سیاسی چالیں: بس ضبط ٹوٹنے کو ہے


پاکستان میں سب چیزوں کا قحط ہو سکتا ہے مگر ایک چیز کا قحط کبھی نہیں ہو گا اور جس چیز کا قحط کبھی نہیں پڑے گا وہ ہے سیاسی چالیں، پاکستان اس معاملے میں بہت خود کفیل ہے۔ یہ چالیں ہر روز کی کہانی ہے، ان چالوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف سیاست دان نہیں چلتے بقیہ کافی سارے افسران بھی چلتے ہیں۔ حکومت کا ہر ادارہ سیاست زدہ ہو گیا ہے، بیوروکریسی ہو یا کوئی سی بھی کرسی سب سیاست کے پیچھے کریزی ہیں۔

ملک میں ایک چیز ہر حال میں جاری رہتی ہے وہ ہے سیاست، چاہے سیلاب کا موقع ہو یا پھر دہشت گردی کا ، سیاست ہر حال میں مقدم رہتی ہے۔ جب میں یہ تحریر رقم کر رہا ہوں بار ہا مجھے رقم کا خیال آ رہا ہے کیونکہ مہنگائی کے سیلاب کے بعد ، مہنگائی کی آندھی چلی اور اب مہنگائی کا زلزلہ آنے والا ہے جو بہت تباہی مچائے گا اور اس زلزلے کے نتیجے میں بہت سے گھر کے مکینوں کا سکون تباہ کر ڈالے گا۔ یہ خبر سب کو ہے، ہر پالیسی میکر کو ، ہر بڑے سیاست دان کو اگر وہ بڑا ہے، دفتر شاہی کے شہزادوں کو لیکن پھر بھی کوئی پلان نہیں ہے کہ کچھ تباہی کے اثرات کم کرنے کے لئے کوشش کر لیں۔ لیکن وہ سب کرتا دھرتا یکسوئی کے ساتھ سیاست میں مصروف شرارت ہیں۔

چالوں پر چالیں ہیں، لیکن عوام کی بھلائی کے لئے کوئی چال نہیں۔ مقدمات پر مقدمات ہیں مگر مہنگائی پر کوئی مقدمہ نہیں۔ سیاسی احتجاج، دھرنا و ریلیاں ہیں مگر بے روزگاری پر کوئی نعرے بازی نہیں۔ گویا تمام طاقت و سیانا پن سیاست پر ہی لگانا ہے، لیکن عوام کی بھلائی کے لئے نہ طاقت لگتی ہے اور نہ دماغ بس زبانی جمع خرچ ہوتا ہے۔ پیٹ بھرے لوگ سیاست کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ بھرپور پیسے کما رہے ہیں، ان کو مہنگائی سے ککھ فرق نہیں پڑتا۔ لیکن جو پہلے آہستہ آہستہ سہ رہے تھے وہ اب رونے لگے ہیں اور اگر ان کی چیخیں بلند ہو گئی تو پھر کون ان کو بہلائے گا۔

کبھی پی ڈی ایم کی چال کامیاب ہے، کبھی عمران کی چال کامیاب ہے اور کبھی اسٹبلشمنٹ کی چال، بس چالیں ہیں چارسو لیکن بس نہیں ہے تو عوامی چال نہیں، جس سے غریب عوام کو کچھ سکون کے پل مل جائے۔ غریب آخر کریں کیا؟ کھائے تو کیا کھائے؟ کھائے گا تو بچائے گا کیا اور بچائے گا تو کھائے گا کیا؟ اوپر سے بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہیں کیونکہ مارکیٹ میں جب دباؤ ہو گا تو کاروبار میں مندی ہوگی اور کاروبار میں آج کل مندی بڑھتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے بے روزگاری بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

ہر روز کی کہانی ہے اور کہانی صرف پریشانی کی ہے، غم کی ہے، مشکلات کی ہے۔ کہانی میں کبھی بھوک ہے، کہانی میں کبھی مار پیٹ ہے، کہانی میں کبھی زہر خورانی ہے، کہانی میں کبھی غصہ و تناؤ ہے، کہانی میں کبھی خود کشی ہے۔ یہ کہانی روز کیوں رقم ہو رہی ہے کیونکہ کہانی کے کرداروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ شاید اس میں اضافہ نہیں ہوتا لیکن اس لئے بھی ہوا کہ پہلے امید ہوتی تھی اور اب وہ امید مدھم پڑ گئی ہے۔ اس لئے بے چینی بڑھ گئی ہے، بے قراری بڑھ گئی ہے، نہ جانے جب مکمل ضبط ختم ہو گا تو کیا ہو گا؟ لیکن جو بھی ہو گا وہ فیصلہ کن ہو گا۔

Facebook Comments HS