جمہوریت میں بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے
شعر اگرچہ غالب کا ہرگز نہیں ہے تاہم غالب گمان یہی ہے کہ اس شعر میں ”تولنے“ والی بات شاعر نے صرف وزن پورا کرنے کے لیے کی ہے ورنہ جمہوریت کی تعریف تو ”بندوں کو گنا کرتے ہیں“ پرہی مکمل ہو چکی تھی۔ حقیقت یہی ہے کہ جمہوریت اعداد و شمار کی جادوگری ہے ( اگر آپ تکلف کے قائل نہیں اور اس سے کام نہیں لینا چاہتے تو بلا جھجک، جادوگری کی جگہ ”گورکھ دھندا“ کی اصطلاح استعمال کر سکتے ہیں ) ۔ گنتی یا تعداد کی حیثیت جمہوریت میں ریڑھ کی ہڈی کی سی ہوتی ہے لیکن ستم یہ ہے کہ اگر اکثریت آپ کے حق میں ہے تو آپ منتخب اور اگر آپ کے خلاف ہے تو بھی آپ ہی منتخب!
بلا شبہ یہ کمال صرف جمہوریت میں ہو سکتا ہے، یعنی کسی حلقے میں اگر تیرہ ہزار ووٹر ہوں اور انتخابات میں تین امیدوار اٹھ کھڑے ہوں، دو امیدواروں کو ملیں چار، چار ہزار ووٹ تو تیسرا امیدوار جیت جاتا ہے، جسے پانچ ہزار ووٹ مل جائیں اور اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی کہ حلقے میں آٹھ ہزار ووٹر اسے ناپسند کرتے ہیں اور اسے رد کر چکے ہیں، ”پنج ہزاری“ امیدوار خوشی سے پھولے نہیں سماتا اور جیت کا جشن مناتا ہے اور لے دے کے بات وہیں آجاتی ہے کہ اہمیت تعداد کی ہے ووٹوں یا عوامی رائے کی نہیں۔
جمہوریت کی تعریف کی بات کریں تو اس کی سب سے مختصر اور جامع تعریف امریکی صدر ابراہم لنکن کر گئے تھے جنہوں نے اسے ”عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے“ قرار دیا تھا۔ زمانہ طالب علمی میں جمہوریت کی یہ تعریف ہمیں بڑی پسند رہی جس کی اصل وجہ یہ تھی کہ اسے یاد رکھنا بہت آسان تھا لیکن ہمارے اکثر حکمرانوں کو یہ تعریف قطعاً نہ بھائی جس کی وجہ بظاہر یہی معلوم ہوتی ہے کہ اسے بھلا دینا بھی خاصا مشکل ہے۔ مگر آج جب ہم اس تعریف پر غور کرتے ہیں تو ہمیں امریکی صدر کی معصومیت پر بڑا ترس آتا ہے۔
اگر انفرادی طور پر اپنی بات کروں تو بھلا خود پر حکومت کرنے کے لیے میں خود کو ووٹ دے کر خود اپنا حکمران منتخب کروں بھی تو آخر کیوں؟ ہمارے سیاستدانوں نے البتہ اس سوال کو اجتماعی طور پر اور بڑی سنجیدگی سے لیا، اس پر خوب، خوب غور فرمایا اور اس مسئلے کا حل کچھ اس طرح ڈھونڈ نکالا کہ تکنیکی طور پر اصل تعریف میں دو جگہ سے عوام کو عملاً بے دخل کرتے ہوئے پاکستان کے لیے جمہوریت کی ایک نئی تعریف وضع کر ڈالی یعنی ”خواص کی حکومت، عوام کے ذریعے، دوام کے لیے“ ۔
اسی لیے ہمارے یہاں پائی جانے والی جمہوریت، دنیا کے باقی ماندہ ممالک میں پائی جانے والی جمہوریتوں سے قدرے مختلف ہوتی ہے۔ ہر جگہ پہلے الیکشن ہوتے ہیں اور پھر ان کے نتائج کی بنیاد پر جیتنے والی جماعت کو حکومت سازی کا موقع ملتا ہے جبکہ ہمارے یہاں پہلے حکومت کے لیے جماعت کو چن لیا جاتا ہے اس کے بعد اسے جتوانے کے لیے انتخابات کا انعقاد کرایا جاتا ہے۔ باقی دنیا سمجھتی ہے کہ جمہوریت ملک و قوم میں ”اسٹیبلشمنٹ“ کے لیے ضروری ہے جبکہ ہمارا پچھتر سالہ تجربہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ”اسٹیبلشمنٹ“ ملک و قوم میں جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔
دیگر جمہوری ملکوں میں منتخب لیڈر کا کردار کافی طاقتور ہوتا ہے جبکہ ہمارے جمہوری تماشے میں اس کا کردار ”بچہ جمہورا“ والا ہوتا ہے۔ دوسرے ملکوں میں جمہوری حکومت، ملک کی باگ ڈور سنبھالتے ہی پہلی فرصت میں عوامی مسائل کی طرف دھیان دیتی ہے جبکہ ہمارے یہاں حلف برداری کے فوراً بعد پہلی توجہ مخالفین کے خلاف پرچے کٹوانے اور مقدمات قائم کرنے پر دی جاتی ہے۔ ہر جگہ ہار جانے والی جماعت اپنی ہار کو تسلیم کر کے جیتنے والی جماعت کو تہنیت کا پیغام بھیجتی ہے ہمارے یہاں ہارنے والی جماعت دھاندلی کا الزام لگا کر انتخابات کو ہی غیر شفاف قرار دے دیتی ہے۔
دوسری جگہوں پر اختلاف کو جمہوریت کا حسن مانا جاتا ہے، حزب اختلاف کی تنقید پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور اس کی مدد سے اپنی پالیسیوں کے سقم دور کیے جاتے ہیں، ہمارے یہاں اختلاف سے حکمرانوں کو غداری کی بو آتی ہے اس لیے حزب اختلاف کو پہلی فرصت میں ”غداروں کا ٹولہ“ قرار دے دیا جاتا ہے۔ دیگر جمہوری ملکوں میں اگر حکومت عوام کی امنگوں اور امیدوں پر پورا نہ اتر سکے تو اسے آئین کے مطابق جمہوری انداز میں فارغ کر دیا جاتا ہے۔
جبکہ ہمارے یہاں اس مقصد کے لیے اگر آئینی طریق کار کو استعمال کر لیا جائے تو اسے ”رجیم چینج“ کی بین الاقوامی سازش سمجھا جاتا ہے۔ (ویسے ”رجیم چینج“ کی یہ اصطلاح بجائے خود ہمیں کافی عجیب لگتی ہے کیونکہ اردو میں اسے لکھتے پڑھتے جانے کیوں ہمارا دماغ تعوذ کے آخری لفظ پر چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے سیاق و سباق کے متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے ) ۔ دوسرے ممالک میں قانون سازی کے وقت تمام تر غور و خوض اور بحث و مباحثہ پارلیمنٹ میں ہوتا ہے لیکن صد شکر کہ ہمارے نمائندے بہرحال اتنے مہذب اور با اخلاق ضرور واقع ہوئے ہیں کہ بحث و مباحثے جیسی ”چھچھوری“ حرکتوں میں ملوث نہیں ہوتے اور خوامخواہ کی تو تکار سے دامن بچاتے ہیں اس لیے رواج یہ ڈالا گیا ہے کہ کسی بھی مسودہ قانون یا بل کو جب حکومت غوروخوض کے لیے پیش کرے تو حزب اختلاف فی الفور اسمبلی سے واک آؤٹ کر دیتی ہے اور پھر حکومت اپنا کام کر گزرے اپنے ہی مجوزہ مسودے کی توثیق کر ڈالے تو اگلے ہی دن یا ممکن ہو تو ٹھیک اسی دن اپوزیشن کی جانب سے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا جاتا ہے۔
اس سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیں اول تو غور و خوض کا تمام تر بوجھ جج صاحبان کے کاندھوں پر منتقل ہو جاتا ہے، دوم بحث مباحثے کا کام وکیل لوگ نمٹاتے رہتے ہیں جو کہ ظاہر ہے زیب بھی انہیں کو دیتا ہے۔ اس طرح نمائندوں کو عوام کی خدمت کے لیے زیادہ وقت میسر آتا ہے اور وہ پانچ سال کا کام محض ڈھائی، تین سال میں نمٹا لیتے ہیں۔ ہمارے یہاں جو اسمبلیاں اکثر اپنی مدت پوری نہیں کر پاتیں اس کا ایک سبب یہ بھی ہے۔ ویسے اس ضمن میں ہمارا ایک معصومانہ مشورہ ہے کہ جس طرح خانگی معاملات کو نمٹانے کے لیے فیملی کورٹس سے کام لیا جاتا ہے تو سیاسی معاملات کو دیکھنے کے لیے ”پولیٹیکل کورٹس“ کے نام سے الگ نظام عدل قائم کر دیا جائے جو درجہ بدرجہ سیاسی مسائل کو نمٹا سکے جیسے کونسلری یا مئیر شپ کا مسئلہ ہو تو پولیٹیکل سیشن کورٹ میں ہی حل ہو جائے، معاملہ وزراء اعلیٰ کے مابین ”میوزیکل چئیر“ کی صورت اختیار کر لے تو پولیٹیکل ہائی کورٹ اسے دیکھ لے اور اگر آئینی، قانونی اور جمہوری طریقے استعمال کر کے کوئی کسی کو وزارت عظمیٰ سے بے دخل کرنے کی ”سازش“ کا ارتکاب کر گزرے تو پولیٹیکل سپریم کورٹ اس سے نپٹ لے۔ شاید اس طرح موجودہ نظام میں کام کرنے والی عدالتوں میں زیر التواء پڑے لاکھوں مقدمات میں سے کچھ کے نمٹ جانے کے آثار پیدا ہوجائیں۔


