آئین یا موم کی ناک


چیف جسٹس آف پاکستان عطا محمد بندیال نے نوے دن میں الیکشن کرانے کے لئے ”سوموٹو“ لیا اور کہا کہ آئین پاکستان عدالت کے دروازہ پر دستک دے رہا ہے۔ جس سے یہ باور کرایا کہ دستک کا جواب دینے کے لیے ”سوموٹو“ لیا گیا۔ اس سے ایک سنجیدہ سوال ذہن پر دستک دینے لگا کہ اگر نوے دن میں الیکشن کی آئینی شق کی خلاف ورزی کے خطرے کو محسوس کر کے چیف جسٹس کو عدالت کے دروازے پر آئین کی دستک سنائی دی ہے تو اسی آئین کی اسلامی شقوں بشمول آرٹیکل 62۔ 63 اور آرٹیکل 31 ”جو ریاست کو اسلامی ماحول فراہم کرنے کا حکم دیتا ہے“ کی کھلی خلاف ورزیوں کی دستک بھی سنائی دینی چاہیے۔ عدالت کارکردگی کا حاصل مخصوص آئینی شقوں کی باز گشت، من مانے پینچ، اور پسند و ناپسند کے فیصلوں کی صورت میں ہی کیوں ہیں؟ اگر آئین کی دستک پر عدل گاہ میں ان آئینی اصولوں کو مدنظر رکھا جاتا جو ضمیر کے دروازے پر دستک دیتے ہیں توان فیصلوں کے نتیجے میں آئین کی پیشانی پر عرق انفعال (ندامت) کے قطرے نہ بہہ رہے ہوتے۔

پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلو توجہ طلب ہے کہ جو ملک آئینی ذرائع اور قانونی مباحث سے معرض وجود میں آیا، آزادی کے بعد مستقل آئینی بحران اس کا مقدر رہے۔ تئیس چوبیس سال یہ ملک سرزمین بے آئین رہا۔ نو برس 1935 ء کا انڈیا ایکٹ عبوری دستور رہا۔ 1956 ء میں پہلا آئین بنا، 1962 ءمیں دوسرا آئین ایوب خان نے بنایا، جسے 1969 ء میں خود ہی منسوخ کر دیا۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ، 1973 کا دستور بنا۔ ملک میں چار مرتبہ فوج نے آئینی نظام ختم یا معطل کیا۔ 1958 ء، 1969 ء اور 1977 ء کے فوجی شب خون، مارشل لاء، جبکہ 1999 ء کے فوجی شب خون چیف ایگزیکٹو کے نام سے مارا گیا۔ آئین نے چاروں بار دستک دی مگر ڈکٹیٹرز کو عدالت نے قانونی جواز فراہم کیا۔

آئین کے تحت مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے اپنے دائرہ ہائے کار ہیں۔ عدلیہ کا دائرہ کار اسے انتظامیہ اور مقننہ کے معاملات میں مستقل مداخلت سے روکتا ہے، البتہ انتظامیہ کے بعض اقدامات یقیناً زیر بحث آسکتے ہیں۔

دیکھا جائے تو ملک میں کئی بحران عدلیہ کے کردار اور داخلی مسائل کا نتیجہ رہے۔ ججوں کی بے ضابطہ تقرری، سینیارٹی اصول سے انحراف، چیف جسٹس کا صوابدیدی بنچ کی تشکیل کے اختیار کا بے دریغ استعمال، ججز کے باہمی اختلافات، کسی جج کا انتظامیہ کو یا انتظامیہ کی طرف سے اسے ہدف بنانا، جس کے اثرات پورے عدالتی نظام، عدلیہ اور انتظامیہ کے تعلقات پر پڑتا رہا۔ جسٹس سجاد علی شاہ، ثاقب نثار، آصف سعید کھوسہ کا بینظیر بھٹو، یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کی حکومتوں سے جھگڑا، اسی طرح افتخار چوہدری کو مشرف کی جانب سے ہدف بنایا جانا اس کی مثالیں ہیں۔

ماضی میں آئین مولوی تمیز الدین کی شکل میں عدلیہ کے دروازے پر دستک دینے آیا تو ”نظریہ ضرورت“ کا قفل لگا دیا گیا۔ 1977 ء میں ڈکٹیٹر کی یلغار ”انقلاب“ قرار پائی اور آئین سردخانے کی نذر ہوا۔ آئین بنانے والا پھانسی کا سزاوار ٹھہرا۔ 1999 ء میں نوکری سے نکالا جانے والا ملک پر قابض ہوا تو چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے ڈکٹیٹر کو مرضی کا آئین بنانے کی اجازت تھما دی۔ توہین عدالت توہین رسالت سے بھی بڑا جرم بنا دیا گیا۔ شواہد کی عدم موجودگی پر سسلین مافیا، گاڈفادر کے القابات اور ڈکشنری کے ذریعے پانامہ کو اقامہ بنا کر عدلیہ نے سیاست دانوں کو نا اہل، اور آئین شکن مشرف کو بری کیا۔

اسٹیبلشمنٹ کی منشاء کے مطابق جو فیصلے ہوئے

ان کے آئینی آڈٹ کی جو بنیاد فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم کے دو رکنی بنچ نے رکھی اور سیاست میں ملوث اہلکاروں کے خلاف حکومت کو کارروائی کے احکامات دیے۔ اسی وجہ سے شاید سپریم کورٹ میں موجود کچھ معزز آئینی شارحین اپنے مستقبل کے بارے میں خوف زدہ ہیں کہ آٹھ ماہ بعد اگر فائز عیسیٰ چیف جسٹس بنتے ہیں تو وہ انہیں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس ممکنہ احتسابی آڈٹ سے بچنے کا واحد راستہ انہیں جلد الیکشن اور کپتان کی دو تہائی اکثریت میں نظر آتا ہے۔ عمران خان کی اکثریت کے ذریعے جسٹس فائز عیسیٰ کو آئینی طور پر بے اختیار کر کے ہی اس ”آئینی آڈٹ“ سے بچا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس کو سیاستدانوں کی اسمبلی اکثریت پر اعتراض ہے تو چیف جسٹس کو بنچ کی تشکیل میں اکثریت اکثریت کھیلنے کا حق کیسے ملا۔ اب لوگ ججوں کے نام پڑھ کر پہلے سے ہی فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ اگر عدلیہ ملک کی قسمت بدلنا چاہتی ہے تو اسے اپنے لئے بھی اعلیٰ ترین معیار قائم کرنا چاہیے۔

چیف جسٹس ذاتی پسند یا نا پسند کی بجائے تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ بنا دیتے تو شکوک شبہات پیدا ہی نہ ہوتے۔ مخصوص ججوں کو آئین کی تشریح کے لیے مامور کرنا، کیا جوڈیشل انجینئیرنگ نہیں؟ چیف جسٹس کا سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کو ہمیشہ بنچ سے باہر رکھنا کون سا اختیار ہے جس پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ سینیارٹی پامال کر کے سپریم کورٹ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی تعیناتیوں میں آئین کی دستک سننے سے کیوں احتراز کیا گیا۔ پارٹی وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کے ووٹ شمار نہ کرنے کی اپنی تشریح کو آئین کی روح قرار دینے والے نون لیگ کی حکومت کا خاتمہ کرتے ہیں لیکن پرویز الٰہی کی باری آئی تو وہی تشریح الٹ دی گئی۔ کاش مفاداتی کھیل میں آئین کو موم کی ناک نہ بنایا جاتا تو آج ریاست کو جن بحرانوں کا سامنا ہے ان کی شدت ایسی نہ ہوتی

 

Facebook Comments HS