اسوہ گرلز پبلک اسکول اینڈ کالج
گلگت بلتستان کا اطراف کوہ ہندوکش کے سلسلوں سے نہ صرف جڑا ہوا ہے بلکہ قدیم تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا بھی حامل ہے۔ بلتی اور شینا زبانیں قیام پاکستان سے قبل کی بنیادی پہچان تھیں۔ آج یہ خطہ دس لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے اور چار اضلاع یعنی سکردو، خپلو، کھرمنک، شوگر پر مشتمل ہے۔ اگر ہم جغرافیائی اعتبار سے دیکھے تو یہ خطہ سطح سمندر سے آٹھ ہزار فٹ کی بلندی اور دس ہزار ایک سو اٹھارہ مربع میل پر پھیلا ہوا ایک خوب صورت علاقہ ہے جو فلک بوس پہاڑوں، ٹھنڈے اور گرم چشموں، خوب صورت جھیلوں، سرسبز و شاداب میدانوں، بلند و بالا پہاڑوں اور وسیع و عریض گلیشیئروں پر مشتمل ہے جو ایک عرصے تک مختلف ناموں بلور، پلولو، تبت خورد، بیالتی، بلتی یول، ننگ گون سے جانا جاتا رہا اور رفتہ رفتہ اس علاقے کا مستقل نام *بلتستان* پڑ گیا جو کہ فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی بلتیوں کے رہنے کی جگہ ہے۔
بلتستان کا دارالخلافہ ”*سکردو*“ ہے یہ تجارتی و مرکزی شہر ہونے کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی حوالوں سے اہم ہے ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ یہ بلتستان کا تجارتی و تعلیمی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں سے رابطے کا واحد ذریعہ بھی ہے۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ ماضی میں بھی سکردو مرکز کی حیثیت سے مشہور رہا ہے یہاں بے شمار تہذیبی و ثقافتی آثار /نشانیاں اب بھی موجود ہیں جن میں قلعہ کھرپوچو، پولو گروانڈ، بدھا راک، غبیارسہ، سدپارہ جھیل، کچورا جھیل، کتپناہ جھیل وغیرہ سر فہرست ہیں۔
سکردو کے جنوب میں 28 ہزار فٹ کی بلندی پر مشتمل سطح مرتفع دیوسائی ”غیبارسہ“ ہے جیسے ”The Roof Of The World“ کہا جاتا ہے۔ جبکہ شمال میں بلتستان کا عظیم قلعہ کھرپوچو ہے جو ایک بلند پہاڑی کی عمودی چٹان پر اپنے سینے میں بے شمار تہذیبی و ثقافتی اور تاریخی واقعات پوشیدہ کیے ہوئے خاموش کھڑا ہے۔ یہ عمارت
( 1490 تا 1515 ) کے درمیان مقپون بوخا کے عہد میں تعمیر ہوئی اور فاتح بلتستان علی شیر خان انچن نے اسے مزید وسعت دی۔ اس قلعے سے ہماری ہزاروں یادیں وابستہ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مقپون راجا ظفر خان ( 1765 تا 1772 ) کے دور میں قلعہ کھرپوچو کی سات منزلہ عمارت میں آگ لگنے کی وجہ سے شاہی کتب خانہ جل گیا اور بیش بہا ادبی شہ پارے نذر آتش ہوئے اور ہم افسوس صد افسوس کے ساتھ کہنے پر مجبور ہیں کہ بچا کچھا مواد اپنوں ہی کے سازش اور مخبری کی وجہ سے 1840 ٔ میں ڈوگرہ سامراج کی ظالمانہ یلغار کے ساتھ جلاوٴ گھراوٴ کر کے ختم کر دیا گیا اور یوں ہماری تمام تاریخی، مذہبی اور ادبی کتب اور کتب خانے کی آخری نشانی بھی ختم ہو گئی۔ بقول شاعر
” اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ “
یوں تو بلتستان کو اپنے کئی محسنوں پر ناز ہے ان میں سے ایک محسن ایسا ہے جنہوں نے تعلیمی میدان کا انتخاب کیا ہے میں جس ہستی کی طرف اشارہ کرنے جا رہا ہوں وہ ہستی اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ جنہوں نے بلتستان جیسے دور افتادہ علاقے میں علم کی شمع فروزاں کرنے کے لیے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ عظیم ہستی علامہ شیخ محسن نجفی صاحب ہیں جیسے پورا خطہ محسن گلگت بلتستان کے نام سے جانتا ہے۔ علامہ صاحب کی نمایاں خدمات میں ایک عظیم احسان
” اسوہ ایجوکیشن سسٹم“ بھی ہے۔ شیخ محسن صاحب نے نہ صرف گلگت بلتستان میں بلکہ پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی جدید تعلیم کا سلسلہ قائم کیا جنھیں اسلامی اقدار کی روشنی میں نہ صرف طلبا بلکہ طالبات کے لیے بھی ادارے قائم کیے۔
قلعہ کھرپوچو کے دامن میں اور نہر گنگوپی کے عقب میں ایک تعلیمی ادارہ جس میں تقریباً تین ہزار سے زائد طالبات تعلیم حاصل کر رہی ہیں اس ادارے کا نام ہے
” اسوہ گرلز پبلک اسکول اینڈ کالج“
یہ تعلیمی ادارہ پچھلے تیس سالوں سے بلتستان میں کٹھن و ریگزار راہوں سے گزرتے ہوئے مسلسل اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہ ادارہ اپنی انفرادیت کے باعث سب سے اہم ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔ والدین نیک تمناوٴں کے ساتھ اسوہ گرلز میں اپنی بچیوں کے داخلے کو کامیابی کی اعلیٰ ضمانت گردانتے ہیں۔ چنانچہ اس ادارے سے فارغ التحصیل طالبات ملک کے دیگر جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے میڈیکل، انجینئرنگ اور سوشل سائنس وغیرہ میں سند حاصل کر کے گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
واضح رہے پچھلے تین سالوں سے اسوہ گرلز کالج سے میڈیکل سیٹ پہ سب سے زیادہ بچیاں جا رہی ہیں شاید اتنی بچیاں پاکستان کے کسی بھی ادارے سے اب تک نہیں گئی۔ اسوہ گرلز کالج میں طالبات کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی ماحول میں خاص تربیت بھی دی جاتی ہے۔ اسٹوڈنٹ کے لیے ادارے میں حالات اور مناسبات کے مطابق وقتاً فوقتاً نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیاں بھی منعقد کرتے رہتے ہیں ان سرگرمیوں کی وجہ سے اسٹوڈنٹ میں چھپی ہوئی صلاحیتوں ابھر کر سامنے آتی ہے۔ آج الحمدللہ اسوہ گرلز کالج کی طالبات بہت ہی خوبصورت ادبی، تاریخی، سماجی، مذہبی، ثقافتی و تہذیبی اور سائنسی موضوعات پر آرٹیکل لکھتی ہیں اور وہ مقامی اخبارات میں چھپتے رہتے ہیں۔
یہ بات طے ہے کہ کالج کا نام بلند کرنے، تعلیم و تربیت اور چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے میں ادارے کے تمام اساتذہ کرام کا بہت ہی بڑا اور اہم کردار ادا ہوتا ہے۔
کوئی بھی ادارہ ہو وہ یقیناً ایک گھر کی مانند ہوتا ہے اور جب تک گھر کے تمام افراد اپنے گھر کے ساتھ مخلص نہ ہو جائے اس وقت تک گھر کی تعمیر و ترقی ممکن نہیں۔ گھر کی ترقی تمام افراد سے جڑی ہوتی ہے اور تمام افراد کو انتہائی نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے بصورت دیگر ترقی ممکن نہیں ہے۔ یہی حال اداروں کا بھی ہوتا ہے ”اسوہ گرلز پبلک اسکول اینڈ کالج“ کی تعمیر و ترقی میں بھی تمام اساتذہ کرام، پرنسپل، وائس پرنسپل اور دیگر ملازمین کی انتھک محنت اور کاوشیں شامل ہیں۔ اسی وجہ سے الحمدللہ اسوہ گرلز کالج بہترین تعلیم کے ساتھ ساتھ اسٹوڈنٹ کی تربیت سازی کے حوالے سے منفرد تعلیمی ادارہ ہے۔
میں رب متعال سے دعاگو ہوں کہ اسوہ گرلز پبلک اسکول اینڈ کالج کا یہ شاندار تعلیمی سفر ہمیشہ جاری و ساری رہے۔ آمین۔


