آزادی کے ہیروز اور نئی تاریخ کے شوشے


اقلیتوں نے آزادی کے لئے کام کیا اور قائد نے بھی اپنی کابینہ میں وزیر خارجہ (ظفراللہ خان) اور وزیر قانون (جوگندر ناتھ منڈل) اقلیتی ممبران سے لئے۔ لیکن آج کل ہمارے ہاں تحقیق کا رواج کم ہے جو پڑھا اسی پہ تکیہ ہے۔ اور پھر آج کل کے نام نہاد نئی تاریخ لکھنے والے مورخین نے بھی کافی ”انی“ ڈالی ہوئی ہے

کچھ ایسا ہی ایک کالم روزنامہ ایکسپریس کے ایک کالم نگار (جو کہ ایکس بیوروکریٹ ہیں ) نے بھی لکھ مارا۔ کالم درج ذیل ہے اور آخر میں جو سر کھپائی ہم نے کی ہے وہ بھی لکھ دی ہے، فیصلہ پڑھنے والے خود کر لیں :

تئیس جون 1947 کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس برپا تھا۔ مشکل نکتہ پر اسمبلی نے جمہوری انداز یعنی ووٹ کے ذریعے فیصلہ دینا تھا۔ یہ حد درجہ نازک مرحلہ پنجاب کی پاکستان میں شمولیت کا تھا۔ پورے پنجاب کی بات ہو رہی ہے۔ یعنی مغربی اور مشرقی پنجاب۔ ہر صاحب نظر کو معلوم تھا کہ اگر پنجاب، نئے ملک پاکستان کا حصہ نہ بن پایا تو قائداعظم کے لیے وہ مشکلات کھڑی ہو جائیں گی، جس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔

تصور کیجیے کہ پورا پنجاب، یعنی لاہور اور دیگر شہر، اٹک تک قانونی طریقے سے انڈیا کے پاس ہوتے، تو ہمارے ملک کا کیا نقشہ ہوتا اور کیا حال ہوتا۔ اسمبلی میں گرما گرمی کا ماحول تھا۔ اچانک سکھ رہنما، ماسٹر تارا سنگھ نے نیام سے تلوار نکالی۔ زور سے نعرہ لگایا کہ اگر کسی نے پنجاب کی تقسیم کی بات کی یا کہا کہ پنجاب کو پاکستان کا حصہ بننا ہے، تو اسے قتل کردوں گا۔ پنجاب صرف اور صرف انڈیا کا حصہ بنے گا۔ سب ممبران سہم کر بیٹھ گئے۔ تمام لوگ تارا سنگھ کی طاقت کو جانتے تھے۔

کم ازکم کسی مسلمان ممبر نے تو جرات نہیں کی کہ تارا سنگھ کی بات کا جواب دے۔ اچانک سفید پگڑی پہنے، ایک گھنی مونچھوں والے شخص نے جرات سے کہا، کہ پنجاب پاکستان کا حصہ بن کر رہے گا۔ دیکھتا ہوں کہ کون ہمت کرتا ہے کہ روک سکے۔ حد درجہ رعب دار والا شخص، ماسٹر تارا سنگھ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو گیا۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا، کہ ہمت ہے تو چلاؤ اپنی تلوار، مقابلہ کروں گا۔ دونوں ممبران گتھم گتھا ہو گئے۔ بہت مشکل سے دیگر ممبران نے دونوں کو زخمی ہونے سے بچایا۔ یہ جرات دکھانے والا عظیم انسان دیوان بہادر سنگھا تھا۔ جو مسیحی برادری سے تعلق رکھتا تھا۔ تاریخ کا ایک عظیم کردار، جس کو آج شاید کوئی بھی نہیں جانتا۔ یا بہت کم لوگ یاد رکھے ہوئے ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی۔ امکانات حد سے زیادہ تھے کہ پنجاب ہندوستان کے ساتھ ہی رہے گا۔ ووٹ پڑنے لگے۔ صوبہ کو ہندوستان کا حصہ بنانے کے لیے اٹھاسی ووٹ آئے۔ لگتا یہی تھا کہ اتنے زیادہ ممبران کی موجودگی میں اب پنجاب کا نئے ملک میں شامل ہونا ناممکن ہو گا اور یہ شاید تقسیم بھی نہیں ہو پائے گا۔ بڑے بڑے مسلمان جاگیردار، کلغیوں والے امیر و کبیر سکھ، ہندو سیٹھ پوری شان و شوکت سے بیٹھے تھے۔ اب مبارک بادوں کا وقت قریب آ رہا تھا۔ جب اسپیکر نے اعلان کیا کہ پنجاب کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے؟ اس پر ووٹنگ ہوگی۔ تو تقسیم کے حق میں بھی اٹھاسی ووٹ ہی آئے۔ ان میں سے اکثریت مسلم لیگی ممبران کی تھی۔ اب پوری اسمبلی میں سنجیدہ قسم کی خاموشی بلکہ موت جیسی خوفناک خاموشی تھی۔ اب کیا ہو گا۔ پاکستان، پنجاب کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہو گا۔ یا خدا، اب معاملہ کیسے سلجھے گا۔ اس ماحول میں دیوان بہادر سنگھا جو اسمبلی کے اسپیکر بھی تھے، نے وارفتگی سے اعلان کیا، کہ میں، پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالتا ہوں۔ بطور اسپیکر ان کے ووٹ نے 88 کی گنتی کوایک ووٹ سے بڑھادیا۔ سنگھا صاحب کے ساتھ سیسل اور فضل الٰہی اٹھے اور انھوں نے بھی پاکستان کی حمایت کر دی۔

یہ دونوں بھی مسیحی تھے۔ یعنی اب قرارداد صرف اور صرف تین ووٹوں سے کامیاب گردانی گئی۔ اکانوے ممبران نے پنجاب کو پاکستان کا حصہ بنانے کی حمایت کی۔ اور 88 ممبران نے اس کی مخالفت کی۔ اٹھاسی کی گنتی کو صرف تین ووٹوں سے شکست ہوئی۔ جس میں نمایاں ترین ووٹ سنگھا صاحب کا تھا۔ یہ تسلیم نہ کرنا کم ظرفی ہوگی، کہ پنجاب کا پاکستان سے الحاق صرف اور صرف تین کرسچن ممبران اسمبلی کی بدولت ہو پایا۔ سنگھا صاحب، قائداعظم کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ ہر جگہ کہتے تھے کہ ہندو مذہب، ذات پات پر کھڑا ہوا ہے۔

سنگھا صاحب، 1948 میں قائداعظم کی وفات کے ٹھیک ایک ماہ بعد ، جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کا خاندان سنگھا صاحب کی وفات کے کچھ عرصے بعد ہی پاکستان سے ہجرت کر گیا۔ مگر سچ صرف اور صرف یہ ہے کہ آج وہ پنجاب جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، صرف اور صرف سنگھا صاحب کی بدولت اس ملک کا حصہ ہے۔

( 8 مارچ 2022 )
—————————————
ہماری سر کھپائی حاضر ہے :

آج تک ایسی کوئی بات نظر سے نہیں گزری، پچھلے 3 گھنٹے سے سرچنگ مشین بنا ہوا ہوں کہ اس کہانی کا اتا پتا لگ سکے۔ جو کچھ ملا ہے وہ یہ ہے

1946 پنجاب اسمبلی کی پارٹی پوزیشن
کانگرس۔ 51
مسلم لیگ۔ 73
اکالی دل۔ 22
یونینسٹ پارٹی۔ 20
مجلس احرار۔ 2
آزاد۔ 7
ٹوٹل: 175

اب اس پارٹی پوزیشن سے تو 88 اور 91 والی کہانی کسی بھی طریقے سے سیدھی نہیں بیٹھتی، کیونکہ کانگرس، اکالی دل، یونینسٹ اور احرار سب ہی پارٹیشن کے خلاف تھے۔ اگر یونینسٹ اور احرار والے لیگ کے ساتھ مل جائیں تو بھی کہانی نہیں بنتی۔
اب آئیے، یہ مضمون آیا کدھر سے،

سب سے پہلے 2014 میں تاریخ دان اشتیاق احمد صاحب نے لکھا کہ ڈاکٹر سمیع اللہ قریشی صاحب (یہ شاید سابقہ سفیر اور ڈپلومیسی پر ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں ) نے یہ کہانی ایک انگریزی روزنامے کو بھیجی۔

اس کے بعد 2016 میں (جب یہ ڈاک ٹکٹ بھی چھپا تھا) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر طاہر کامران صاحب نے اپنے ایک مضمون میں یہ کہانی گروپ کیپٹن (ر) سیسل چوہدری سے روایت کی۔

پھر آکسفورڈ پریس کے کنسلٹنٹ، انگلش کے شاعر اور کارپوریٹ مارکیٹنگ کنسلٹنٹ سلمان طارق قریشی نے اسی کہانی کو ایک انگلش ہفت روزہ میں 2018 میں لکھا۔

وکی پیڈیا پر بھی کچھ ایسی ہی کہانی درج ہے

اب اس کہانی کے خلاف 2016 میں ڈاکٹر یعقوب بنگش (اسسٹنٹ پروفیسر ماڈرن تاریخ آکسفورڈ لندن یونیورسٹی اور انگلش کالم نگار) نے ایک مضمون لکھا وہ کچھ ایسا ہے

طاہر کامران صاحب کے کالم کے حوالے سے بنگش صاحب نے لکھا کہ یہ ساری روایات سیسل چوہدری کی بیان کردہ ہیں، جن کی اپنی پیدائش 1941 کی ہے۔ ووٹنگ کا سارا پروسیس ہی غلط تھا، جو بنگش نے لکھا وہ کچھ ایسا ہے

1946 میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں، دو ہندوستانی مسیحی۔ دیوان بہادر ایس پی سنگھا اور فضل الٰہی منتخب ہوئے، اور دو اینگلو ہند مسیحی، مسٹر سی ای گبون اور مسٹر پی مینوئل منتخب ہوئے۔ ان چار ارکان میں سے، ایس پی سنگھا پنجاب اسمبلی کے اسپیکر بنے، اور اسی وجہ سے جب پنجاب اسمبلی 23 جون 1947 کو صوبے کی تقسیم پر ووٹ ڈالنے کے لئے ملی تو مسٹر سنگھا نے حقیقت میں اپنا ووٹ نہیں ڈالا۔ پنجاب اسمبلی میں ووٹنگ متوقع فرقہ وارانہ خطوط پر تھی: اسپیکر کی زیرصدارت مسلم مغربی پنجاب کے قانون سازوں نے صوبے کو متحد رکھنے کے لئے 69 سے 27 تک ووٹ دیے، جبکہ ڈپٹی اسپیکر کے تحت بنیادی طور پر ہندو اور سکھ مشرقی پنجاب کے ممبران نے مسترد کر دیا متحدہ پنجاب کو 50 ووٹوں سے 22 ووٹ ملے۔ لہذا، پنجاب کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تین مسیحی ووٹنگ ممبروں، فضل الٰہی، سی ای گبن اور پی مینوئل نے، مسلم ممبروں کے ساتھ مل کر متحدہ پنجاب کے لئے ووٹ دیا۔

اب یہ کالم نگار والی کہانی کدھر سے آئی ہے، اللہ ہی جانے

Facebook Comments HS