کی جائے۔ (ٹریبیون 5 اگست 2014)
یہ سلسلہ صرف تحریک انصاف تک محدود نہیں۔ انہیں بھی جب موقع ملا انہوں نے بھی اپنے مخالفین پر دل کھول کر غداری کے فتوے لگائے۔ گزشتہ سال پنجاب اسمبلی میں یہ قرارداد منظور کی گئی کہ چونکہ وزیر اعظم شہباز شریف صاحب نے لندن میں اپنے بھائی نواز شریف صاحب کو ریاستی رازوں میں شریک کیا ہے، اس لئے ان پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ (ایکسپریس ٹریبیون 19 ستمبر 2022)۔ اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران عمران خان صاحب نے یہ بیان دیا تھا کہ ایجنسیوں کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ نواز شریف صاحب کے بھارت سے روابط ہیں اور انہوں نے نریندر مودی صاحب کے اکسانے پر ملک کی عسکری قیادت کے خلاف بیان دے کر سنگین غداری کی ہے۔ (ایکسپریس ٹریبیون 12 نومبر 2020) ۔ اسی طرح نیب نے یہ الزام لگایا تھا کہ مریم نواز صاحبہ قومی اداروں کے خلاف جس طرح کے بیانات دے رہی ہیں، وہ سنگین غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ (ایکسپریس ٹریبیون 17 مارچ 2021 )
پیپلز پارٹی کے قائدین پر بھی غداری کے الزامات لگتے رہے۔ چنانچہ ایک وکیل نے سابق صدر آصف علی زرداری صاحب پر لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ کر دیا تھا کہ وہ عسکری قیادت کے خلاف بیانات دے کر غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اور اس مقدمہ کی سماعت بھی ہوئی۔ (ایکسپریس ٹریبیون 18 نومبر 2016) اسی طرح پولیس نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی صاحب پر بھی یہ الزام لگایا گیا اور پولیس نے اس پر کارروائی بھی شروع کی۔ (گندھارا 6 اکتوبر 2020)
جب عمران خان صاحب نے اپنی توپوں کا رخ جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کی طرف کیا تو شاہد خاقان عباسی صاحب نے مشورہ دیا کہ وہ آرمی کے سابق سربراہ کے خلاف آئین کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ عدالت میں ان کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کر دیں۔ (پاکستان ٹوڈے 11 فروری 2023 )
اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ سابق صدر مشرف صاحب پربھی ایک ہائی کورٹ میں سنگین غداری کا مقدمہ چلایا گیا تھا اور انہیں سزائے موت بھی سنائی گئی تھی جو بعد میں منسوخ کر دی گئی۔
اس قسم کے الزامات صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں ہیں۔ 1973 میں پاکستان کا موجودہ آئین نافذ ہوا۔ اور 1974 میں آئین میں دوسری ترمیم کے ذریعہ آئین اور قانون کی اغراض کے لئے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ اس کے بعد سے اب تک بار بار مذہبی جماعتوں کی طرف سے یہ بیانات جاری کیے جاتے ہیں کہ چونکہ احمدیوں نے اس ترمیم کو قبول نہیں کیا، اس لئے وہ آئین کے غدار ہیں۔ اور کئی دہائیوں سے یہ بیانات ملک کے اخبارات میں شائع ہو رہے ہیں۔ اور اب غدار سازی کی صنعت نے اتنی ترقی کر لی ہے شاید ہی کوئی نمایاں شخصیت اس کی لپیٹ سے محفوظ رہی ہو۔
میری ناقص رائے میں اب اس بات کی ضرورت ہے کہ ہر اختلاف پر مدمقابل کو ہراساں اور پریشان کرنے کے لئے فوری طور پر سنگین غداری کا مجرم قرار دینے کی روایت کو سختی سے کچلنا ضروری ہے۔ اس صورت حال میں ہم دنیا بھر میں اپنا تماشا خود بنا رہے ہیں۔ اگر تمام خبروں کا کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو شاید یہی نتیجہ نکلے کہ یہ دنیا کا وہ واحد ملک جس کی اکثریت غداروں پر مشتمل ہے۔ اس روش سے عالمی منظر پر پاکستان کی کیا عزت افزائی ہو رہی ہے۔ اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔

