عورت جہنم سے کیوں ڈرے؟
گرتی معیشت اور سیاسی عدم استحکام کی اس صورتحال میں گزشتہ سالوں کی نسبت بڑھتی مہنگائی کے ساتھ ساتھ عورت مارچ سے پیدا ہونے والے ”خوف“ میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس کا عملی نمونہ اسلام آباد میں ہونے والے پر تشدد واقعات ہیں۔
اس خوف اور بد حواسی کی کجی کو چھپانے کے لئے اب جہنم اور آگ کا ذکر زور و شور سے جاری ہے کہ کیا ان عورتوں کو جہنم سے ڈر نہیں لگتا؟ کیا ان کے خدا کی کی متعین کردہ حدود نہیں معلوم؟ کیا ان کو پاکستان میں آزادی اور حقوق یکساں میسر نہیں؟ یہ کون سا حق چاہتی ہیں جو اس ملک میں اب تک ان کو حاصل نہیں ہوا؟
یہ سارے گھسے پٹے اور بوسیدہ سوالات میڈیا نمائندوں کا روپ دھارے بعض ڈھونگی یوٹیوبرز کی جانب سے کیے جا رہے تھے۔ یہ وہ طبقہ ہیں جو اپنے بہت تھوڑے سے فائدے کی خاطر کسی بامقصد تحریک کو متنازعہ بنا کر مخصوص ذہنیت کے حامل لوگوں سے خوب داد وصول کرتے ہیں۔
ان کو جینز پہنی عورت عذاب خداوندی کو دعوت دیتی نظر تو آتی ہے مگر سفید اجلے کپڑوں میں ملبوس مرد جب کسی عورت کو ہوس بھری نظروں سے دیکھے تو اس پر کون سی حد مقرر ہونی چاہیے ان کو یہ نہیں معلوم۔
ہاتھوں میں یہودیوں کا بنایا ہوا مائیک تھامے مارچ کے شرکاء کو یہودی ایجنٹ گردانتے گمنام مجاہد جب کسی خواجہ سرا کو خود سے بہتر اور باوقار انداز میں اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھتے ہوئے دیکھتے ہیں تو جذبہ ایمانی جوش مارتا ہے اور ان کو خدا کا عرش کانپتا نظر آتا ہے۔
لیکن اگر وہی عورت یا خواجہ سرا اپنی عزت لٹ جانے پر یا کسی زیادتی یا ظلم کا شکار ہو کر تھانے میں رپورٹ کرنے جائے تو وہاں بھی استحصال ہوتا ہے مگر یہاں ان کو نہ کوئی زلزلہ آتا دکھائی دیتا ہے اور نہ کوئی طوفان۔
اگرچہ اس مارچ میں بھی کچھ بد نظمی اور متنازعہ سوچ کی عکاسی کرتے بینرز دیکھنے میں آئے مگر یہ ہرگز اس مارچ کا مقصد نہیں ہو سکتے۔ یہ بالکل ویسا ہی کہ اگر ممبر پر بیٹھ کر حق اور سچ کی صدا لگاتے مذہبی رہنما سے یا کسی سیاسی جلسے میں پارٹی کے عہدیدار سے دوران گفتگو یا جوش خطابت میں کچھ نعرے یا جملے ادا ہو جائیں جس سے عوام کے جذبات مجروح ہونے کا خطرہ ہو تو ان کا ٹھکانہ جہنم تصور نہیں کیا جاتا بالکل درگزر کر کے کھلے دل کے ساتھ انسانی غلطی جان کر معاف کیا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے یہ رویہ عورت کے لئے نہیں اپنایا جاتا۔
صحافت کے نام پر قلم و الفاظ کا دھندا کرنے والے ان ٹھیکیداروں سے کوئی پوچھے کہ کسی زمیندار یا وڈیرے کے ڈیرے پر ناچنے والے خواجہ سرا کو زد و کوب کر کے برہنہ کرنا زلزلوں کا سبب بنتا ہے یا نہیں؟ جہیز کی کمی کی وجہ سے ساری عمر طعنے اور گالیاں اپنا مقدر بنا لینے والی عورت کی بھی آہ آسمان کو چھوتی ہے یا نہیں؟
اگر ہم تمام انسان برابر ہیں اور ایک ہی فطرت پر پیدا ہوئے ہیں تو عورت اور ٹرانس جینڈر اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزارنے کے لئے کسی مرد کے دیے ہوئے اجازت نامے کے محتاج کیوں؟
ہم کیوں کسی سے زندگی جینے کا حق چھین کر اسے اپنی منشاء کے مطابق گزارنے کے لئے مذہب کو بنیاد بنا کر خدا سے ڈراتے ہیں؟
اگر سڑکوں پر اپنے جائز حقوق مانگتی یہ عورتیں عالمی یہودی سازش کا حصہ ہیں تو وراثت میں بیٹیوں اور بہنوں کا حصہ مرد کس نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ہڑپ لیتے ہیں؟
اگر ان سوالوں یا ان جیسے ان گنت سوالوں کے جواب ہم مردوں کے پاس ہیں تو ہمارے معاشرے کی عورت ہی جہنم سے کیوں ڈرے؟


