مسلمانوں کی زبوں حالی کا نوحہ


ایک سچے اور آفاقی مذہب کے ماننے والے اکیسویں صدی میں بھی تنزلی کا شکار ہیں جب کہ اقوام عالم ترقی کی منازل طے کرتے آسمانوں پر کمندیں ڈال رہی ہیں لیکن مسلمانوں کی زبوں حالی و تنزلی میں کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ رب کائنات اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے خود اپنی حالت کے بدلنے کا خیال نہ ہو۔ ایک ایسے آفاقی مذہب کے ماننے والے جو دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں کو سرنگوں کرنے میں کامیاب ہوئے اور اپنے عروج و زوال کی داستانیں لکھ ڈالیں لیکن بد قسمتی سے بعد میں آنے والوں نے سب کچھ خاک میں ملا دیا۔

مسلمانوں کی زوال کی داستان جو پندرہ صدیاں قبل شروع ہوئی اپنے عروج کی داستانیں لکھنے کے بعد اپنے ہی ہاتھوں سے انحطاط کا شکار ہو گئی۔ مسلمان کسی دوسرے کو اس تنزلی کا مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ یہ گرہیں انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے لگائیں اور انہیں خود ہی کھولنی پڑیں گی۔ اس کی بنیادی وجہ اتفاق و اتحاد میں کمی، اخلاقی گراوٹ، دانشوری و سائنس میں عدم دلچسپی، منافق بازی، وعدے کی پاسداری نہ کرنا، دین میں نئی اختراع و من پسند کو اپنی زندگی میں لاگو کرنا، تجارت میں دھوکہ دہی، انصاف کا قتل عام، جھوٹی گواہی دینا، معاشرے کو صحیح بنیادوں پر استوار نہ کرنا، تعلیم میں فقدان، اشیاء میں گراوٹ و ناپ تول میں کمی، عوام کا استحصال، حقوق کی پامالی، میرٹ کا قتل عام اور سب سے بڑھ کر قرآن سے دوری ہے۔

مسلمان ایک آفاقی تہذیب جس میں ہر رنگ و نسل و خطے کے لوگ مساوی حقوق کی بنیادوں پر اپنے اقلیتوں کے ساتھ رواداری کا سبق دیتے اپنی ترقی کا علم سر بلند کیے رہے تو دنیا ان کے زیر نگیں رہی۔ محنت و مشقت جن کا خاصہ تھا، علمی ترقی، فنون لطیفہ، آرٹ، قرآن کی روشنی میں کائنات پر کمندیں ڈالنے والے ہمارے آباؤ اجداد تھے لیکن ہم کیا ہیں؟ ہم اقوام عالم میں کس جگہ کھڑے ہیں ہمارا کیا مقام ہے یہ سوال اہمیت کا حامل ہے۔

کیا ہم اسی طرح اسی مقام پر کھڑے رہتے ہوئے اپنی آئندہ نسلوں کی آبیاری کریں گے ذرا اس بارے میں سوچیں تو سہی۔ آج کا مسلمان اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ ہونے کے باوجود دنیا میں نفرت کا شکار ہے۔ ان کے پاس تقریباً 58 ملکوں کی ذرائع آمدن و معدنیات ہیں جو سب سے زیادہ ہیں لیکن پھر بھی انحطاط کا شکار ہیں۔ ان کی اپنی آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس (آئی او سی) ہے لیکن دنیا میں انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔

اگر مسلم ممالک کی ماضی کی دولت کا تقابل آج کے مسلم ممالک کی دولت سے لگایا جائے تو ماضی کی ریاستوں کی دولت آج کل کی دولت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں تو پھر کیا بات ہے کہ مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہی۔ ہم عمرے، حج، زکٰوۃ اور صدقات نہایت دلجمعی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ ہماری مساجد آباد ہوتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارا کردار اسلام کے سنہری اصولوں کی عکاسی نہیں کرتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم آزاد منش پنچھی ہیں جن پر نہ تو کوئی ذمہ داری کا بوجھ ہے اور نہ ہی فرائض ہیں جن کا اللہ تعالٰی کو جواب دہ ہونا ہے۔

ہم قرآن پاک کی تلاوت زور و شوق سے کرتے ہیں لیکن اس کے ترجمہ سے نابلد ہونے کی وجہ سے اس کے اصل پیغام کو دلوں پر منقش کرنے سے غافل ہیں جس کی بدولت ہم سے اپنا قیمتی تعلیمی زیور چھن گیا۔ دین اسلام کبھی بھی دوسرے علوم کو سیکھنے سے منع نہیں کرتا بلکہ تعلیم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلاتا ہے اور اس میں بھی توازن کا قائل ہے۔ صحابہ کرام نے قرآن کو اسی انداز سے اپنایا جیسے انہیں نبی اکرم و مکرم نے بتایا۔ ان کے بعد آنے والے جب تک اسی طرح اس پیغام پر عملدرآمد کرتے رہے تو کائنات کو ان کے تابع کر دیا گیا اور سائنسی تحقیق میں ستاروں پر کمندیں ڈالتے ہوئے دنیا کے رہبر بنا دیے گئے اسی لئے ان کے دور کو سنہری دور سے تشبیہ دی گئی۔

لیکن جب مسلمان تارک قرآن ہوئے تو انہیں پستیوں میں دھکیل دیا گیا۔ مسلمانوں کے پاس ممالک تو ہیں لیکن کیا وہ درحقیقت آزاد ہیں ان کے عوام کو اپنے ملک و معاشرے میں کامل آزادی حاصل ہے۔ کیا وجہ ہے کہ نمازیں ہماری کردار سازی نہیں کر رہیں۔ ہم صرف چند کلمات کی ادائیگی تک نماز و دین کو محدود کیے ہوئے ہیں۔ رہی سہی کسر اسلامی ممالک میں ملوکیت نظام نے نکال دی۔ جس نے معاشرے کو جکڑے رکھا اور قدغن لگائے رکھی جس سے معاشرے کی نشوونما نہ ہو سکی۔

کچھ درویش منش بادشاہ گزرے جنہوں نے اپنے ملک و قوم کے لئے کام کیا لیکن وہ نتائج برآمد نہ ہو سکے جن کی بنیاد پر ترقی کا دور استوار کیا جاتا۔ آٹھویں تا چودہویں صدی تک کا دور مسلمانوں کا سنہری دور رہا جس میں ہر طرح کی ترقی دیکھنے کو ملی لیکن بعد میں نا اہلی نے کام دکھایا اور سب کچھ آہستہ آہستہ برباد ہوتا چلا گیا اور مغربی دنیا نے اپنے آپ کو منظم کرتے، اختلافات کو مٹاتے، عوام کی بھلائی کا سوچتے ہوئے ترقی کی ایسی مثالیں قائم کر دیں کہ گزشتہ تین صدیوں میں ان کا مقابلہ مسلمانوں کے بس کی بات نہیں رہی۔

ہمارے آبا و اجداد کردار کے غازی تھے اور ہم گفتار کے غازی بن گئے اور اسی پر اتراتے رہے جبکہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ ایک چھوٹا ملک اسرائیل پوری دنیا میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہے اس کی دنیابھر میں بیس انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنیاں پہلے نمبر پر ہیں۔ سائبر سیکورٹی میں اسرائیل پہلے نمبر پر، چین دوسرے نمبر پر اور امریکہ تیسرے نمبر پر جب کہ اس فہرست میں ایک بھی مسلمان ملک شامل نہیں اور نہ ہی کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں ان کا کوئی نمایاں نمبر ہے۔

مسلمان ملکوں میں سالانہ پیداوار اور فراہم کی جانے والی خدمات کی کل مالیت جسے عرف عام میں (جی ڈی پی) کہا جاتا ہے کسی کھاتے میں نہیں۔ دنیا میں سب بڑی جی ڈی پی اکانومی 1921 ء کے مطابق امریکہ کی ہے جس کی مالیت تئیس اعشاریہ بتیس فیصد جب کہ چین دوسرے نمبر پر تقریباً اٹھارہ اعشاریہ کے ساتھ ہے۔ چین اب اس دوڑ میں امریکہ سے آگے نکل رہا ہے۔ جب کہ اسلامی ممالک کی جی ڈی پی پانچ اعشاریہ سات ٹریلین امریکی ڈالرز دو ہزار تیرہ میں تھی تمام دنیا کے ممالک کی جی ڈی پی 96.51 فیصد امریکی ڈالرز 2021 ء میں تھی۔

دنیا ہماری دولت استعمال کرتی ہے اور ہمیں ہی آنکھیں دکھائی جاتی ہیں۔ اس میں اپنوں کا ہی قصور ہے۔ ہم نے جدت، اختراع و ایجادات کا سہارا نہیں لیا اور نہ ہی دنیا میں اپنی قیادت کا سکہ قائم رکھ سکے تو پستیاں ہمارا مقدر بن گئیں۔ ذلت و رسوائی کا داغ ہمارے ماتھے پر سجا دیا گیا۔ ہر چھوٹی خطاء ہمارے گلے پڑ جاتی ہے یا ڈال دی جاتی ہے لیکن ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اب وقت آ گیا ہے ہم اپنی تشکیل نو کرتے ہوئے اک نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کا کام دلجمعی سے کریں۔

جن ممالک نے بھی اپنے نظام مملکت میں تین بنیادی اصولوں کو اپنایا وہ ترقی کر گئے۔ پہلا اصول کسی بھی عہدے کے لئے بہترین انسان کا انتخاب، دوسرا اصول عملیت پسندی یعنی کسی بھی مسئلے کے حل اور تدارک کے لئے راہ متعین کرنا جو اس کو حل کر نے میں مدد دے اور تیسرا اصول دیانتداری یعنی دیانتداری سے ہر کام کی انجام دہی۔ ہم میں ہر ایک ایمانداری سے اپنے حصے کا کام کرے تو معاشرے کی تشکیل نو شروع ہو جائے۔ ان اصولوں کو پیمانہ بناتے ہوئے ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے ہم تینوں اصولوں میں ناکام نظر آتے ہیں۔

ہم تمام عہدوں کو دیکھ لیں تو ہمارے مملکت میں اکثریت عہدوں پر وہ لوگ براجمان ہوتے ہیں جن کی کسی سے رشتہ داری یا وہ غیر قانونی طریقے سے وہ عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہوتے ہیں وہ اس منصب کے اہل نہیں ہوتے۔ دوسری جانب ہماری قیادت مسئلوں کو حل کرنے یا ان کے تدارک کی صلاحیتوں سے عاری نظر آتی ہے ہم انا پسند قوم ہیں اور دیانتداری تو ہمارے پاس سے نہیں گزری۔ اب ہمیں ہر سطح پر ایمانداری کی ساتھ ملکی، معاشرتی، اقتصادی و تجارتی معاملات کو نبھانا ہو گا۔ معاشرتی برائیوں کا قلع و قمع کرنا ہو گا اور ایک نئے جذبے کے ساتھ اٹھنا ہو گا۔ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن میں حالات سے لڑنے کا جذبہ ہو۔

Facebook Comments HS