نیکی و بدی، سچ و جھوٹ میں فرق شاید بھول چکے ہیں
نیکی اور بدی، سچ اور جھوٹ کا تعلق انسانی نفس کی جبلتوں سے جڑا ہے۔ اگر ان صفات کی پہچان نہ ہو سکے تو پھر انسان کی اپنی پہچان ہی مشکل ہے۔ مذکورہ صفات انسانی نفس کی فطرت سے بھی تعلق رکھتی ہیں جن کا مقصد ہی صرف انسان میں چھپی انسانیت کی آزمائش ہے۔ نیکی ہمیشہ بدی پہ غالب آتی ہے چاہے بدی کتنی ہی زور آور کیوں نہ ہو۔ سچ ہمیشہ سر چڑھ کر بولتا ہے چاہے جھوٹ نے دماغوں دلوں سوچوں پہ قبضہ ہی کیوں نہ جمائے رکھا ہو۔
نیکی اور سچ غلبے اور حق کا نام ہیں جبکہ بدی اور جھوٹ مٹ جانے ذلیل و رسواء ہو جانے کا۔ انسانی نفس کی جبلتوں کی یہ لڑائی ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہنی ہے۔ مگر اس جنگ کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ برائی اور جھوٹ کا ساتھ دینے والے جب نیکی اور سچ سے شکست کھا کر منہ کے بل گرتے ہیں تب پھر سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا۔ آج پاکستان میں بھی انسانی نفس کی انہیں جبلتوں کی جنگ زوروں پہ ہے، گھمسان کے اس رن میں فی الوقت بدی کا غلبہ ہے اور جھوٹ اپنے جوبن پہ ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات خوبیوں سے بھری ہوئی ہے اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کو اسوہ حسنہ قرار دیا گیا۔ آپ کی ذات بابرکت کو قرآنی اخلاق کا مجسمہ قرار دیا گیا۔ صداقت و امانت صرف اور صرف ہم سب کے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات کی صفات ہیں مگر ہمارے ہاں کچھ عدالتی بد دیانت لوگوں نے ایک ایسے شخص کو صداقت و امانت کا علمبردار قرار دیا جس کی صبح ہی جھوٹ، منافقت، بے ایمانی اور بددیانتی سے شروع ہوتی ہے۔ وہ نیکی اور سچ کا لبادہ اوڑھے برائی اور جھوٹ کا پیکر ہے۔ ( میری اپنی رائے کے مطابق)
نیکی بدی اور سچ جھوٹ کی یہ لڑائی قیام پاکستان سے جاری اور ساری ہے، مگر اس لڑائی میں 2011 کے بعد ایسی تبدیلی آئی ہے جس نے برائی اور جھوٹ کی ایسی بھیانک شکل سامنے کھڑی کر دی ہے جو شاید اس سے پہلے پاکستان کے سیاسی، معاشرتی منظر نامے پہ نظر نہیں آئی۔ برائی اچھائی کا لبادہ اوڑھے معاشرے کی رگوں میں خون بن کر سرایت کر چکی ہے جبکہ جھوٹ اور منافقت، صداقت اور امانت کا روپ دھارے نئی نسل سمیت معاشرے کے ہر طبقے کی سوچوں کو یرغمال بنائے بیٹھی ہیں۔
اس بار برائی کی قوتوں نے کھل کر کھیلنے کا پروگرام بنایا اور نیکی اور سچ پہ غلبہ حاصل کرنے کے لیے بدی اور جھوٹ کو ہی اچھائی اور سچائی بنا کر پیش کرنے کی ٹھان لی۔ پھر سب نے دیکھا کہ کس طرح بدی، منافقت، جھوٹ کا جادو ملک بھر میں سر چڑھ کر بولنے لگا۔ اس بار ملک کی مقتدرہ میں بھی پہلی بار تفریق نظر آئی اچھائی اور سچ کے ساتھ کھڑے لوگ الگ اور برائی جھوٹ کے ساتھ کھڑے ہوئے الگ نظر آئے اور کھل کر نظر آئے۔
اس سے پہلے پاکستان کے سیاسی منظر نامے کی تبدیلی میں دو اہم و طاقتور فریق ہوتے تھے یعنی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ اور ہمیشہ دونوں ایک پیج پہ ایک دوسرے کو مینیج کرتے ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملائے کھڑے نظر آتے تھے۔ عمران خان صاحب کو جب ملکی اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھانے کے لیے میدان تیار کیا جا رہا تھا تب بھی دونوں ادارے ایک دوسرے سے نتھی نظر آئے۔ نواز شریف کو ملکی سیاست سے نا اہل کر کے باہر کرنے کے وقت بھی دونوں ہم خیال تھے۔ مگر عمران خان صاحب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد سے پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلیوں نے جہاں ملک کے سیاسی، طبقاتی، معاشرتی تقسیم کو واضح کیا وہیں اداروں میں تقسیم بھی کھل کر سامنے آ گئی۔
عمران خان میری ناقص رائے کے مطابق پاکستان دشمن طاقتوں کا پلانٹڈ مہرہ ہے، انہیں لانے والوں نے کئی سال کی کڑی تپسیا کے بعد بڑے ہی اعلیٰ پیمانے پہ بہت ہی زیادہ مال و دولت خرچ کر کے عمران خان کو پاکستان کے اقتدار اعلیٰ تک پہنچانے کے معاملات طے کیے۔ ان کا مقصد سی پیک کا خاتمہ، پاک ایران روس گیس پائپ لائن منصوبے کا خاتمہ اور ایٹمی مستحکم پاکستان کو کمزور کر کے عالم اسلام کو کمزور کرنا تھا جو خان صاحب نے محض ساڑھے تین سال کے اقتدار میں پورا کر دیا۔
اقتدار کے کوچے سے بے آبرو ہو کر نکلنے کے بعد صداقت و امانت کا لبادہ اوڑھے جھوٹ و منافقت کے پتلے نے بھرے جلسے میں امریکی خط لہرا کر ایک بار پھر برائی جھوٹ منافقت کو اچھائی سچ اور ایمانداری کا چولا پہنا کر پاکستان کی سیاسی معاشی نظام کی چولیں ہلانے کا بیڑا اٹھا لیا۔ آج اپریل 2022 سے لے کر مارچ 2023 تک صرف گیارہ مہینوں میں جعلی صادق و امین کا جادو پھر سے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بدی اور جھوٹ اتنا پھلا اور پھولا ہے ان گیارہ ماہ میں کہ اچھائی اور سچ اس کے اثر سے دھندلا گئے ہیں۔
عمران خان جان چکے تھے کہ ان کی حکومت دو تین ماہ سے زیادہ کی مہمان نہیں ہے اس لیے انہوں نے سب سے پہلے پیٹرول کی قیمتوں کو 150 روپے پہ منجمد کر کے ملکی معیشت کا نہ صرف بھٹا بٹھایا بلکہ آئی ایم ایف سے معاہدے کو توڑ کر پاکستان کی معیشت کے تابوت میں کیل ٹھونک دی۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اس وقت ہی اضافہ ڈالر کے ریٹ کے میں اضافے کے مطابق ہونا تھا مگر صداقت و امانت کے علمبردار کو اپنا ذاتی اقتدار ملکی مفاد سے زیادہ پیارا تھا۔ برائی جھوٹ منافقت غالب آ چکے تھے سچائی ایمانداری اور امانت داری پہ۔
نئی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو معاشی مشکلات پہلے سے اس کے گرد گھیرا تنگ کیے ہوئے تھیں اوپر سے برائی اور جھوٹ نیکی اور سچ کا لبادہ اوڑھے ملک کے سیاسی معاشی اور معاشرتی معاملات کو ملیامیٹ کرنے پہ تلی ہوئی تھیں۔
اس وقت پاکستان کی سیاسی معاشی صورتحال یوں تو بہت سنگین ہے، ملک پہ ڈیفالٹ کے خطرات بھی منڈلا رہے ہیں۔ مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پہ ہے۔ معاشرہ بدترین تنزلی کا شکار ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان پہ بھروسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پاکستان کو قرض حاصل کرنے کے لیے ان کی کڑی سے کڑی شرائط کو تسلیم کر کے عوام پہ بدترین مہنگائی کا بوجھ ڈالنا پڑ رہا ہے۔ مگر ساتھ ساتھ برائی اور جھوٹ کی شکل بھی واضح ہوتی جا رہی ہے۔
عوام کو صداقت و امانت کے چولے میں لپٹے شیطانوں کی شکلیں اب واضح اور صاف نظر آنے لگی ہیں۔ انشاءاللہ وہ دن دور نہیں ہیں کہ جب اچھائی اور سچ ملک میں موجود برائی، جھوٹ منافقت پہ غالب آ جائیں گی اور پاکستان ایک بار پھر تعمیر و ترقی، خوشحالی اور سیاسی استحکام کی راہ پہ گامزن ہو جائے گا اور جھوٹ منافقت اور برائی کی شیطانی قوتیں ذلت و رسوائی سمیٹ کر ہمیشہ کے لیے سیاسی قبر میں دفن ہو جائیں گی۔


