عورتوں نے ووٹ کا حق کیسے حاصل کیا؟


اقتصادی نظام بدلتے رہے ہیں اور ان کے ساتھ انسانی سوچ، اقدار اور سیاسی و سماجی بندوبست بھی ارتقاء سے گزرتے آئے ہیں۔ سولہویں اور سترہویں صدی میں یورپی اقوام میں سرمایہ داری نظام کا آغاز ہوا اگلے ڈیڑھ سو سال میں انگلستان اور پھر فرانس اور جرمنی میں آگے پیچھے صنعتی انقلاب برپا ہو گئے۔ صنعتی ترقی نے کروڑوں انسانوں کو ان کی مرضی کے خلاف گاؤں دیہات سے نکال کر شہروں میں پہنچا دیا۔ نئے مسائل ابھرے ان سے نبرد آزما ہونے کے لئے نت نئے نظریات سامنے آئے۔

بادشاہت کی جگہ جمہوری طریقے سے اپنے حکمران چننے کا نظام اسی دور کا ورثہ ہے۔ تحریر شدہ آئین اور ان میں درج قوانین کی اہمیت تبھی اجاگر ہوئی۔ پارلیمان، عدلیہ، انتظامیہ نامی ریاست کے تین باقاعدہ ستونوں کے مابین اختیارات کے توازن اور غیر باقاعدہ ستون یعنی صحافت جسے معاشرے کا ضمیر بھی کہا جاتا ہے کی بنیادیں اس وقت کی میراث ہیں۔ اس سارے عمل میں طاقتور ترین اقوام کی صنف نازک کہلانے والی آدھی آبادی کو بہت سے معاملات میں پسماندہ رکھا گیا اور ابھی بھی ایسا ہی ہے لیکن پھر انہوں نے خود کو مردوں کی طرح انسان ثابت کرنے اور مساوی حقوق کے لئے بڑی جدوجہد کی۔ ووٹ کا حق ایسی ہی ایک تابناک کاوش کی داستان ہے جو مختلف بڑے ممالک میں آگے پیچھے ایک ہی دور میں رقم ہوئی۔

برطانیہ

سنہ 1800ء میں ووٹ کو ہر انسان کا حق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ حق رائے دہی صرف امیر اور صاحب جائیداد افراد تک محدود تھا اس کے علاوہ ووٹر کا مرد ہونا بھی ضروری تھا اس صدی میں کئی انتخابی اصلاحات ہوئیں۔ 1900ء تک تقریباً تمام کام کرنے والے مرد ووٹ دینے کے اہل ہو گئے۔ عورتوں نے ووٹ کا حق مانگنے کے لئے تحریک کا آغاز کیا جسے شدید ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

عورت کے ووٹ کے خلاف سب سے نمایاں شخصیت تو خود اس وقت کی ملکہ وکٹوریہ تھیں جو فرماتی تھیں کہ ووٹ کا حق ملنے سے عورت نوع انسانی میں سب سے قابل نفرت، سنگدل اور کریہہ وجود بن جائے گی اور اس تحفظ کو کھو بیٹھے گی جو مرد اسے ایک کمزور ہستی سمجھ کر دیتا آیا ہے۔

کچھ دلائل یہ بھی تھے کہ:
عورت کا کام گھر سنبھالنا اور بچے پالنا ہے۔ بحث مباحثہ اور مشکل فیصلے کرنا مردوں کو ہی جچتا ہے۔

ووٹ کے حق کی تحریک امیر عورتوں کا چونچلا ہے جو عیش و آرام کی عادی ہیں۔ انہیں نہ عام عورت سے کوئی دلچسپی ہے نہ وہ اس کی کوئی مدد کریں گی۔

عورتیں قوم پرستی اور حب الوطنی سے نابلد ہیں۔ ووٹ کے معاملے پر اتنی جذباتی مخلوق پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔

خاندانی عورت کو ایک دفعہ ووٹ کا حق مل گیا تو وہ اپنی اصل ذمہ داریاں بھول جائے گی۔ پھر صرف نچلے طبقہ کی عورتیں بچے پیدا کریں گی۔

عورت کے ووٹ کا فضول شوشہ اس لیے چھوڑا گیا ہے تاکہ اہم ترین مسائل یعنی آئرلینڈ اور ٹریڈ یونین سے توجہ ہٹائی جا سکے۔

عورتیں جنگ نہیں لڑتیں وغیرہ وغیرہ

انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے شروع میں رائے عامہ عورتوں کے حق رائے دہی کے بالکل خلاف تھی۔ پھر بھی عورتوں نے مسلسل مظاہرے، بھوک ہڑتال اور ایجی ٹیشن جاری رکھے۔ انہیں سڑکوں پر مارا پیٹا گیا اور جیلوں میں ٹھونسا گیا۔ 1914ء میں جنگ عظیم اول شروع ہوئی تو ان مظاہروں پر پابندی لگ گئی۔ اس دوران جنگی صنعتوں سمیت ہر شعبۂ زندگی میں خواتین داخل ہو چکی تھیں۔ ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی تھی کہ فروری 1918ء میں پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے برطانیہ میں پہلی مرتبہ عورت کے اس حق کو تسلیم کر لیا گیا۔ گو ابتدائی طور پر یہ حق صرف تیس سال سے اوپر کی ان عورتوں کو دیا گیا جو خود یا جن کے شوہر طے شدہ جائیداد کے مالک تھے۔

1928ء میں مساوی حق رائے دہی بنا کر عمر کی یہ حد کم کر کے 21 سال کردی گئی۔
امریکہ

انیسویں صدی میں امریکہ میں عورتوں کے متعلق جو قدامت پسندانہ تصورات عام تھے۔ انہیں ”گھریلو پن یا اصل نسوانیت کا کلچر“ کہا جاتا ہے۔ اس کلچر میں ایک مثالی عورت چار خصوصیات کی حامل تھی:

الف۔ مذہب و تقوی کی طرف بہت زیادہ جھکاؤ اور جدید تعلیم سے گریز۔
ب۔ پاکیزگی اور زندگی شوہر کے نام وقف کرنے کا تصور
ج۔ شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری

د۔ گھر گرہستی۔ کھانا پکانا، سینا پرونا، بستر ٹھیک کرنا اور پھول سجانا فطری طور پر نسوانی سرگرمیاں ہیں۔

امریکہ میں جب عورتوں نے ووٹ کا مطالبہ کیا تو مخالفین نے اس کے جواب میں پانچ دلائل پیش کیے :
ووٹ ڈالنے کی ذہنی مشقت سے وہ بانجھ ہوجائیں گی۔
عورتوں کے دماغ مردوں سے کمزور ہیں اس لیے وہ انتخابات میں شرکت کی اہل نہیں۔
عورتوں کی اکثریت ووٹ دینا ہی نہیں چاہتی۔
عورتیں ووٹنگ کے چکر میں گھر بار خاندان بھلا بیٹھیں گی۔ معاشرہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔
عورتیں بہت سیدھی سادی ہیں۔ سیاست کی گندگی سے انہیں دور ہی رکھا جائے۔

امریکہ میں ان دنوں چونکہ غلامی ختم کرنے کی تحریک بھی زوروں پر تھی جبکہ سیاہ فاموں کے خلاف نسل پرستی کی بنیادیں بھی بہت گہری تھیں اس لئے ووٹ کے لئے چلائی جانے والی تحریک دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک رجحان سفید فام برتری کا حامی تھا جبکہ دوسرا سیاہ فام خواتین کو بھی حقوق دینے کے حق میں تھا۔ ڈیڑھ سو سال تک چلنے والی ان تحریکوں میں عورتوں کو زبردست جبر کا سامنا کرنا پڑا بالآخر 1919ء میں امریکی آئین میں انیسویں ترمیم کر کے پہلی دفعہ خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا لیکن یہ حق صرف سفید فام عورت کے لئے تھا۔ امریکہ میں تمام بالغ عورتوں کو ووٹ کا حق 1965ء میں نصیب ہوا۔

روس

انیسویں صدی کے وسط سے روس میں کئی قسم کی زار مخالف تحریکیں چل رہی تھیں جن میں ”عورتوں کا سوال“ مرکزی اہمیت کا حامل تھا۔ مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ 1917ء کے بالشویک انقلاب کا نکتۂ آغاز 8 مارچ کو ہونے والا عورت مارچ ہی تھا۔

انقلابی حکومت نے اگلے ہی سال فیملی کوڈ کا اعلان کر کے مرد و زن کو مساوی قرار دے دیا۔ اس لحاظ سے یہ خطۂ ارض دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔

اگر ہم عورتوں کے حق رائے دہی کی ٹائم لائن دیکھیں تو حیرتناک انکشاف ہوتا ہے کہ جہاں سعودی عرب میں ابنات کو یہ حق 2015ء میں دیا گیا وہیں پچھلے سال طالبان کے افغانستان میں غالب ہونے کے بعد یہ حق ان سے چھن چکا ہے۔ کیسی المناک تاریخی حقیقت ہے کہ افغان بادشاہ امان اللہ نے جب ایک سو سال پہلے عورتوں کو ووٹ کا حق دینے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت بنت مغرب کی بڑی اکثریت اس سے محروم تھی۔ اس تکلیف دہ حقیقت سے سبق ملتا ہے کہ عوامی حقوق کے حصول کی جدوجہد کے ساتھ حاصل شدہ حقوق کی حفاظت کے لئے بیدار، ہوشیار اور متحرک رہنا بھی بہت اہم ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments