محبت کا جذبہ اور مرضی


گزشتہ دنوں میں کچھ ایسے واقعات و خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ حیرانی، پریشانی اور بیک وقت خوشی کے بھی جذبات تھے۔

وائس آف امریکہ کی خبر کے مطابق شہر حیدرآباد سے ایک ٹین ایج بچی کراچی آئی، پھر دبئی پہنچی اور وہاں سے نیپال، جہاں وہ انٹرنیٹ گیم لڈو پر ملنے والے اپنے دوست سے ملی اور پھر وہ دونوں پڑوسی ملک انڈیا کے ایک شہر پہنچے اور شادی کر کے رہنے لگے۔

لڑکے کے والدین کو شاید اعتراض نہ تھا، لیکن بچی کے والد نے بچی کو ڈھونڈ نکالا اور بچی دونوں ممالک کی پولیس اور سفارتی تعاون کے ذریعے واپس حیدر آباد اپنے گھر پہنچ چکی ہے۔

اس سے پہلے میڈیا پر ٹین ایج بچی دعا زہرا کا کیس مہینوں بریکنگ نیوز بنا رہا اور دعا زہرا بھی آخرکار گھر پہنچ گئی۔
دونوں کیسز میں دونوں ملکوں کی پولیس اور میڈیا کا موازنہ کیا جائے تو انڈیا کی پولیس اور میڈیا کو بہتر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے پایا۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ دونوں بچیوں کے والد ان کی بازیابی کے لئے جد و جہد کرتے رہے لیکن میں یہ بھی سوچ رہی تھی کہ کاش یہ توجہ یہ محبت بہت پہلے جتائی جاتی تو شاید بچیاں گھروں سے قدم نہ نکالتیں۔

دنیا بھر میں یہ نئی بات نہیں ہے کہ بچے اور بچیاں گھروں سے بھاگ جاتے ہیں، حالات سے فرار چاہتے ہیں، لیکن مہذب ممالک میں مسائل کا حل ڈھونڈا جاتا ہے اور اس حل کو سماجی و قانونی طور سے شعوری طور سے نافذ کیا جاتا ہے۔

مہذب اقوام کے لوگ اپنے اساتذہ اور دانشور حضرات کی رائے مقدم جانتے ہیں اور اسی کے مطابق سماجی اصول مرتب کیے جاتے ہیں لیکن ہمارے یہاں اتنے گروہی بیانیے بنا دیے جاتے ہیں کہ مسئلے کا چوں چوں کا مربہ بن جاتا ہے۔

ہمارے یہاں بدقسمتی سے کہا تو جاتا ہے، کہ ہمارا دین ”ضابطہ حیات“ ہے لیکن اس ضابطہ حیات کو انسانی زندگی پر نافذ کرنے کی بہترین کوشش نہیں کی جاتی۔

گھروں سے نہ بھاگنے کا حل بس ایک ہی دیا جاتا ہے، کہ شادی کر دی جائے، جلدی شادی کے نتیجے میں ہی ایسے بچے پرورش پاتے ہیں جو گھر سے فرار چاہتے ہیں چاہے یہ فرار کسی بھی صورت میں ہو۔ دین میں جلد نکاح کا حکم ہے لیکن یہ تو کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ نکاح کے فوراً بعد بچے ہی پیدا کرتے رہو اور مسائل کا انبار بناؤ۔

یہودیت اور عیسائیت کے بعد اسلام بہت موڈیفائڈ صورت میں سامنے آتا ہے، جب ہم کہتے ہیں کہ دین میں ہر مسئلے کا حل ہے تو ہم اجتہاد کی راہ سے غافل کیوں ہو گئے، کیوں ہم مسائل کا حل سامنے نہیں لے آ کر آتے۔

کہتے ہیں پردہ کرو، لیکن باپردہ بچیاں بھی گھروں سے بھاگتی ہیں، کہتے ہیں پیسہ تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ لیکن پیسے والی بچیاں بھی گھر سے بھاگ جاتی ہیں۔

کچھ کہتے ہیں غربت فساد کی جڑ ہے، لیکن غریب کی بیٹی اور بیٹا بھی بھاگ کر پسند کی شادی کر رہے ہیں۔
نوجوانوں کا سارا زور صرف شادی پر ہے، ایسا کیوں ہے؟
پہلی وجہ فطری ہے نوعمری کے جذبات ہیں۔ ان جذبات کے آگے بند باندھنا بہت مشکل ہے۔

جب ہم ٹین ایج میں تھے تو ہم کو یہ کہہ کر ڈرایا گیا، کہ خبردار کسی کو ہاتھ بھی نہ لگانے دینا، حمل ہو جاتا ہے۔

آج کل کے بچوں کو یہ کہہ کر ڈرایا نہیں جا سکتا، اب دنیا اتنی بدل گئی ہے کہ سب کچھ ایک ٹچ پر دستیاب ہے، ایسے میں نوجوانوں کو روکنا بہت مشکل ہے۔

آخر ہم سیکس ایجوکیشن کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟
جب کہ دین میں حکم ہے کہ سات برس کے بچے کی خوابگاہ الگ کر دو۔

کیا ہم بچوں کو الگ خوابگاہ اور پرائیویسی کے اصول و ضوابط بتاتے ہیں؟ کیا ہم بچوں کو عزیز اقارب سے ملنے کے اطوار سکھاتے ہیں؟

جب کہا جاتا ہے کہ کم بچے پیدا کیے جائیں تو اکثریت برا مانتی ہے حالانکہ کم بچے ہوں گے تو بچوں کو والدین کی بھرپور توجہ ملے گی۔

یہ بہت بنیادی اصول ہے لیکن ہمارے یہاں اکثریت اس نکتے کو نظر انداز کرتی ہے، کیونکہ اکثریت کی شادیاں پختہ عمر میں نہیں ہوتیں ہیں، جب والدین خود ہی نا پختہ سوچ کے مالک ہوں گے تو بچوں کو کیسے پروان چڑھائیں گے۔

ایک نئے انسان کو دنیا میں لانا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، والدین کو اس ذمہ داری کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب بچے ٹین ایج میں پہنچ جائیں تو ان کو محبت اور جنس کے جذبات سے مکمل آگاہی دی جائے، ان کے دوستوں کی کمپنی پر نہ محسوس انداز میں نظر رکھی جائے، انٹر نیٹ اور اسمارٹ فون صرف رشتہ ڈھونڈنے یا فلمیں دیکھنے، گیمز کھیلنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ اس کے ذریعے ٹین ایجرز کو مختلف اقسام کے ہنر سیکھنے کے لئے بروئے کار لانے پر توجہ دی جائے۔

انسٹاگرام پر نو عمر بچیوں کے لئے سلائی، کڑھائی اور نٹنگ جیسے گھریلو امور سکھانے کے لئے بین الاقوامی بلاگرز خواتین کوشاں ہیں اور یہ اسی لئے ہے کہ بچیاں تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف رہیں، ہمارے یہاں یہ ہنر گھریلو طور سے ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔

دور جدید میں میک اپ میں مہارت حاصل کرنا بھی ایک ہنر ہے لیکن ہمارے یہاں ابھی بھی یہ کہا جاتا ہے ہم تو میک اپ کا شوق نہیں ہے، ہم تو میک اپ نہیں کرتے ہم تو مصنوعی پن نہیں کرتے، الاں فلاں

حالانکہ اسی میک اپ کے ہنر کی وجہ سے پانچ بین الاقوامی میک اپ کمپنیاں ڈیڑھ سو برس سے قائم ہیں اور دنیا بھر میں خواتین گھر سے باہر بھی اور انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے بھی روزگار فراہم کیا ہوا ہے۔

بچیاں گھروں سے نہ بھاگیں اس کا سادہ سا حل یہی ہے کہ ان کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ کسی تخلیقی سرگرمی میں مصروف کر دیا جائے ۔

مذکورہ کیسز میں بچیاں گھروں میں توجہ کی کمی اور فارغ وقت کی فراوانی میں زندگی گزار رہی تھیں اس لیے انٹرنیٹ پر گیم کھیلتے کھیلتے وہ اپنے ہی جیسے نا سمجھ ٹین ایج کی باتوں میں آ کر گھروں سے نکل گئیں، اور دوسرے شہر اور دوسرے ملک تک پہنچ گئیں۔

محبت کا یہ جذبہ دونوں اصناف میں فطری ہے لیکن ہم نے دیکھا کہ انٹرنیٹ پر اکثریت نے لڑکیوں کے بارے میں ہی بد اخلاقی پر مبنی کمنٹس لکھے، حالانکہ لڑکا بھی برابر کا قصور وار ہے، یعنی مرد محبت کرے، لڑکی کو گھر سے بھگائے تو اس کو کچھ نہیں کہنا، لڑکی کو ہی لعن طعن کرنی ہے۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے سماج میں مرد کو ہی تربیت کی زیادہ ضرورت ہے، اس لیے مرد حضرات خواتین کو اخلاقی درس دینے کے بجائے خود پر توجہ مرکوز رکھیں تو بہتر ہو گا، کیونکہ ہر عورت آپ کی ملکیت نہیں ہے جو آپ اس کو بتائیں کہ یہ کرو وہ نہ کرو۔

مستقبل میں ایسے کیس سامنے نہ آئیں اس کے لئے بہترین حل یہی ہے کہ نوجوانوں کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر مختلف ہنر مند تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے تا کہ معاشرے کے بنیادی یونٹ گھر میں بھی خوشحالی ہو اور ہماری معیشت بھی ترقی کرے۔

Facebook Comments HS