درست مردم شماری ترقی کی ضامن


ملک میں سماجی و معاشی منصوبہ بندی کے لیے مردم شماری بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ملک کی آبادی اور اس کے تناسب کو مد نظر رکھ کر ہی حکومت منصوبہ بندی کرتی ہے۔ پاکستان کی پہلی مردم شماری 1951 میں کرائی گئی تھی جس کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی 7.5 کروڑ تھی اس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر دس سال بعد مردم شماری کرائی جائے گی لیکن نامناسب حالات کی وجہ سے مردم شماری ہمیشہ تاخیر کا شکار رہی۔ آخری مردم شماری 2017 میں ہوئی اس حساب سے اگلی مردم شماری 2027 میں ہونی تھی لیکن کراچی سمیت پورے ملک کے عوام نہ حلقہ بندیوں سے مطمئن تھے نہ مردم شماری اس لیے 2023 میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اس بار ہر گھر کے ٹوائلٹ کی تعداد بھی لکھی جائے گی کیونکہ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کی 40 فیصد آبادی کو ضروری حاجات کے لیے ٹوائلٹ میسر نہیں ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں گھر کی چار دیواری ہی نہیں رہی اس لیے مردم شماری کے لیے آنے والے گھروں کے باہر پتھروں پر نشان لگا رہے ہیں۔ پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.74 فیصد سالانہ ہے۔

2017 میں سندھ کی آبادی 4.5 (ساڑھے چار) کروڑ تھی جس میں کراچی کی آبادی 1.5 کروڑ بتائی گئی جبکہ کراچی کے لوگوں کا ماننا ہے کہ کراچی کی آبادی کم سے کم اس وقت بھی 3 کروڑ تھی اور ہر سال اس میں 3 فیصد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایم کیو ایم ابھی بھی کراچی کی مردم شماری سے مطمئن نہیں ہے اور اسے خدشہ ہے کہ کراچی کی آبادی کو کم دکھایا جائے گا۔ فاروق ستار نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ کراچی کی آبادی کو دیکھتے ہوئے 25000 بلاگ بنانے چاہیے تھے لیکن 16000 بلاگ بنائے گئے ہیں۔ اس بار وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی مردم شماری کے حوالے سے خدشات ہیں جب کہ مردم شماری سرکاری ملازمین ہی کر رہے ہیں۔

کراچی کی مردم شماری کا مسئلہ ہمیشہ رہتا ہے کیونکہ پورے ملک سے لوگ روزگار کے لیے یہاں آتے ہیں۔ دیہی سندھ سے عوام کی ایک بڑی تعداد مسلسل کراچی منتقل ہو رہی ہیں جس میں اقلیتی برادری کی بڑی تعداد شامل ہیں کیونکہ دیہی سندھ میں حکومتی انفراسٹرکچر ہی ختم ہو گیا ہے۔ روزگار، صحت، تعلیم اور تحفظ کا فقدان ہے۔ حکومت نیا انفراسٹرکچر بنا نہیں رہی اور پرانے انفراسٹرکچر کی بحالی پر پیسہ خرچ نہیں کرتی۔ سندھ کی دیہی علاقوں کے رہنما اور سردار اپنی غریب عوام کو کراچی بھیج دیتے ہیں کہ ان کو روزگار اور رہائش ملے گی اور چونکہ یہاں ہسپتالوں کی حالت دیہاتوں اور قصبوں سے بہتر ہے تو صحت کے مسائل کسی حد تک حل ہونے کی امید ہوتی ہے۔

جب ایک شہر پر چاروں طرف سے اتنا بوجھ پڑے گا تو یقیناً وہاں مسائل بھی بے تحاشا ہوں گے۔ سب سے بڑا مسئلہ ان مظلوموں کی رہائش گاہ کا ہے کیونکہ سپریم کورٹ کی تجاوزات کے خلاف کارروائی کے بعد ان کے پاس کوئی رہائش ہی نہیں رہی پہلے یہ لوگ نالوں پر یا ان کی کناروں پر کچے پکے مکانوں میں رہتے تھے لیکن اس وقت ان کی 80 فیصد آبادی فٹ پات، پلوں کے نیچے اور سڑکوں پر رہ رہی ہے۔ چادر اور چار دیواری کا کوئی تصور نہیں ہے۔

ان کی عورتوں اور بچوں کے پاس اتنی بھی جگہ نہیں ہے جتنی افغان مہاجرین کے پاس ہے۔ بچے پورا دن انتہائی تکلیف میں سڑکوں کی کنارے ماؤں کے ساتھ بیٹھے رہتے ہیں۔ جب سے مردم شماری کا آغاز ہوا ہے تو وہی پرانا مسئلہ سامنے آ رہا ہے کہ کراچی کی غیر مقامی آبادی کو کس علاقے سے شمار کیا جائے؟ کراچی سے یا ان کے آبائی علاقے سے؟ تو اس کا حل یہ نکالا گیا ہے ان کو شمار تو ان کے آبائی علاقے سے کیا جائے گا تاکہ وہاں کی آبادی زیادہ دکھائی دے پھر آبادی کے حساب سے انتخابی حلقوں کی تعداد بھی بڑھا لی جائے۔

اس طرح اسمبلیوں میں ان کے نمائندوں کی تعداد بھی زیادہ ہو گی اور حکومتی فنڈز بھی ان ہی کو ملیں گے یعنی طاقت اور پیسہ دیہی علاقوں کے پاس رہے گا اور غربت تنگدستی شہری علاقوں میں۔ پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے یہ کہا ہے کہ اردو بولنے والے بھی اپنی مادری زبان سندھی لکھیں، کوشش کی جا رہی ہے کم سے کم شہر میں زبان کی بنیاد پر ہی تعداد بڑھا لی جائے۔ جب تک آبادی کم تھی تب تک تو یہ فارمولا کام کر رہا تھا لیکن جس حساب سے آبادی بڑھ رہی ہے، یہ فارمولا اب نہیں چل سکتا کیونکہ اب بڑی آبادی مسائل اور نفرت بڑھا رہی ہے۔ لوگ اب اس کشمکش کی زندگی سے تنگ آچکے ہیں۔ اس لیے وہ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

اب پبلک کو بھی چاہیے کہ اپنا شعور استعمال کرے اس لیے جو لوگ یہاں آباد ہوں گئے ہیں ان کو شمار بھی کراچی سے ہی ہونا چاہیے اور سندھ کے دیہی علاقوں کے وہ لوگ جن کے پاس ایک کمرے کا بھی مکان نہیں ہے انہیں مہاجرین میں شمار کرنا چاہیے۔ اگر ان لوگوں کو آبائی علاقوں کے رہنما کچھ نہیں دے رہے ہیں تو کم ازکم ان کو کراچی میں ہی آسان زندگی فراہم کی جائے ورنہ ان کو ان کے آبائی علاقوں میں بھیجیں جہاں ان کے نمائندے ان کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرے۔

کراچی اس وقت واحد شہر ہے جو ایمانداری سے ملک کو چلانے میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے 70 فیصد ٹیکس اسی شہر سے جا رہا ہے۔ آج 75 سال بعد بھی ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم زرعی اراضی سے ٹیکس وصول نہیں کرسکے اس لیے ضروری ہو گیا ہے کہ کراچی کی آبادی کو ایمانداری سے گننا جائے اور حلقہ بندیاں صرف صحیح نہ کی جائے بلکہ اسمبلیوں میں انتخابی حلقوں کی تعداد بھی بڑھائے جائے تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوں۔

Facebook Comments HS