جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھائی جائے


ہمارے استاد محترم نے ایک بار ہمیں ایک لطیفہ سنایا تھا۔ کہنے لگے کسی ملک پر ایک ظالم بادشاہ مسلط تھا۔ وہ عوام پر ظلم و ستم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا تھا۔ مگر عوام یہ سب کچھ سہتے ہوئے خامشی سے اپنی زندگیوں میں مگن تھے۔ بادشاہ بڑا پریشان تھا کہ یہ اتنے صابر کیوں ہیں میرے خلاف احتجاج کیوں نہیں کرتے۔ بالآخر اس نے تنگ آ کر حکم دیا کہ کل سے ہر ایک کو پکڑ کر دس جوتے لگائے جائیں۔ کچھ دن بعد عوام بادشاہ کے خلاف بر سر احتجاج ہو گئے۔ بادشاہ بڑا خوش ہوا کہ چلو اب تو باہر نکلے ہیں۔ اور اسی سرشاری کے عالم میں ان سے پوچھا کہ آپ کو کیا مشکل در پیش ہے۔ ان میں سے ایک شخص کہنے لگا جناب باقی تو سب ٹھیک ہے بس ذرا جوتے مارنے والے بندے بڑھا دیں ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے۔

میں بھی بسا اوقات سوچتا ہوں کہ ہماری صورت حال بھی اب یہی ہو چکی ہے۔ شاید ہی کوئی تجربہ ایسا باقی نہیں رہا جو ہمارے حکمرانوں نے عوام پر نہ کیا ہو۔ لیکن عوام کی حالت منیر نیازی کے اس مصرعے کی سی ہے :

اس کے بعد اک لمبی چپ اور تیز ہوا کا شور

اور عوام کی اس لمبی چپ میں کوئی دو چار برس کی بات نہیں ہے بلکہ یہ نصف صدی کا قصہ ہے۔ کئی دہائیوں سے ایک مخصوص طبقے نے اس ملک کو ایک لیبارٹری بنایا ہوا ہے جس میں آئے روز نت نئے تجربات ہوتے رہتے ہیں۔ اور اس مملکت خداداد کے باسی ان تجربات کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ جتنے ممالک بھی آج دنیا کی بڑی معاشی قوتوں میں شمار ہوتے ہیں انھوں نے اپنے خطوں میں استحکام پیدا کیا ہے۔ وہاں یہ روش نہیں ہے کہ اگر صبح کوئی حکومت بر سر اقتدار آتی ہے تو شام میں باقی سارے آستینیں چڑھا کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ اس کی جگہ پر تو ہمیں ہونا چاہیے تھا۔ اس چھینا جھپٹی میں جس طبقے کا سب سے زیادہ استحصال ہوتا ہے وہ سادہ لوح عوام ہی ہیں۔ البتہ بھاری جیبوں والے ہمیشہ سکھی رہے ہیں۔

زیادہ دور نہ جائیں گزشتہ چند ماہ کی صورت حال کو ہی دیکھ لیں۔ جب یہ ٹکڑا کچھ مستحکم ہو رہا تھا تو ایک مخصوص ٹولے نے مہنگائی کی آڑ میں اس حکومت کے خلاف مہنگائی مکاؤ مارچ شروع کر دیے۔ اور عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی۔ یہ وہی ٹولہ ہے جو ازل سے اس مملکت خداداد پر باری باری قابض رہا ہے اور ہر ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے کے فلک شگاف نعرے لگاتا رہا ہے۔ خیر یہ ٹولہ حکومت کو گرانے اور اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب بھی ہو گیا۔ لیکن حقیقت میں اس ٹولے کے اپنے مفادات تھے۔ عوام سے تو انھیں نہ کبھی غرض رہی ہے اور نہ ہی اب تھی۔ جن خدشات کا اظہار میں نے اس وقت ایک کالم میں کیا تھا جب یہ گروہ حکومت گرانے کے بعد اقتدار میں آیا تھا اور ہمارے پرانے بابے سمجھ رہے تھے کہ اب ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔

اور پھر ہوا وہی جو ان کے اپنے مقاصد تھے۔ آئے دن نیب قوانین میں ترامیم ہونے لگیں۔ جن کا مقصد ان کے اپنے کیسز معاف کروانا تھا۔ اور اس میں وہ پوری طرح کامیاب رہے۔ علاوہ ازیں مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے، انھیں نیچا دکھانے، اقتدار میں ہمیشہ کے لیے رہنے، نوٹوں کے پہاڑ کھڑے کرنے اور اپنے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھنے کا پورا انتظام کیا گیا۔ اس ساری کش مکش میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ پیچھے رہ گئی تو وہ تھی عوام کی فکر۔ لیکن وہ یہ فکر کیوں کرتے، کیونکہ یہ تو کبھی ان کا مسئلہ رہا ہی نہیں۔

ان کرداروں نے ایک ایسی صورت حال کو جنم دیا جو اس خطے کی بدترین تاریخ میں بھی ہم نے کبھی دیکھی نہ سنی۔ جس نے ابتری کے پچھلے تمام ریکارڈ بھی توڑ ڈالے۔ جس میں ہم زندہ تو ہیں مگر کیسے؟ اس پہ کتاب زیست خود بھی حیران ہے۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں آج متوسط طبقے کا کوئی بھی فرد ایسا نہیں ہے جس کی دہائیاں فلک تک نہ جاتی ہوں۔ مگر حکمراں طبقہ بھلا ان کی فکر کیونکر کرے گا۔ ان کے پاس اس فالتو کام کے لیے فرصت ہی کہاں ہے۔

اب تو صورت حال اس نہج کو پہنچ چکی ہے کہ رات سوئیں تو اگلے روز کوئی چیز کا بھاؤ ملے کچھ پتہ نہیں۔ اور ملے بھی کہ نہیں۔ لوگ اب کن حالوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اس بات کا شاید انھیں اندازہ بھی نہیں۔ اس ٹولے کا اگر کوئی فرد کسی گھر کے دروازے سے ایک بار کان لگا کر اہل خانہ کی باتیں سن لے تو شاید اس کی روح کانپ جائے۔ کہ لوگ کس سطح پر زندہ ہیں۔ مگر وہ ایسا کیوں سوچیں گے؟

نسل در نسل جاری اس استحصال نے عوام کو بھی عادی بنا دیا ہے۔ وہ بھی اب خامشی سے سر نہوڑائے چلتے رہتے ہیں۔ کبھی زبان نہیں کھولتے کیونکہ وہ جان گئے ہیں کہ:

یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی (فیض)
اور اب صرف اتنا ہی کہتے ہیں کہ جناب جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھا دیں ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments