کیا آپ کا شوہر آپ کو مارتا پیٹتا ہے؟


ایک ادبی دوست کا خط
محترم دوست خالد سہیل صاحب
السلام علیکم

بہت دنوں کے بعد آپ سے رابطہ کر رہی ہوں۔ مصروفیت ہی کچھ اس طرح کی رہی۔ سر! ایک مسئلہ سامنے آ گیا ہے اس میں آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے پلیز جواب ضرور دیجئے گا۔

بات یہ ہے کہ پچھلے سال میری ایک دوست نے لو میرج کیا تھا۔ لو اس نے کیا تھا میرج گھر والوں نے بڑی دھوم دھام سے کیا تھا۔ شادی کے ایک مہینے کے بعد ہی اس کا محبوب جو کہ اب اس کا شوہر بن چکا تھا اس پر ذہنی اور جسمانی تشدد کرنے لگا۔ وہ لڑکی جتنا برداشت کر سکتی تھی کرتی رہی مگر جب لڑکے نے اس کی گردن دبائی اور اس کا دم گھٹنے لگا تووہ کسی طرح گھر سے بھاگ گئی۔ لڑکے کا بیک گراؤنڈ کچھ ایسا ہے جہاں عورتوں پر تشدد کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی۔

ظاہر ہے جس بچے کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی ہو اس سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔ ہم لوگوں کو اس کے فیملی بیک گراؤنڈ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ لڑکا ایک نامور یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہے اور لڑکی بھی ( دونوں کلاس میٹ ہیں اور ٹاپر بھی ہیں ) لڑکے کی ایجوکیشن کی وجہ سے کسی کا ذہن ادھر گیا ہی نہیں کہ اس کا فیملی بیک گراؤنڈ دیکھ لیا جائے اور اگر دیکھ بھی لیتے تو بھی کیا ہو جاتا۔ لڑکا ایجوکیٹڈ تھا تو لگا کہ روشن خیال ہو گا۔

یہ بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی کہ شادی سے پہلے بھی وہ لڑکا اس کے اوپر شک کرتا تھا۔ اگر لڑکی اپنے کسی دوسرے کلاس میٹ سے بات کر لیتی تو اس کو برا بھلا کہتا تھا۔ لڑکی کا بیک گراؤنڈ اس طرح کا ہے کہ وہاں پر مرد عورت دونوں برابر سمجھے جاتے ہیں ایک دوسرے کا احترام کیا جاتا ہے تشدد تو دور کی بات اس نے کبھی تیز آواز بھی نہیں سنی ہوگی نہ ہی گالی گلوج سنا ہے اور اب اس کا شوہر بات بات پر اس کو گالی دیتا ہے۔ لڑکے کی کچھ خصوصیات لکھ رہی ہوں۔

*لڑکی کو اس کے دوستوں سے ملنے اور بات نہ کرنے دینا
*فون چیک کرنا
*کسی بھی میسج کے جواب کے لیے اجازت لینا
*رات کو سوتے میں بال کھینچ کر اٹھانا اور گالی گلوچ کرنا
*جب تک لڑکی روئے نہ تب تک تشدد کرنا اور جب رونے لگتی ہے تو چین کی نیند سو جاتا ہے
ایسا لگتا ہے کہ اس کو تکلیف پہونچا کر سکون ملتا ہے۔

*شوہر مجازی خدا ہوتا ہے۔ اس سوچ کا مالک ہونا
*اپنی کسی بھی غلطی کو نہ ماننا
*لالچی بھی لگ رہا ہے۔

وہ اس طرح کہ دونوں کو اسکالرشپ ملتی ہے جب سے لڑکی کو اسکالر شپ ملنے لگی تھی تب سے اس پر شادی کا دباؤ بنا رہا تھا اور شادی کے بعد اس کا اور اپنا پیسہ ملا کر لڑکے نے دہلی میں اپنے نام فلیٹ خرید لیا اور نامینی بھی اس کو نہ بنا کر اپنے دوست کو بنایا ہے۔

لڑکی اپنا ہی پیسہ اس سے پوچھے بغیر خرچ نہیں کر سکتی۔
باتیں بہت ساری ہیں سر کہاں تک کوئی بتائے۔ بس آپ مجھے یہ بتائیں کہ ایسے ہمسفر کے ساتھ زندگی گزاری جا سکتی ہے؟

*تشدد کے بعد کبھی بھی لڑکے کو افسوس نہیں ہوتا ہے۔
*لڑکی اس کے ساتھ نہیں رہنے کو کہہ رہی ہے۔
میرا بھی ماننا ہے کہ جس رشتے میں عزت نہ ہو اس کا ختم ہو جانا ہی بہتر ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب کے انتظار میں
حامدہ بخاری
۔ ۔ ۔

ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب
۔ ۔
حامدہ بخاری صاحبہ!
مجھ سے مشورہ کرنے کا شکریہ۔
آپ کا خط پڑھ کر میں دکھی ہو گیا۔

میری نگاہ میں ایسا شوہر جو نہ تو اپنی بیوی کی عزت کرتا ہے نہ ہی اس سے احترام سے پیش آتا ہے۔ بلکہ اس کی تذلیل و تحقیر کرتا ہے اور اسے زدو کوب بھی کرتا ہے وہ ذہنی مریض ہے اسے ایک ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے۔

اس کہانی میں سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اسے احساس ہی نہیں کہ وہ کوئی غلط بات کر رہا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

یہ ایک بد قسمتی کی بات ہے کہ نجانے کتنے مرد جن کے پاس کالج اور یونیورسٹی کی ڈگریاں ہیں روشن خیال ہونے کی بجائے ذہنی طور پر ماضی کے کسی تاریک دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو مالک اور اپنی بیوی کو کنیز سمجھتے ہیں۔ ایسے مردوں کی شخصیت مسخ ہو چکی ہے۔

حامدہ بخاری صاحبہ!

میں آپ سے متفق ہوں کہ ایسی شادی کو ختم ہو جانا چاہیے اور بیگم کو علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے طلاق لے لینی چاہیے تا کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ ایک اچھی نوکری کر سکیں گی اور ایک با عزت زندگی گزار سکیں گی۔

اگر وہ محسوس کرتی ہیں کہ وہ تھک چکی ہیں یا ہمت ہار چکی ہیں تو انہیں بھی ایک ماہر نفسیات سے مشورہ کرنا چاہیے جو ان کی مدد کرے اور ان کے عزت نفس کو بڑھاوا دے اور انہیں ان سنگین حالات سے نکلنے میں مدد کرے۔

ہندوستان میں عورتوں کے ایسے ادارے بھی ہوں گے جو ایسی عورتوں کی نفسیاتی ’معاشی اور سماجی مدد کرتے ہوں گے وہ ان سے بھی رجوع کر سکتی ہیں۔

کینیڈا میں تو عورتوں کے ایسے شیلٹر ہیں جہاں عورتیں کچھ عرصہ رہ سکتی ہیں۔ وہاں نہ صرف ان کی جذباتی و معاشی مدد کی جاتی ہے بلکہ انہیں شوہر سے محفوظ بھی رکھا جاتا ہے۔

کینیڈا میں عورت پر جب شوہر تشدد کرتا ہے تو وہ 911 ڈائل کر کے پولیس کو کال کرتی ہے پولیس شوہر کو ہتھکڑیاں لگا کر لے جاتی ہے اور اگلے دن عدالت میں جج کے سامنے پیش کرتی ہے اور جج حکم دیتا ہے کہ وہ شوہر ماہر نفسیات سے مدد لے ورنہ اسے جیل میں بھیج دیا جاتا ہے۔

شوہر کا بیوی کو زدو کوب کرنا بیوی کے خلاف ہی نہیں کینیڈا کی ریاست کے خلاف بھی جرم سمجھا جاتا ہے اور اگر عورت اسے معاف بھی کر دے تو ریاست اسے معاف نہیں کرتی۔ کسی بھی بیوی یا عورت پر ظلم کرنا اور مارنا پیٹنا اخلاقی جرم ہی نہیں قانونی طور پر بھی سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔

آپ میرا خط اپنی دوست کو دکھا سکتی ہیں اور اگر وہ چاہیں تو فون پر مجھ سے بات بھی کر سکتی ہیں۔

مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ آپ کی دوست نے اجازت دی کہ نام بدل کر ہم آپ کا اور میرا خط چھپوا سکتے ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔ خاص طور پر اس ہفتے جب عورتوں کی آزادی و خودمختاری اور ان کے انسانی حقوق پر ساری دنیا میں تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔

آپ کو خط لکھتے ہوئے مجھے اپنی ایک پرانی نظم یاد آ گئی جو حسب حال ہے اس لیے پیش خدمت ہے
سوال
نہ جانے کتنے برسوں سے یہ دل کہتا رہا میرا
مرا شوہر، مرا مالک، مجازی تو خدا میرا
ترے ہر کام پر ہر بات پر میں ناز کرتی تھی
تری قربت میں جیتی تھی تری فرقت میں مرتی تھی
تو میری زندگی کے آسماں کا اک ستارا تھا
مری تنہائیوں کا درد و غم کا اک سہارا تھا

مگر پھر رفتہ رفتہ دل پہ کچھ مایوسیاں چھائیں
مرے انداز میری سوچ میں تبدیلیاں آئیں
مری ہر سوچ ہر اک فکر اب یہ مجھ سے کہتی ہے
تری عزت تری عظمت مری سب خود فریبی ہے
حقیقت وہ نہیں جس کو حقیقت میں سمجھتی تھی
سرابوں کو سمندر ہی نجانے کب سے کہتی تھی

مری بے عزتی کر کے تو کتنا فخر کرتا ہے
مجھے بے عقل، نا قص اور کیا کیا تو سمجھتا ہے
ترے افکار سے فرعونیت کی بو بھی آتی ہے
مری شرم و حیا اب خون کے آنسو بہاتی ہے
جو میرے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہے دیکھو
جو میرے دل کی باتیں ہیں تحمل سے ذرا سن لو
جو تیرے قلب کی گہرائیوں میں ہے سنا مجھ کو
اگر تو مرد ہے تو آج سچ سچ یہ بتا مجھ کو
تری بیوی ہوں محبوبہ ہوں یا میں نوکرانی ہوں
ترے بچوں کی آیا ہوں کہ تیرے دل کی رانی ہوں
آپ کا ادبی دوست
خالد سہیل

۔ ۔ ۔
ترے کل کا سہارا ہوں یا ماضی کی سزا ہوں میں
شریک زندگی ہوں یا کہ تیری داشتہ ہوں میں
۔ ۔ ۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail