موبائل فون صارف اور کارخانہ دار دونوں ماحولیاتی تباہی کے ذمہ دار
کیا آپ ہر چند ماہ یا ہر دو سالوں بعد اپنا موبائل فون بدل لینے کے عادی ہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ نیا نکور موبائل فون حاصل کرنے کی آپ کی یہ تڑپ کتنی ماحولیاتی تباہی کا باعث بن رہی ہے؟
آپ کے سمارٹ فون کی زندگی کا آغاز دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تنگ و تاریک حبس زدہ کانوں سے شروع ہوتا ہے، جہاں سے مختلف اہم معدنیات مثلا، جست، فولاد، سونا، تانبا، لیتھیم وغیرہ نکالی جاتی ہیں، پھر ان معدنیات کو صاف کر کے کارخانوں میں لایا جاتا ہے جہاں ان سے بیٹریاں، سرکٹ، لاجک بورڈ، وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ پھر ان سب کو موبائل فون کی شکل میں تیار شدہ حالت میں دکانوں تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے آپ انہیں خریدتے ہیں۔
ان سب آلات کو تیار کرنے کی قیمت ہمارا ماحول ادا کرتا ہے اور اس عمل میں تیزی و ابتری اس وجہ سے زیادہ آتی ہے کہ صارف کتنے عرصے میں اپنا خریدا گیا موبائل بیکار قرار دے کر نیا خریدتے ہیں۔ جب پرانے موبائل (اور دیگر برقی آلات بھی) بیکار قرار دے کر کوڑے کے ڈھیر میں پھینکے جاتے ہیں تو وہ ان زہریلے مادوں کا اخراج زمین میں کرتے ہیں۔ دراصل سمارٹ فون بظاہر اتنی چھوٹی چیز سمجھے جاتے ہیں کہ جب تک کسی فرد کو پوری تفصیل سے علم نہ ہو کہ ان میں استعمال ہونے والے مادے کہاں سے آتے ہیں اور یہ کیسے بنتے ہیں، کسی کو خیال ہی نہیں آتا کہ بظاہر یہ چھوٹا سا دکھنے والا آلہ ہمارے ماحولیات پر کتنے گہرے مضر اثرات مرتب کر رہا ہے۔
اس میں قصور خود صارفین اور موبائل (اور دیگر برقی آلات بنانے والے ) ساز اداروں، دونوں کا ہے۔ مثال کے طور پر دنیا کے بڑے موبائل ساز اداروں میں سے ایک، ایپل اپنے موبائل فون اس نظریے کے تحت بناتا ہے جسے ”پلینڈ اوبسولینس“ کہا جاتا ہے یعنی جان بوجھ کر ایسے فون بنائے جائیں کہ جن کو صارف ایک دو سال بعد تبدیل کرنے پر مجبور ہو۔ جیسا کہ کچھ مہینے پہلے ”کیپٹن امریکا“ کے کردار سے مشہور ہونے والے اداکار کرس ایونز نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے نئے آئی فون 12 میں ہوم بٹن نہیں ہے۔ جو کہ ان کے پچھلے ”آئی فون سکس ایس“ میں موجود تھا اور انہیں وہ فون اس لیے ترک کرنا پڑا کہ اس کی گنجائش بہت کم ہو گئی تھی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایپل نے کبھی اپنے آئی فون میں میموری کارڈ کی جگہ نہیں رکھی۔ بظاہر ایپل اس کی وجہ کارڈ فون سے نکالنے یا ڈالنے کے دوران گم ہو جانے کے خدشے کے پیش نظر صارف کی ”سیکیورٹی“ بتاتا ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ کیونکہ اگر کارڈ نکالنے یا ڈالنے کے دوران صارف کے ڈیٹا کے گم یا چوری ہو جانے کا امکان ہوتا ہے تو دوسری طرف اگر صارف اپنی اہم معلومات (جیسے تصاویر، پاس ورڈ والی ایپ) موبائل فون کی مستقل میموری میں رکھتا ہے تو مرمت کے لیے دینے کے دوران اگر دکان دار بد نیت ہو تو وہ صارف کی نجی معلومات چرا سکتا ہے یا اگر صارف استعمال شدہ فون فروخت کرنے کے لیے اپنی ذاتی معلومات فون کی مستقل یاداشت (میموری) سے مٹا بھی دیتا ہے تو تب بھی ایسے سافٹ وئیر موجود ہیں کہ جن کی مدد سے پچھلے صارف کی نجی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
اس کی بڑی مثال گلوکارہ رابی پیرزادہ کی نیم برہنہ تصاویر کا انٹرنیٹ پر پھیل جانا ہے جس کی وجہ یہ سامنے آئی تھی کہ انہوں نے اپنا فون مرمت کے لیے دیا تھا جہاں دکاندار نے ان کی یہ تصاویر حاصل کر لیں۔ اصل میں تو اس مسئلے کا سب سے بہتر حل یہی ہے کہ صارف اپنی ذاتی معلومات (جیسے تصاویر، ویڈیوز وغیرہ) صرف اور صرف میموری کارڈ میں رکھے اور جب فون مرمت کے لیے دے یا فروخت کرے تو اپنا کارڈ نکال کر اپنے پاس رکھ لے۔
یوں صارف کی ذاتی معلومات جب کبھی موبائل کی اپنی میموری میں نہیں آئیں گی تو کوئی انہیں کسی سافٹ وئیر کی مدد سے چراء بھی نہیں سکے گا۔ کچھ ایپل کے حامی اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ کارڈ کی جگہ نہ رکھنے سے دیگر خصوصیات شامل کرنے کے لیے سرکٹ کی جگہ بچ جاتی ہے لیکن یہ بھی سراسر جھوٹ ہی ہے کیونکہ دیگر اداروں کے وہ اعلی درجے کے فون جن میں کارڈ کی گنجائش ہوتی ہے، ان کی دیگر تمام سہولیات آئی فون کے برابر یا ملتی جلتی یا اس سے بہتر ہی ہوتی ہیں۔
بعض لوگ ایپل کی خوشامد میں حد سے بڑھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کارڈ کی جگہ رکھنے سے فون کو پانی داخل ہونے سے بچانے میں دشواری ہوتی ہے لیکن یہ کسی مہا جھوٹ سے کم نہیں ہے کیونکہ اگر کارڈ کی گنجائش رکھنے سے فون کا پانی سے بچاؤ نہیں کیا جا سکتا تو پھر تو سم کارڈ کی جگہ بھی نہیں رکھنی چاہیے تھی کیونکہ اس سے بھی فون مکمل واٹر پروف نہیں ہوتا ہے لیکن اگر سم کے لیے ایسی ٹرے رکھی جا سکتی ہے کہ جس میں ایک چھوٹا سا سوراخ بھی موجود ہوتا ہے جس سے پانی باآسانی اندر داخل ہو سکتا ہے تو میموری کارڈ کے لیے کیوں جگہ نہیں رکھی جا سکتی بلکہ اگر دونوں کے لیے ایک دوسرے کے آمنے سامنے جگہ رکھی جائے تو یہ اس پرانے لطیفے کی ماند ہو گا کہ اگر ایک طرف سے پانی داخل ہو گا تو دوسری طرف سے نکل بھی جائے گا۔
یہ عذر اس لیے بھی جھوٹ ہے کیونکہ ایسی سمیں سنہ 2007 سے ایجاد ہو چکی ہیں کہ جنھیں مستقلا فون میں نصب کر دیا جاتا ہے اور ان کے کوڈ سے موبائل کیریئر فون سے منسلک ہوتے ہیں۔ انہیں ”ای سم“ کہا جاتا ہے لیکن ایپل نے سنہ 2022 میں جا کر اپنے فون میں ای سم متعارف کرائی ہے تو اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ میموری کارڈ کی جگہ نہ رکھنے کا فون کو پانی سے پاک بنانے کے عذر سے بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔
میموری کارڈ نہ رکھنے کی اصل وجہ صارف کو مجبور کرنا ہے کہ وہ محض ڈیٹا کی گنجائش بڑھانے کی خاطر، بصورت دیگر ٹھیک ٹھاک چلنے والا فون تبدیل کرنے پر مجبور ہو سکے۔ ایپل جانتا ہے کہ ہر کوئی موسیقی، تصاویر اور نئی ایپ چاہتا ہے جو فون پر جگہ گھیرتی ہیں۔ اگر صارف سب سے زیادہ گنجائش کا حامل آئی فون بھی خریدے تب بھی ایک دو سالوں میں ہی اس سے دگنا گنجائش کے حامل فون بازار میں آ جاتے ہیں۔ یوں صارف کو اپنے فون میں صرف ایک میموری کارڈ لگانے سے اس کی گنجائش بڑھانے کی بجائے ٹھیک ٹھاک چلنے والے فون کو پھینک کر نیا فون لینا پڑتا ہے۔
کیونکہ ایپل صارف سے میموری کارڈ کی جگہ رکھنے کا سو ڈالر تو نہیں لے سکتا لیکن زیادہ گنجائش رکھنے پر اپنی من مرضی کی قیمت وصول کر سکتا ہے۔ جی ہاں! یہ صارف سے کتنا بڑا دھوکہ ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ آئی فون سکس (6) کے سولہ جی بی اور ایک سو اٹھائیس جی بی گنجائش کے حامل ماڈل کی قیمتوں کے درمیان دو سو ڈالرز کا فرق تھا۔
جبکہ یہ زیادہ میموری ایپل کو پچاس ڈالرز سے بھی کم کی پڑتی تھی۔ بلکہ تھوک کے حساب سے میموری چپس اور بھی زیادہ سستی پڑتی ہیں۔ حیرت اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ، صارفین اس کھلی بدمعاشی یا بلیک میلنگ پر ایپل کی مصنوعات سے اعلان برات کرتے تاکہ وہ اپنی یہ روش ترک کر دے، انہوں نے ایپل کے فون رکھنے کو امارت کی نشانی سمجھ کر خوب خریدنا شروع کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایپل اس وقت دنیا کی پہلی کھرب ڈالر میں اثاثے رکھنے والی کمپنی بن گئی ہے۔ ابھی چند ہی دن پہلے سنہ 2007 میں بننے والا ایک آئی فون تریسٹھ ہزار ڈالرز سے زائد پر فروخت ہو چکا ہے۔
اب جب ہر صارف سے اتنے بڑے پیمانے کی لوٹ مار کی جائے اور پھر بھی صارف اس پر شکایت کرنے یا بائیکاٹ کرنے کی بجائے اسی کی مصنوعہ خرید کر اسے امیر کرتے جائیں تو پھر دیگر اداروں نے اس روش کو اختیار کرنا ہی تھا نا۔ ایپل کے سواء باقی سب موبائل بنانے والے بڑے ادارے صارف کی سہولت اور آسانی کے لیے میموری کارڈ کی گنجائش رکھتے تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ اپنے صارفین کو اتنی اہم سہولت دیے بغیر ایپل دنیا کی پہلی کھرب ڈالر میں اثاثے رکھنے والا بن گیا ہے تو انہوں نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا ضروری سمجھا۔
اب وہ بھی اپنے مہنگے موبائلوں میں مستقل طور نصب ہونے والی بیٹری کہ جسے صارف خود سے نہ تبدیل کر سکے اور میموری کارڈ لگانے کی گنجائش ختم کر رہے ہیں۔ سام سنگ، شیاؤمی اور ٹیکنو جیسے اداروں نے اسی روش پر چلنا شروع کر دیا ہے اور اس کام کے لیے عجیب و غریب بہانے تراشے جا رہے ہیں کہ جن کی کوئی تک نہیں بنتی۔ مثلاً شیاؤمی کے نائب صدر ہیوگو بارا نے اس بارے میں کہا ”زیادہ اعلی قسم کے فون میں میموری کارڈ کی جگہ رکھنے کے ہم اصولی طور پر خلاف ہیں“ ۔
موصوف نے ایک جگہ اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ”آپ سوچتے ہیں کہ آپ کنگسٹن یا سین ڈسک کے میموری کارڈ خرید رہے ہیں لیکن وہ اصلی نہیں ہوتے۔ ویسے بھی میموری کارڈ انتہائی گھٹیا معیار کے ہوتے ہیں۔ یہ فون کی مرکزی میموری کے مقابلے میں سست رفتاری سے چلتے ہیں اور بعض اوقات کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ صارف کو بہت سی مشکلات کا شکار کرتے ہیں۔ ایپس ہر وقت کریش ہو جاتی ہیں۔ صارف کا ڈیٹا خراب ہوجاتا ہے اور وہ انہیں استعمال کرتے ہوئے پریشان ہو جاتے ہیں۔“ جبکہ گوگل ڈیزائن کے نائب صدر میتھائس ڈورٹے نے میوری کارڈ نہ رکھنے کی وجہ یوں بیان کی کہ یہ صارف کو ”الجھن“ کا شکار کر دیتے ہیں کہ اپنا ڈیٹا فون کی میموری میں محفوظ کریں یا میموری کارڈ میں۔
الفاظ کے اس ہیر پھیر پر افسوس کے سواء کیا کیا جا سکتا ہے کہ اصل میں یہ سب صارف کو مجبور کرنے کے بہانے ہیں۔ اب ذرا ان نام نہاد ”وجوہات“ کا تجزیہ کر لیں۔ ہم سبھی نے (سوائے ایپل صارفین کے ) میموری کارڈ استعمال کیے ہیں۔ اگر آپ واقعی اصلی کنگسٹن، سام سنگ یا سین ڈسک کا کارڈ لیتے ہیں (اور ایسی ایپس موجود ہیں جو اصل اور نقل کی نشاندہی کر دیتی ہیں۔ ) تو وہ بہت لمبے عرصے تک چل سکتے ہیں۔ اور جب ان کی گنجائیش کم پڑنے لگے تو آپ انہیں اپنے موبائل سے نکال کر کسی دوسرے آلے مثلاً کیمرے یا ایم پی تھری پلیئر یا ڈیٹا بیک اپ کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
مثلا ہم نے سنہ 2007 ء میں اس وقت کی سب سے زیادہ ایک جی بی کی گنجائش کا حامل سین ڈیسک کارڈ لیا تھا۔ تب سے اب تک کوئی سات آٹھ موبائل اور کئی ایم پی تھری پلیئر میں استعمال ہونے کے باوجود یہ اب تک چل رہا ہے۔ اب ہم اسے ایم پی تھری پلیئر پر جان بوجھ کر تھوڑے گانے سننے کے لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس سے نیا ڈالے جانے والا گانا جلد ہی چلنے لگتا ہے۔ بلکہ اب تو بازار میں کم گنجائش والے کارڈ زیادہ قیمت پر ملتے ہیں۔
رہ گئی یہ بات کہ کبھی کبھار کارڈ محفوظ شدہ معلومات (ڈیٹا) خراب (کرپٹ) کر دیتا ہے تو یہ کام تو موبائل کی مرکزی میموری بھی کرتی ہے۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو زیادہ تر صورتوں میں فون کو سوائے فیکٹری ری سیٹ کے، یا آپریٹنگ سسٹم کی روم دوبارہ نصب کرنے کے، اور کسی طریقے سے دوبارہ چلنے کے قابل نہیں بنایا جا سکتا۔ اور جب فون میں دوبارہ روم نصب کی جاتی ہے یا فیکٹری ری سیٹ کیا جاتا ہے تو صارف کے محفوظ کیے گئے موبائل نمبرز سے لے کر ہر چیز مٹ جاتی ہے۔
اگر تو صارف نے فون کے رک جانے سے کچھ لمحے پہلے انٹرنیٹ ڈرائیو پر بیک اپ بنا لیا تھا تو اسے اس کی محفوظ کی گئی معلومات واپس مل جاتی ہیں، ورنہ نہیں۔ اور بعض اوقات یہ ضروری نہیں کہ صارف ہر روز بیک اپ ضرور بنا کر محفوظ رکھے یا اس کے پاس ہر وقت انٹرنیٹ ڈیٹا موجود ہو کہ ہر لمحے نئی معلومات انٹرنیٹ ڈرائیو پر محفوظ ہوتی رہیں۔ اوراگر پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں بات کی جائے تو بجلی جاتے ہی موبائل انٹرنیٹ کا رابطہ بھی چند منٹوں میں کٹ جاتا ہے تو اس دوران صارف اگر کوئی نئی معلومات یا تصویر لیتا ہے تو وہ انٹرنیٹ پر فوراً محفوظ نہیں ہو سکتیں۔
جبکہ موبائل کسی بھی لمحے خراب ہو سکتا ہے۔ اگر تو صارف نے کچھ دن پہلے کسی فائل کا بیک اپ لیا تھا اور اس کے بعد اس میں کچھ مزید معلومات کا اضافہ کیا تھا اور وہ اضافہ انٹرنیٹ پر محفوظ نہیں ہو سکا تو وہ مزید اضافہ ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ دوسری طرف اگر موبائل میں میموری کارڈ کی گنجائش ہو تو فوراً ہی وہاں نئی ڈالی گئی معلومات کی ایک اضافی نقل محفوظ کی جا سکتی ہے۔ خدانخواستہ میموری کارڈ ڈاؤن لوڈنگ کے دوران یا ویسے ہی کرپٹ ہو جائے تو اسے نکال کر کمپیوٹر میں ”چیک ڈسک“ چلانے پر وہ ٹھیک ہوجاتا ہے اور ایسی صورت میں عام طور پر صرف ڈاؤن لوڈ ہونے والی فائل ہی خراب ہوتی ہے کہ جسے دوبارہ سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے اور باقی فائلیں ٹھیک ٹھاک موجود رہتی ہیں۔
لیکن فون کو ری سیٹ کرنے کی صورت میں سارے کی ساری محفوظ شدہ معلومات ہی چلی جاتی ہیں۔ رہ گیا میموری کارڈ رکھنے کی صورت میں دو ڈرائیو کا صارف کو ”الجھن“ کا شکار کر نے کا سوال تو پھر تو انٹرنیٹ ڈرائیو بھی شامل نہیں کرنی چاہیے کہ جب انٹرنیٹ ڈرائیو کو فون میں شامل کیا جاتا ہے تب بھی ایکسپلورر دو ڈرائیو دکھاتا ہے۔ لیکن انٹرنیٹ ڈرائیو تو ضرور شامل رکھی جاتی ہے کیونکہ اس سے کچھ مفت جگہ دے کر پھر مزید جگہ کے لیے صارف سے پیسے اینٹھنا ہوتے ہیں جیسے کہ ایپل کا آئی کلاؤڈ اور گوگل ڈرائیو وغیرہ۔
صارف کی ذرا سی نئی یا بہتر گنجائش کا فون آنے کا سن کر فوری طور پر نیا فون لینے کی خواہش پر قابو نہ رکھ پانا بھی ماحولیات کو نقصان پہنچا رہا یے۔ مثال کے طور پر فون پروسیسر اور ایس ڈی ڈیٹا گنجائش ہر دو سال کے عرصے بعد دوگنا ہو جاتی ہے لیکن صارف اتنی دیر تک انتظار نہیں کرتے اور ہر چند ماہ بعد تھوڑا سا بہت آنے پر نیا ماڈل خرید لیتے ہیں۔
لیکن صرف فون کی قیمت ادا کرنے کے قابل ہوجانا ہی سب کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس کی ماحولیاتی قیمت ہے جو سب کو ادا کرنا پڑتی ہے، اس پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے۔ بقول فیض ع لوٹ جاتی ہے نظر ادھر کو بھی کیا کیجیے


