مذہبی اقلیتوں کی مذہبی تعلیم
پاکستان کے ”موجودہ حالات“ ہر دور میں مشکل دور سے ہی گزرتے رہے ہیں۔ آج کل بھی ہم معاشی طور پر شدید مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ معاشی مشکلات سے گزرتے ہوئے ایک معاملہ سوسائٹی کے ساتھ یہ بھی پیش آتا ہے کہ لوگ دیگر موضوعات پر اُس طرح سوچ بچار نہیں کر پاتے جس طرح کی جانی چاہیے۔
گزشتہ برس جب یہ اعلان ہوا کہ دسویں اور بارہویں جماعت میں مسلم طلباء کے لیے اسلامیات کے ساتھ ساتھ سو نمبر کا ایک اور مضمون شامل کیا جائے گا اور کل نمبر بارہ سو ہو جائیں گے۔ ہم نے یہ سوال کرنا شروع کیا تھا کہ سرکاری سکولوں میں پڑھتے اور بورڈ کے امتحانات دیتے مسیحی اور دیگر مذہبی عقائد سے تعلق رکھنے والے بچوں کا کیا ہو گا۔
پہلا جواب یہی آیا کہ وہ اخلاقیات پڑھیں گے۔ لیکن اخلاقیات تو اسلامیات کے متبادل مضمون ہے ( گو کہ اس پر ہمارے تحفظات ہیں ) لیکن اس نئے سو نمبر کے پرچے کا متبادل کیا ہو گا۔
”مذہبی تعلیم“ کا ایک مضمون بتلایا گیا۔ اب اس پر ہمارے سوالات ہیں۔
جو نوٹیفکیشن میری نظر سے گزرا وہاں اسلامیات کے متبادل مضمون ”مذہبی تعلیم“ بتایا گیا ہے اور ”اخلاقیات“ جو ہمیشہ سے اسلامیات کا متبادل تھا، اسے اس نئے مضمون کا متبادل لکھا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ ادل بدل کیوں کیا گیا ہے؟ دوسری بات مذہبی تعلیم کی یہ کتاب نہم کے بچوں کو ان کے سکول کتابوں کے ساتھ ملی نہیں۔ گیارہویں کے بچوں کو کسی دکان سے مل نہیں رہی، کوئی وینڈر اعلان نہیں کیا گیا۔ بنا پڑھے، سنے، سمجھے جب امتحان دیں گے تو ان کے نمبر کم نہیں آئیں گے کیا؟ رینکنگ کا کیا؟
اس سے علیحدہ سوال یہ ہے کہ اس مضمون کا مواد کہاں سے آئے گا، سمجھائے گا کون، امتحانی پیٹرن اور پریکٹس کا مواد کہاں سے ملے گا؟
یہ سب آپریشنل سوالات ہیں۔ اب میرا سوال مذہبی اقلیتوں کے عمائدین سے ہے؟ بھئی مسلمان احباب کو اپنے بچوں کے لیے ایک نیا مضمون برائے مذہبی تعلیم لاگو کرنا تھا انہوں نے کیا، آپ کی ایسی کون سی سی مجبوری تھی۔ آپ امتحانی پرسنٹیج پر اصرار کرتے ور اتنے ہی مضامین رکھتے؟ آپ جب ملک کے طول و عرض میں اپنے بچوں کو ہر سکول میں نہ کتاب پہنچا پائیں گے اور نہ استاد تو یہ کتاب پڑھانے کا تجربہ منفی ہو گا۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ اخلاقیات نے آپ کے بچوں کا کوئی فائدہ کیا ہے تو بتائیں۔
میں سادہ الفاظ میں بتا دیتا ہوں۔ جب اخلاقیات کی کتاب میں موسیٰ اور عیسیٰ کے بارے میں اسباق لکھے ہی اسلامی تناظر میں گئے ہیں تو آپ کے بچوں نے کیا فائدہ لیا۔ صرف یہ کہ اردو میں ہیں، عربی زبان سے دور بھاگے آپ، حالانکہ عربی بھی ایک زبان ہے باقیوں کی طرح، بہتر تھا وہ سیکھ لیتے۔
اب بھی، آپ مذہبی تعلیم کی جو مرضی کتاب لے آئیں، جب کلاس کی باقی تمام نو یا دس کتابیں آپ کے مذہبی نظریات و اقدار کی نفی کرتی ہوں گی، جب سکول کے اساتذہ اس کتاب کے مواد کی نفی کرتے نظر آئیں گے۔ تو آپ اپنے بچوں کو پہلے سے ہی مشکل معاشرے میں مزید نفسیاتی دباؤ اور ذہنی انتشار کا شکار خود کر لیں گے۔
میری دانست میں اگر اکثریت اپنے بچوں کے لیے مذہبی تعلیم چاہتی ہے، جتنی چاہتی ہے وہ کریں۔ مذہبی اقلیتوں کے لوگوں کو اس میں شامل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کی نفی کرنی چاہیے اور اپنے کمیونٹی کے ماحول میں رہ کر اپنے آئندہ نسلوں کو مذہبی آزادی کے ساتھ مذہبی تعلیم دینی چاہیے جس کا کوئی فائدہ بھی ہو۔
خدا پاکستان کا اور اس کے ہر مذہبی طبقے کا حامی و ناصر ہو۔


