باشعور اور با اختیار عورت: مستحکم معاشرے کی ضرورت
جرنلزم کی ایک ٹریننگ کے دوران ایک استاد نے مشورہ دیا تھا کہ اگر کبھی نیوز سٹوری نہ مل رہی ہو تو پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر لینا، کئی اہم، توجہ طلب اور زمینی حقائق پر مبنی کہانیاں ملیں گی جن کا براہ رست تعلق ہماری روزمرہ کی زندگی سے ہو گا، لیکن ہم میڈیا کی ریٹنگ، پوائنٹ اسکورنگ اور بریکنگ نیوز کی ہلچل میں انہیں نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یہ کہانیاں، مسائل اور اسٹوریز عام انسانوں کی ہوتی ہیں جو اپنی آواز نہیں اٹھا سکتے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں سے میرے پاس بھی کوئی ایسا موضوع نہیں تھا جس پر کچھ لکھ سکتا، پھر اس استاد کی ہدایات پر عمل کیا اور ایک عرصے بعد بس میں سفر کیا۔ بس میں بیٹھ ہی تھا کہ فوراً سیٹ مل گئی تھوڑی دیر کے بعد مردوں کی سیٹیں فل ہو گئیں تو لیڈیز کمپارٹمنٹ میں چند سیٹیں فل ہو گئیں تو کئی خواتین کو کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑا۔
پڑھنے اور سننے میں یہ ایک عام سی بات لگتی ہے لیکن یہ ایک بنیادی، ضروری اور قابل توجہ مسئلہ ہے جس کا ہر روز ہزاروں خواتین کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ دن بھر کے کام کاج کے بعد دشوار اور کٹھن سفر کر کے اپنے گھروں میں پہنچتی ہیں۔ مرد حضرات موٹرسائیکل پر دو یا تین بھی سوار ہو کر سفر کرلیتے ہیں لیکن خواتین کے لئے اپنی کوئی ایسے سستے سفر کا بندوبست نہیں ہوتا ہے۔
کراچی جیسے شہر میں جہاں خواتین کی بڑی تعداد عام، معمولی اور لو پروفائل جاب کرتی ہیں، جو نہ پڑھی لکھی ہونے، Tech User نہ ہونے کی وجہ ایسی سہولتوں سے مستفید نہیں ہو سکتیں، جو نہ آٹو رکشہ، کریم، وین سروس، بائیکا اور اوبر جیسی سروسز کو افورڈ نہیں کر سکتیں۔ ان میں بے شمار ایسی لڑکیاں بھی ہیں جو اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ چھوٹی موٹی نوکری کر کے اپنی تعلیم مکمل کر رہی ہیں۔ یہ خواتین ٹیکنالوجی کے استعمال سے نا واقف ہوتی ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی کوئی ڈیجٹل اسکلز ہوتی ہے۔ اس کے باوجود یہ زندگی کا پہیہ رواں رکھنے کے لئے گھر سے باہر نکلتی ہیں۔
حکومتی سطح پر سستی اور مناسب اور خاطر خواہ کوئی ایسی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ (تاہم اس ضمن اب کچھ سروسز متعارف کروائی جا رہی ہیں جو خوش آئندہ ہیں ) جو پرائیویٹ بسیں ہیں بھی ان کی تعداد کم ہے جس پر ایک اور ظلم یہ کہ ان میں خواتین کے لئے سیٹوں کی تعداد بھی کم ہے۔ اکثر اوقات خواتین کو بسوں میں کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم اور غور طلب موضوع ہے جس پر مین اسٹریم میڈیا کو مزید کام کرنا چاہے اور ان خواتین کے تاثرات جاننے کی کوشش کرنی چاہے تاکہ حکومت کی اس جانب توجہ مبذول کروائی جا سکے۔
ہمارے معاشرے کی بدقسمتی ہے کہ ہم پہلے خود اپنے مسائل پر توجہ نہیں دیتے اور جب مسائل حد سے زیادہ بڑھ جائیں اور متاثرین اس سلسلے میں آواز اٹھائیں اور اپنے حق کے لیے احتجاج کریں تو ہمیں ان کے مطالبات پر شک ہونے لگتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جب ہمارے معاشرے میں خواتین کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے اور وہ معاشرے کے ہر میدان میں نمایاں حصہ ادا کر رہی ہیں تو پھر ہمیں یہ ماننے سے انکار کر رہے ہیں عورت کی خودمختاری دراصل معاشرے کے استحکام اور توازن کے لئے انتہائی ناگزیر ہے۔
آج کے تیز رفتار اور معاشی ضرورتوں سے بھرپور معاشرے میں معاشی، سماجی اور تعلیمی و شعوری طور پر عورت کی آزادی نہایت اہم ہے۔
فرد، خاندان اور معاشرے کی بقا، خوبصورتی اور خوشحالی کے لئے عورت کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنا ضروری ہے۔
اس لیے ہمیں کسی قسم کے مخصوص، دنوں، نعروں، احتجاجوں اور مطالبات کی ضرورت نہیں پیش آنی چاہے بلکہ اس احساس اور شعور کی ضرورت ہے کہ جہاں، مفلوج، تنگ ذہن اور پست سوچ کی بے بس خواتین، باشعور، مہذب اور باکردار مرد نہیں پیدا کرتی اور نہ ان کی تربیت کرتی ہیں بلکہ وہ ایسے ہجوم کو پالتی ہیں جو جذبات، احساسات اور شعور سے عاری ہوتا ہے تو ایسے ہجوم میں حقوق اور فرائض کی نہیں بلکہ طاقتور کی مرضی چلتی ہے۔ اگر ہم ایک متوازن، باشعور اور مستحکم معاشرے کا قیام چاہتے ہیں تو ہمیں عورتوں کو باشعور اور با اختیار عورت بنانا اور قبول کرنا ہو گا۔


