مذہبی سیاحت اور موجودہ معاشی صورتحال

حافظ صفوان صاحب اور مبشر زیدی صاحب کی پوسٹس دیکھیں کہ مذہبی زیارات پر پابندی ہونی چاہیے۔۔ عوام نے دل کھول کر ان پر تنقید کی ہوئی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے گزشتہ برس میں نے ایک حلال معیشت کے حوالے سے ایک پراجیکٹ پر کام کیا تھا، چونکہ وہ ایک اسلامی پراجیکٹ تھا تو مجھے وہ حقائق مثبت انداز سے پیش کرنا پڑے کہ اسلامی ٹورازم اس وقت دنیا میں مقبول ہو رہی ہے اور مسلمان ممالک اس سے اربوں ڈالرز کما رہے ہیں۔ صرف 2018 میں اسلامی ممالک نے حلال سیاحت کی مد میں ایک سو نوے بلین ڈالرز کا ریونیو بنایا تھا، جو کہ ایک اندازے کے مطابق 2024 تک پونے تین سو بلین ڈالر تک ہونے کا امکان ہے۔
اسلامی زیارات کے نتیجے میں پاکستان سے کتنے ڈالرز باہر جا رہے ہیں اس حوالے سے دیکھیں تو کورونا کے بعد جب ایران نے اپنے ملک میں زیارات کیلئے ویزہ کھولا تو پندرہ ہزار پاکستانی صرف دو ماہ میں ایران گئے۔ اگر اس تعداد کو پورے سال پر لاگو کیا جائے تو یہ لاکھوں میں بنیں گے، ایک ٹور پر قریباً کم از کم چھ سو سے سات سو ڈالر تک پیکج ملتا ہے، مزید اس پر یہ کہ الگ خرچے بھی کرتے ہیں لوگ، اندازاً یہ ایک ٹور ہزار سے پندرہ سو ڈالر میں ہوتا ہے۔ ستمبر 2022 میں عراق نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کیے جن کیے۔ ان ویزہ کیلئے 75 ہزار لوگوں کی درخواست آئی ہوئی تھی۔ عراق کے ٹور پیکج گیارہ سے ڈالر سے پندرہ سو ڈالر تک ہوتے ہیں، مزید خرچہ ڈال کر دو ہزار تک بھی جا سکتا ہے۔ جب لاکھوں لوگ ان زیارات کیلئے جاتے ہیں تو ملک سے کروڑوں ڈالر ملک سے باہر جاتے ہیں۔
اب آتے ہیں ایک اور طرف۔۔۔ اس پر بات کرنا ویسے تو ممنوع ہے لیکن صرف اعداد و شمار بتانا مقصود ہے۔سعودی عرب اسلامی مذہبی سیاحت کا گڑھ ہے۔ سعودی عرب صرف حلال یا مذہبی سیاحت کے فروغ کیلئے سالانہ 30 بلین ڈالرز سے زائد خرچ کرتا ہے، اور یہ خرچہ وہ اس سے ڈبل کمانے کیلئے کرتا ہے۔ ان کے تیل کے کنویں تو ختم ہو جائیں گے لیکن یہ سیاحت نہیں۔۔۔ پاکستان کے حوالے سے دیکھا جائے تو عمرہ کا پیکج نو سو سے بارہ سو ڈالرز میں پڑ رہا ہے، آب زم زم اور دیگر لوازمات لگا کر یہ پندرہ سو ڈالر تک پہنچتا ہے، گزشتہ برس اکتوبر میں سعودی عرب کے مطابق ایک لاکھ پچانوے ہزار دو سو سے زائد پاکستانیوں نے عمرہ کیا، اس سال بھی یہ تعداد اتنی ہی ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صرف حج پر اس سال تین ہزار سے پینتیس سو ڈالر فی شخص خرچ ہوگا، اور اس سال ایک لاکھ اسی ہزار افراد تقریباً حج کیلئے جا سکیں گے۔ حساب اب آپ خود لگا لیں کہ کتنے ڈالرز باہر جائیں گے۔
اب اس سب کے بعد لگتا تو ہے کہ مطالبہ بہتر ہے کہ صرف ایک سال اگر یہ زیارات نہ کی جائیں تو ڈالر ملک میں رہے گا، اور کچھ نہ کچھ بہتری تو آ سکتی ہے۔
Facebook Comments HS

