اسٹیبلشمنٹ سے رابطے کی خواہش: سیاسی سسٹم پہ عدم اعتماد


ملک کی سب سے مقبول جماعت کے مقبول ترین لیڈر کا کہنا ہے کہ وہ نئے آرمی چیف سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں مگر وہ ان سے عناد رکھتے ہیں اور بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب آرمی چیف بات ہی نہیں کرتے تو وہ آخر کس سے بات چیت کریں تاکہ ملک میں جاری سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا خاتمہ ہو سکے۔ ایک مقبول ترین سیاسی رہنما جسے اپنی عوامی مقبولیت پہ ناز ہے، وہ سیاسی قوتوں سے بات چیت کے بجائے ان اداروں سے سیاسی مذاکرات چاہتا ہے جن کا سیاست میں کوئی آئینی کردار نہیں بنتا۔ اس سے پہلے وہ عدلیہ کو سیاسی معاملات میں اتنا متنازع کر چکے ہیں کہ عدالت عظمیٰ پہلی بار واضح تفریق و تقسیم کی صورتحال سے دوچار نظر آتی ہے۔

عمران خان صاحب اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد اور پھر اس کی کامیابی کے بعد ایسے بپھرے ہوئے ہیں کہ ہوس اقتدار میں وہ سیاسی اخلاقیات کو ہی پس پشت رکھ کر ذاتیات پر اتر آئے ہیں۔ پہلے پہل وہ اپنی حکومت اور آرمی کے ایک پیج کی گردان سے نہیں تھکتے تھے، پھر کہتے تھے کہ فوج کو نیوٹرل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے یعنی فوج کو ان کی حمایت کرنی چاہیے ورنہ وہ جانور ہے۔ کبھی کہتے تھے کہ جنرل باجوہ جیسا برداشت کرنے والا مدبر آرمی چیف اس سے پہلے کبھی نہیں آیا اور اب کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ اصل حکومت چلا رہے تھے، میں تو صرف کٹھ پتلی تھا۔ جنرل باجوہ نے میری پیٹھ میں خنجر گھونپا میں ان کا کورٹ مارشل چاہتا ہوں۔

عمران خان صاحب پچھلے سال بھر سے جس تواتر کے ساتھ اپنا موقف بدل رہے ہیں، یوٹرن پہ یوٹرن لیے جا رہے ہیں اس سے تو بے چارہ یوٹرن ہی شرما گیا ہو گا کہ میں تو ہر پانچ سات کلومیٹر کے بعد آتا ہوں یہ تو خان صاحب ہر بات کے بعد یوٹرن لے کر میری ویلیو ہی گرا چکے ہیں۔ عمران خان پاکستان کے وہ پہلے سیاسی لاڈلے اور حکمران ہیں جن بڑے ناز و نعم میں پہلے پالا پوسا گیا پھر اقتدار پلیٹ میں رکھ کر ان کے حوالے کیا گیا۔ اس سے پہلے ان کے راہ کے کانٹے (پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن) ہٹا کر ان کے اقتدار کی راہیں ہموار کی گئیں۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کو اتنا گندا کیا گیا کہ دونوں بڑی جماعتوں کے اکثر نظریاتی کارکن بھی اپنی جماعتوں سے متنفر ہو گئے۔ اسٹیبلشمنٹ کا عمران لاؤ مشن کامیاب تو ہو گیا مگر صرف ساڑھے تین سال کے عرصے میں ہی عمران خان اور ان کی جماعت کی کارکردگی نے اسٹیبلشمنٹ کو اپنے پروجیکٹ سے ہاتھ کھینچنے پہ مجبور کر دیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے گلے کی ہڈی بن چکے ہیں جو نہ نگلی جا رہی ہے نہ ہی اگلی۔

خان صاحب نے فرمایا کہ وہ جنرل باجوہ کا کورٹ مارشل چاہتے ہیں لیکن جن جرائم پی وہ جنرل صاحب کا کورٹ مارشل چاہ رہے ہیں ان جرائم کا کیا ہو گا جن میں ایک منتخب عوامی وزیراعظم کو عدالتی مینجمنٹ کے ذریعے نااہل کروانا، پھر ایک ایسے شخص کے لیے ایسا ماحول تیار کرنا کہ لگے یہی اصل مسیحا ہے ملک و قوم کا، اور پھر اس جعلی مسیحا کے لیے پورا انتخابی سسٹم بٹھا کر اسے جعلی اکثریت دلانا اور اقتدار میں لانا شامل ہیں۔

عمران خان صاحب اپنے آپ کو ملک کا جمہوریت پسند آئین کی پاسداری کرنے والا، پارلیمان کا احترام کرنے والا مقبول ترین عوامی و جمہوری رہنما کہتے اور سمجھتے ہیں مگر وہ نہ جمہوریت پسند ہیں نہ ہی عوامی ہیں، نہ وہ آئین کی پاسداری کرنا جانتے ہیں نہ ہی پارلیمان کا احترام۔ خان صاحب نے ایک آئینی جمہوری تحریک عدم اعتماد کی راہ میں روڑے اٹکائے، ان کی جماعت کی جانب سے منتخب صدر مملکت نے اپنے آئینی حلف سے روگردانی کی اور خان صاحب کی غیر آئینی ایڈوائس پر قومی اسمبلی توڑ دی، ڈپٹی اسپیکر اور اسپیکر قومی اسمبلی نے بھی پارلیمان کی حرمت کو تار تار کیا اور آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ عمران خان صاحب اور ان کی جماعت نے قومی اسمبلی، آئین قانون کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا۔ قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کا اعلان کیا، پھر جب ان کے استعفوں کی منظوری کا عمل شروع ہوا تو عدالتوں میں جاکر استعفوں کی منظوری کے خلاف حکم امتناعی حاصل کیا۔

اگر عمران خان صاحب آئین و قانون اور پارلیمان کی عزت و احترام کو مقدم رکھتے تو آئینی تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اپنی حکومت کے خاتمے کو قبول کر کے اسمبلی میں مثبت، ذمے دار، محب وطن حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے نہ کہ پارلیمنٹ سے راہ فرار اختیار کر کے ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا سبب بنتے، انتشار اور افراتفری کی صورتحال پیدا کرتے۔ آج خان صاحب جن اداروں اور جن سیاسی قوتوں کے ساتھ سمجھوتے کرنے کی دہائیاں دے رہے ہیں اگر گیارہ ماہ قبل ہی ملک کی معیشت، عوام کی خوشحالی، امن ترقی اور استحکام کی خاطر سیاسی قوتوں سے بات چیت کرتے تو شاید آج اس نہج نہ پہنچے ہوتے کہ انہیں اس طرح منتیں اور ترلے کرنے پڑتے۔ عمران خان صاحب نے جس طرح اپنی جماعت اور اپنے کارکنوں کی سیاسی تربیت کی ہے وہ کسی بھی طرح کسی سیاسی جماعت کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ملک میں عدم برداشت و رواداری اور گالم گلوچ کے ایک ایسے کلچر کی بنیاد ڈالی ہے جس کا شکار اب وہ خود ہو رہے ہیں۔

عمران خان صاحب سمجھ چکے ہیں کہ اب گیم ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہے وہ اداروں اور مخالف سیاسی قیادت کو برا بھلا کہنے انہیں متنازع بنانے میں تمام اخلاقی سیاسی حدیں پار کر چکے ہیں اسی لیے آج انہیں اداروں اور ملکی سیاست سے وابستہ تمام سیاسی قوتوں سے سمجھوتا کرنے کی ضرورت کا احساس ہوا ہے لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے ملک کی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ اب مزید ہرزہ سرائی، اب مزید بے عزتی، بدکلامی گالم گلوچ اور اداروں کو متنازع بنانے کی کوششیں برداشت نہیں کی جا سکتی شاید اب پروجیکٹ عمران خان اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے اور جس طرح انہیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا گیا اسی طرح اب انہیں ملکی سیاسی منظرنامے سے ہمیشہ کے لیے نکال باہر کرنے کی کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں۔

Facebook Comments HS