خواتین کے لئے مساوی حقوق کی جد و جہد کو درپیش خطرات


اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ہم نے دہائیوں کی جد و جہد اور کوششوں کے بعد اس شعبہ میں جو کامیابیاں حاصل کی تھیں، اب ان میں تنزلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ خواتین کو ہر شعبہ اور خاص طور سے جدید ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بھی امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ سیکرٹری جنرل نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا کہ دنیا میں مکمل صنفی مساوات کے لئے شاید مزید تین صدی تک انتظار کرنا پڑے۔

دنیا بھر میں 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کے حوالے سے لوگوں میں شعور پیدا کرنے اور خواتین کے لئے حالات کار بہتر بنانے کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس دن کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کے بارے میں پائے جانے والے تعصبات کو سامنے لانا ہوتا ہے تاکہ خواتین کے لئے بہتر ماحول پیدا ہو سکے اور معاشروں میں سب کے لئے مساوی حقوق کے مواقع پیدا ہوں۔ البتہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئیتریس اس وقت دنیا میں پائی جانے والی صورت حال سے مطمئن نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو دنیا میں صنفی امتیاز ختم کر کے ایسا ماحول پیدا کرنے میں مزید تین سو سال لگ سکتے ہیں جہاں کسی صنفی امتیاز کے بغیر ہر جنس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مساوی مواقع مل سکیں۔

انتونیو گوئیتریس نے دنیا بھر میں عورتوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق سلب کیے جاتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ زچگی کے دوران اموات، بچیوں کے اسکول جانے پر پابندی، بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی خواتین کے لئے کام کے مسائل کے علاوہ کم عمری میں شادیاں اہم ترین چیلنجز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم نے دہائیوں میں ان شعبوں میں جو کامیابیاں حاصل کی تھیں، وہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اوجھل ہو رہی ہیں۔ افغانستان کو دیکھ لیجیے جہاں خواتین کو پبلک لائف سے غائب کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدیوں پرانے پدر سری نظام کی موجودگی، خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور متعصبانہ نظریات کی وجہ سے خواتین کو ہر شعبہ میں مشکلات کا سامنا ہے لیکن اب ہم یہ صورت حال سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بھی ملاحظہ کر رہے ہیں۔ مشہور زمانہ نوبل انعام جیتنے والے لوگوں میں خواتین صرف تین فیصد ہوتی ہیں۔ اسی سے خواتین کے خلاف تعصب و امتیازی سلوک کی صورت حال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اپیل کی ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں، سول سوسائٹی اور نجی شعبہ کو صنفی تعصب کے خلاف تعلیم کو فروغ دینے، خواتین کی صلاحیتوں میں اضافہ کے پروگرام شروع کرنے اور شعبہ ہائے زندگی میں صنفی تقسیم کم کرنے کے لئے کام کرنا ہو گا۔ پدر سری نظام ایک بار پھر مزاحمت کر رہا ہے لیکن ہمیں اس مزاحمت کو شکست دینا ہے۔ اقوام متحدہ دنیا کے ہر حصے میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

سیکرٹری جنرل کا یہ انتباہ بے بنیاد نہیں ہے۔ خواتین کے حقوق عام طور سے چیلنج ہو رہے ہیں اور ایسی قوتوں کو کمزور کرنے کا کوئی واضح میکنزم موجود نہیں ہے۔ صدیوں سے مردوں نے سماجی نظام کو اپنی دسترس میں رکھا ہے۔ البتہ تعلیم کی فراوانی کے علاوہ سائنس و ٹیکنا لوجی میں ترقی کی وجہ سے امید باندھی جا رہی تھی کہ اب یہ صورت حال تبدیل ہوگی اور شعور و آگاہی عام ہونے سے خواتین کو معاشروں میں ان کا جائز اور مساوی مقام مل سکے گا لیکن اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی باتیں اور اس عالمی ادارے کے فراہم کردہ اعداد و شمار سے اندازہ ہو تا ہے کہ خواتین کے مساوی مواقع کے امکانات کم ہوئے ہیں اور جن شعبوں سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اس حوالے سے بنیادی کردار ادا کریں گے، ان شعبوں میں بھی خواتین کو مساوی مواقع حاصل نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا یہ انتباہ افسوسناک ہے کہ مساوی صنفی حقوق کی جد و جہد کو کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لئے مزید کئی صدیاں درکار ہوں گی۔ اس کی ایک وجہ تو جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں خواتین کو لاحق مشکلات ہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی اطلاع کے مطابق ’مصنوعی ذہانت‘ کے شعبہ میں عالمگیر طور پر صرف 22 فیصد خواتین کام کرتی ہیں۔ اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک میں 133 صنعتوں کے ایک جائزہ میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ اس شعبہ میں چوالیس فیصد اداروں میں متعصبانہ رویے روا رکھے جاتے ہیں۔ یعنی خواتین کو محض ان کی صنف کی وجہ سے کام دینے سے انکار کیا جاتا ہے یا ان کے لئے حالات کار مشکل بنائے جاتے ہیں تاکہ ان کی حوصلہ شکنی ہو۔

اقوام متحدہ کے مطابق 125 ملکوں کے صحافیوں میں لئے جانے والے ایک سروے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ 73 فیصد خاتون صحافیوں کو اپنے کام کے حوالے سے آن لائن تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یعنی اگر کوئی مرد یا خاتون ایک سی رپورٹ فائل کرتے ہیں تو کسی خاتون صحافی کو ہراساں کرنے یا اس کے ساتھ برے سلوک کا امکان کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل معاشروں میں پائے جانے والے عمومی تعصبات اور خواتین کو کم تر اور کم عقل سمجھنے کے عمومی مزاج کا پرتو ہے۔ گویا جو کام کسی مرد کے ہاتھوں انجام پائے تو اس میں تو برائی یا کمی تلاش نہیں کی جاتی لیکن اسی کام کو کوئی عورت کرے تو اس میں مین میخ نکالی جاتی ہے۔ اگر صحافت جیسے شعبہ میں صنفی بنیاد پر تعصب کی یہ صورت حال موجود ہے تو دیگر شعبوں میں اس کی شدت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ بیشتر ممالک کا نظام تعلیم صنفی مساوات کے حوالے سے مناسب تعلیم دینے اور طالب علموں کی ذہنی پرداخت میں کامیاب نہیں ہے۔

اس حوالے سے اگر پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ خواتین کو دبانے اور انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے کے لئے مذہب کو ہتھکنڈے کے طور استعمال کیا جاتا ہے۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوئیتریس نے جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر میں اس کا حوالہ بھی دیا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت نے خواتین کو حقوق سے محروم کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ طالبان لیڈر اپنے ان سماج دشمن اقدامات کو درست ثابت کرنے کے لئے مذہبی احکامات و تعلیمات کا حوالہ دیتے ہیں۔ اس کے بعد سماجی رسوم و رواج کی آڑ میں عورتوں کو مرد کا زیر نگیں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نائن الیون کے بعد افغانستان میں قائم کی جانے والی حکومتوں نے خواتین کو تعلیم اور کام کے جو مواقع فراہم کیے تھے، طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد انہیں ختم کر دیا ہے۔ حالانکہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے دوحہ معاہدے میں طالبان لیڈروں نے خواتین کی تعلیم اور سماجی رتبے کے حوالے سے یقین دہانیاں کروائی تھیں۔ افغانستان میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے خواتین کے لئے بند کر دیے گئے ہیں اور ان کی انفرادی آزادیوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ یعنی خواتین کے کام کرنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور انہیں محرم کے بغیر گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح ان کے لئے رجعت پسندانہ ڈریس کوڈ تجویز کیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو ریاستی ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کچھ ایسی ہی صورت حال ایران میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ گزشتہ ستمبر میں مناسب طریقے سے حجاب نہ پہننے پر ایک نوجوان لڑکی کو نام نہاد اخلاقی پولیس نے تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔ اس ناجائز ہلاکت کے خلاف ایران کی خواتین نے گزشتہ چند ماہ کے دوران منظم احتجاج کیا ہے اور ایرانی حکومت کی پابندیوں کو مسترد کیا جا رہا ہے۔ اس احتجاج میں کئی سو لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں اور سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں مذہب سے بغاوت کے الزام میں مختصر المدت نام نہاد عدالتی کارروائی کر کے پھانسی کی سزا دی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے ایران کو اقوام متحدہ میں خواتین کے مساوی حقوق کمیشن کی رکنیت سے بھی محروم کر دیا گیا تھا۔ تاہم مذہبی لیڈروں کی حکومت ابھی تک طاقت کے زور پر عوامی احتجاج کو کچلنا چاہتی ہے اور خواتین کو معاشرے کا مساوی حصہ سمجھنے سے انکار کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں اگرچہ صورت حال افغانستان اور ایران جتنی سنگین تو نہیں ہے لیکن یہاں بھی مذہب کو خواتین کے حقوق سلب کرنے کے لئے عذر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو شریعت کے نام پر لڑکیوں کے تعلیم اور کام کے حق کے خلاف دلیل دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں تو پاکستان میں عمومی طور سے تمام لوگوں کو مسائل کا سامنا ہے اور ریاست اپنی آبادی کے بنیادی حقوق کی ضمانت دینے میں ناکام ہے لیکن خاص طور سے عورتوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سماجی دباؤ اور معاشی مشکلات کی وجہ سے والدین کی ترجیح ہوتی ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم دلانے کی بجائے ان کی کم عمری ہی میں شادی کردی جائے۔ اس حوالے سے عمر کی مقررہ حد کی خلاف ورزی دیکھنے میں آتی ہے لیکن کوئی سرکاری ادارہ اس کا نوٹس لینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ آج ہی وفاقی شرعی عدالت نے شادی کے لئے کم از کم عمر مقرر کرنے کے قانون کو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انتظامیہ کو اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنا چاہیے۔ لیکن سماجی تعصبات کی وجہ سے ملکی نظام انصاف بھی عورتوں کے حقوق کی حفاظت میں ناکام رہتا ہے۔

ہر سال 8 مارچ کو یوم خواتین کے موقع پر عورت مارچ نکالنے کی ایک روایت کا آغاز ہوا تھا لیکن رجعت پسند قوتیں مذہب اور سماجی روایات پر حملہ قرار دے کر ایسے مظاہروں کے خلاف نفرت پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ حتی کہ اس سال لاہور میں انتظامیہ نے محض اس عذر پر عورت مارچ کا جلوس نکالنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا کہ اس کے مخالف گروہ کی جانب سے تشدد اور بدامنی کا خطرہ ہے۔ یعنی انتظامیہ قانون شکنوں کی سرکوبی کی بجائے خواتین کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو ہی معتوب کرنا چاہ رہی تھی۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد ڈپٹی کمشنر لاہور نے عورت مارچ کے منتظمین کے ساتھ مل کر جلوس اور احتجاجی مظاہرے کا شیڈول طے کیا ہے۔

اس قسم کے واقعات البتہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اس اندیشے کی تائید کرتے ہیں کہ معاشروں میں خواتین کے مساوی حقوق کی جد و جہد کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ان سے نمٹنے کے لئے ہر سطح پر آگاہی اور مزاحمت منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ عورت مارچ ایسی محض ایک تحریک کا نام ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali