تصویر کائنات میں رنگ بھرنے والی کی صحت

عورت خالق کائنات کی خوبصورت ترین تخلیق ہے۔ اللہ نے اسے اس قابل بنایا کہ وہ خود بھی تخلیق کا جوہر رکھتی ہے اور نسل انسانی کی امین ہے۔ تخلیق کے یہ مراحل ہرگز آسان نہیں۔ اس کے لیے اسے بہت سی مشکلات اور تکالیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر اس کی صحت اچھی نہ ہو تو یہ مشکلات اور تکالیف بڑھتے بڑھتے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔
ہمارے ملک میں زچگی کے دوران وفات پا جانے والی خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اور اب بریسٹ کینسر میں مبتلا ہو نے والی خواتین کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ وٹامن ڈی اور آئرن کی کمی سے پیدا ہونے والے مسائل الگ ہیں۔
میرا عمومی مشاہدہ ہے کہ ناصرف ان پڑھ اور دیہاتی خواتین اپنی صحت سے لاپروائی برتتی ہیں بلکہ پڑھی لکھی ورکنگ وومن بھی اپنی صحت پر کم ہی توجہ دیتی ہیں۔
دراصل اس سب کے پیچھے یہ سوچ کار فرما نظر آتی ہے ”کہ میرا نمبر سب سے آخر میں آتا ہے“ ۔ مذکورہ سوچ کا بیج ہوش سنبھالتے ہی اس کے دل و دماغ میں بو دیا جاتا ہے۔ ناشتہ ہو یا رات کا کھانا۔ خاتون نے خانہ کی کوشش ہوتی ہے کہ پہلے گھر کے سبھی افراد فارغ ہو جائیں پھر میں کھا لوں گی۔ حتی کہ آپ جانتے ہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے وقت پر کھانا کس قدر ضروری ہے مگر میں نے ایسی خواتین کو بھی دیکھا ہے جو اس مرض میں مبتلا ہو نے کے باوجود سب کو کھلانے کے بعد ہی کچھ کھا پاتی ہیں اور گھر والے اپنی پیٹ پوجا میں مصروف رہتے ہیں۔ گھر میں پھل آئے تو وہ بھی پہلے بچوں اور شوہر کو ہی پیش کیا جاتا ہے۔
حمل کے دوران اور زچگی کے بعد بھی عورت اپنا کچھ خاص خیال نہیں رکھ پاتی حالانکہ اس دوران اسے خصوصی نگہداشت، اچھی خوراک، آرام و سکون اور ادویات کے ساتھ ساتھ کئی قسم کے وٹامنز وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہاں بھی وہ ازلی قربانی کے جذبے سے سر شار اپنے آپ سے غافل رہتی ہے۔
وقت گزرتے دیر نہیں لگتی اور بڑھاپے کی دہلیز پہ آ کھڑی ہوتی ہے۔ اب طرح طرح کی بیماریاں اور کمزوریاں سر اٹھانے لگتی ہیں۔ ہڈیاں اور پٹھے دہائی دینے لگتے ہیں۔ چلنا پھرنا، گھریلو سرگرمیاں انجام دینا، سیڑھیاں چڑھنا اترنا دشوار ہو جاتا ہے۔ منھ سے ”ہائے ہائے، اف، میں مر گئی، آہ۔ کی آوازیں کثرت سے برآمد ہونے لگتی ہیں۔ مگر“ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ”
جس طرح گیا وقت واپس نہیں آتا۔ اسی طرح گئی ہوئی صحت بھی واپس نہیں لوٹتی۔ سو تصویر کائنات میں رنگ بھرنے والیو: جوانی اور لڑکپن میں ہی اپنی صحت پر انویسٹ کرنا سیکھیں۔ اپنے آپ کو اہمیت دیں۔ اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھیں۔ اچھی خوراک، ورزش اور تفریح کا اہتمام کریں۔ آپ تندرست ہوں گی تو گھر اور باہر کی ذمہ داریوں کے ساتھ چو مکھی لڑ سکیں گی اور سب سے بڑھ کر بڑھاپے میں عضو معطل بننے کی بجائے اس سے لطف اندوز ہو سکیں گی۔ بھئی جان ہے تو جہان ہے۔
یہاں ماؤں کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے کہ وہ بیٹیوں کی خوراک اور ذہنی سکون کا ویسے ہی خیال رکھے جیسے بیٹوں کا رکھتی ہے بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر۔ کیونکہ اس نے مستقبل میں بڑے کٹھن مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔ اسلام میں بھی اس لیے بیٹے کو دو سال ماں کا دودھ پلانے کی تاکید کی گئی اور بیٹی کو ڈھائی سال۔ گھر میں بیٹی کو محض قربانی کا درس مت دیں کہ وہ اپنی ذات کی نفی کر کے کولہو کا بیل بنی رہے۔ اسے اس انداز میں پروان چڑھائیں کہ فرائض کے ساتھ ساتھ اسے اپنے حقوق کا بھی بخوبی ادراک ہو۔
تندرست خواتین ہی گھر اور معاشرے میں خوبصورت اور مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یقین جانیے تندرستی ہر دو اصناف کے لیے ہزار نعمت ہے۔

