اسلامو فوبیا
اسلامو فوبیا مغربی اقوام میں اسلام کے پیروکاروں کے خلاف ایک نئی اصطلاح ایجاد کی گئی ہے جس کا مطلب اسلام سے نفرت، مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیلانا، ان میں ڈر پیدا کرنا، نسلی امتیاز برتنا و تعصب کرنا، مسلمانوں کو نا پسند کرنا اور ان کی ثقافت کا مذاق اڑانا جیسے اقدام ہیں۔ یہ اقدام کسی مسلمان کے خلاف انفرادی سطح پر یا اجتماعی طور پر بھی ہو سکتے ہیں۔ ان پر جسمانی حملے، ان کی املاک کو نقصان پہنچانا، ان کا مذاق اڑانا، ان کے لباس کا مذاق اڑانا، مساجد پر حملے کرنا اور بالخصوص ان عورتوں کا مذاق اڑانا جو حجاب یا نقاب پہنتی ہوں۔ اس سارے عمل کا مقصد مسلمانوں کو تنگ و زچ کرنا ہے۔
اس سے بھی خوفناک صورت حال تنظیموں، آجروں اور مملکتوں کا ایسی پالیسیاں مرتب کرنا ہے جو مسلمانوں پر اثر انداز ہوں۔ جس سے ان کے حقوق کی پامالی ہو، یہ پالیسیاں بظاہر سب کو اچھی لگتی ہوں لیکن ان کے اثرات سنگین ہوں جو مسلمانوں کے مسائل کے تدارک و مواقع حاصل کرنے کی بجائے انہیں نقصان پہنچائیں۔ جن میں ان کی مذہبی آزادی پر قدغن لگانا، حجاب و نقاب پہننے پر پابندیاں، مساجد کی تعمیر میں روڑے اٹکانے والی پالیسیاں بنانا یا ان کی تعمیر کی اجازت نہ دینا وغیرہ۔
تعلیم و تربیت میں نسلی امتیاز برتنا، پولیس کا مسلمانوں کو غیر ضروری روک کر تفتیش کرنا، دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں میں ایسے اقدام کرنا جو اکثریتی مسلمانوں کو جن کا دہشتگردی سے دور کا بھی واسطہ نہیں، کے خلاف بھی اقدام کرنا، ملازمتوں میں نسلی امتیاز والے قوانین بنانے جن میں بظاہر نسلی امتیاز نظر نہ آتا، ہو لیکن مسلمان اس سے متاثر ہو رہے ہوں۔ یہ سب اقدامات مسلمانوں کو پس پشت ڈالنے والے ہیں۔ بعض سیاسی قائدین کا جو ہر دوسری سیاسی پارٹی میں پائے جاتے ہیں کا مسلمانوں کے خلاف تعصب آمیز رویہ اختیار کرنا اور اپنی تقاریر میں ان کو ہدف بنانا اس کے علاوہ بعض صحافیوں کا کھلے عام یا پوشیدہ طور پر مسلمانوں کو ٹارگٹ کرنا بھی انہی عوامل میں شامل ہے۔
یہ معاملہ اب سنگین سے سنگین تر ہوتا جا رہا ہے خاص کر امریکہ میں ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کی عمارتوں پر حملوں کے بعد اس میں تیزی آئی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت دہشت گردی کے خلاف تھی اور ہے بلکہ تمام مسلمان حکومتیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اقوام عالم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی نظر آئی لیکن شومئی قسمت مسلمان پھر بھی در ماندہ ہوئے۔
چند سالوں سے مغربی اقوام میں یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی یورپ میں تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ایک طرف یہ اپنی جداگانہ شناخت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تو دوسری جانب امیگریشن کے مسائل لوگوں کے ذہنوں کو پر تجسس بنائے ہوئے ہے اسی کے ساتھ یہاں رہتے ہوئے مسلمانوں کا مقامی لوگوں کے ساتھ ملنا جلنا بھی کم ہے جس سے کئی بدگمانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ جب بھی یورپ میں اقتصادی حالت کمزور پڑتی ہے تو یہاں کی شدت پسند سیاسی قیادت اسے بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے مقامی لوگوں کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بوتے ہیں۔
مسلمانوں کے بارے یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ وہ مقامی ثقافت کو اپنانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کی خواہش جداگانہ شناخت و تصور ہوتا ہے۔ جس سے مسائل بڑھتے ہیں۔ ان میں حکومتی مساواتی پالیسیوں کا ناکام ہونا بھی شامل ہے جن کے نتائج حوصلہ افزاء نہیں ہوتے۔ مسلمان ملازمتوں، مقامی کونسل کی سہولیات سے استفادہ، غربت کا بڑھنا اور سیاسی عمل میں ان کا بھرپور شرکت نہ ہونا جیسے سنگین مسائل کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی لوگ میں یہ احساس بھی بڑھ رہا ہے کہ اسلامی تہذیب و تمدن اور طور طریقے ان کی ثقافت کے لئے خطرہ ہے۔ یہ احساس مغربی معاشرے میں جان بوجھ کر پیدا کیا جا رہا ہے تا کہ رائے عامہ مسلمانوں کے خلاف ہموار کی جا سکے۔ دہشت گردی کے قبیح فعل نے اس پر جلتی کام کیا ہے۔ جس سے عوام الناس کا مسلمانوں پر بھروسا کم ہو رہا ہے اور جن سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
یورپی پارلیمان کی کونسل آف یورپ میں ایک قرارداد پیش کی گئی جس کا مقصد اس کے تمام ممبران کا اسلامو فوبیا پر بحث و مباحثہ کرنا اور ہر ایک ریاست کا اپنے طور ایسے اقدام کرنا جس سے مسلمانوں کے خلاف نسلی امتیاز کی بیخ کنی کا خاتمہ ہو سکے۔ اس قرار داد کا مقصد سب کو خواب غفلت سے جگانا تھا تا کہ ان کی کسی پالیسی میں نسلی امتیاز کے خلاف قوانین میں مسلمانوں کے خلاف تعصب کے لئے کوئی جگہ نہ ہو۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسلمانوں کے خلاف نسلی تعصب، غیر منصفانہ عمل اور یک طرفہ اقدامات نسلی امتیاز ہی کی ایک قسم ہے۔
مردوں کے مقابلے مسلمان خواتین نسلی رویے و امتیاز کا دوہرا شکار ہیں۔ حجاب پہننے والی خواتین سے تحقیر آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ انہیں مذاق کا سامنا خطرناک حد تک کرنا پڑتا ہے جو ان کی نسلی مساوات و حقوق کی پامالی ہے۔ قانون کی نظر میں ان کے مساوی حقوق اور مساویانہ و آبرو مندانہ زندگی گزارنے کا حق انہیں حاصل ہے۔ جہاں بھی کہیں کوئی تنظیم نسلی امتیاز کے خلاف مسلمانوں کے حقوق کے لئے ان کے ساتھ کھڑے ہوئی اسے شک کی نگاہ سے دیکھنا اور اس کے خلاف روڑے اٹکانا ایک عام عمل ہے۔
یکم جون 2022 ء میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں یورپ کی تمام ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف نسلی امتیاز اور ان کے خلاف امتیازی سلوک سے نبٹنے کے لئے زور دیا گیا۔ یورپی پارلیمان نے اپنی ایک رپورٹ میں اس امر کو تسلیم کیا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور یہ ایک پرامن مذہب ہے جو دہشت گردی کی سخت مذمت کرتا ہے اور جس میں دہشت گردی کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ ان کے کنونشن کا آرٹیکل 9 ہر انسان کو آزادانہ سوچ رکھنے، انفرادی یا اجتماعی طور پر علانیہ یا غیر علانیہ مذہب سے وابستگی، مذہب کی تبلیغ و اشاعت اور عبادت کا حق دیتا ہے۔
اسی طرح اس کا آرٹیکل 10 ہر انسان کو آزادی رائے جس میں اپنے مذہب و فلسفہ کو بیان کرنے کا حق دیتا ہے لیکن اسی کے ساتھ ایک جمہوری معاشرے میں رہتے ہوئے اس کے اصولوں کی پاسداری کا فرض ہر شہری پر لاگو بھی کرتا ہے۔ اسی طرح اس کنونشن کا آرٹیکل 17 اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کنونشن کے کسی بھی آرٹیکل کی شق یا قانونی دفعات کی پامالی کی اجازت نہیں ہو گی۔
اقوام متحدہ نے ایک سنگ میل 15 مارچ 2022 ء کو عبور کیا جس میں متفقہ طور پر 15 مارچ کا دن اسلامو فوبیا سے نبٹنے کا دن قرار پایا۔ یہ ایک ایسی قرار داد تھی جسے ہر ایک ممبر ریاست نے بلا بحث و مباحثہ منظور کیا۔ لیکن صد افسوس پھر بھی یورپ کی اس میدان میں پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ آخر اٹھارہ ماہ کے انتظار کے بعد یورپی یونین خواب غفلت سی جاگی اور فرانس کے نمائندے کو بطور انٹی اسلامو فوبیا کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا۔ یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس سنگین مسئلہ کو مغربی ممالک کتنی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
اب ذرا دوسری طرف نظر دوڑاتے ہیں۔ مسلمان عرصہ سے مغربی ممالک میں ناصرف رہائش پذیر ہیں بلکہ ان کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اپنے کاروبار و جائیدادیں بھی یہاں بنا لیں ہیں۔ ان کی تیسری بلکہ چوتھی نسل ان ممالک میں آباد ہے۔ تعلیمی طور پر گو رفتار کم ہی سہی لیکن آگے بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ لیکن ان میں جمہوری معاشرے میں رہتے ہوئے مقامی آبادی کے ساتھ میل جول، ان کی روایات کو سمجھنا اور اپنی روایات کو ان تک احسن طور پہچانا، ایک دوسرے کی روایات کی پاسداری و احترام، اپنے مذہب و ثقافت کو احسن طور پیش کرنا، مقامی لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونا، ان میں ہم سب مسلمان کوسوں دور ہیں۔
ہم میں اکثر لوگ اسلام کی صحیح طور پر عکاسی نہیں کرتے، ہمارے سیاسی و نسلی جھگڑے یہاں بھی موجود ہیں۔ عیدین کا مسئلہ بھی انتہائی سنگین ہے اور اسے حل کرنے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔ ملازمت پیشہ افراد کو عیدین پر چھٹیوں کا مسئلہ درپیش رہتا ہے کہ کس دن عید منائیں۔ دو دن عید منانا عام سی بات ہے۔ جس کا برملا اظہار مقامی لوگ کرتے ہیں۔ ان کی کرسمس ایک ہی دن ہوتی ہے۔ انہیں ایک ہی مذہب کے پیروکاروں کا دو دن اپنا مذہبی تہوار منانا عجیب لگتا ہے۔
تفرقہ بازی عام ہے جس سے نئی نسل دین سے دور ہو رہی ہے۔ جیلوں میں ہمارے نوجوانوں کی تعداد دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کی کثیر تعداد ہونے کے باوجود ان کی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے پارلیمان میں نمائندگی کم ہے جس کی بنیادی وجہ آپس میں اتفاق و اتحاد کا نہ ہونا اور دوسری وجہ آپس کا قومی نسلی امتیاز کا ہونا ہے۔ قانون سازی میں مسلمانوں کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو بھی نسلی امتیاز کے خلاف قوانین بنائے گئے ہیں ان کا سہرا یہودی کمیونٹی کو جاتا ہے۔
یہودی کمیونٹی یورپ میں کافی عرصے سے مقیم ہے ان کی تاریخ اتار چڑھاو کا شکار رہی۔ ان کو مسلمانوں کے سپین پر حکمرانی کے دوران پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ اس دور میں ان کے مذہب کو بھی احسن نگاہ سے دیکھا گیا۔ جرمنی کے ہٹلر کی پالیسیوں نے انہیں دربدر ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے خود کو دوبارہ منظم کرتے ہوئے تمام ترقی یافتہ ملکوں کے جمہوری نظام کو جانچنا شروع کیا اور ہر سیاسی پارٹی میں ان کی نمائندگی کا تناسب بڑھنے لگا۔
اس وقت ان کی ہر ترقی یافتہ ممالک میں سیاسی پارٹیوں میں سینئر سطح پر قیادت کی نمائندگی ہے۔ جس سے ان کا حکومت میں شریک ہونا ایک لازمی امر ہے۔ جرمنی میں اپنے خلاف ہوئے ظلم و ستم کو یہ نہیں بھولے۔ اس لئے انہوں نے نہایت منظم طور پر مساواتی قوانین کی تحریکی شمع کو نہ صرف جلائے رکھا بلکہ اس سے نتائج بھی حاصل کیے اور موجودہ دور کے اکثریتی قوانین بنانے میں ان کا ہاتھ ہے۔ ان قوانین سے دوسرے مذاہب کو بھی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔
ان کا اپنی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے میں مدد ملی بلکہ مقامی افراد کے ساتھ انہوں نے اپنے روابط مضبوط کر لئے۔ ان کا یہ ماڈل نہایت پر اثر رہا اور اچھے نتائج دے رہا ہے۔ اس کے برعکس ہم انفرادی طور اپنی کامیابی کے زینے طے کرنے پر لگے رہے ہم میں اجتماعیت کا جذبہ مفقود ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم ایک قوم و ملت بننے سے عاری ہیں۔ ہم دین کی پاسداری بھی اپنے اہداف مقرر کر کے کرتے ہیں۔ ہم شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کر کے اس تصور میں خوش ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ خدا را اب بھی وقت ہے سنبھل جائیں تو اچھا، ورنہ داستاں نہ ہوگی داستانوں میں۔


