میں ایک ہندو یا مسلمان کیوں نہیں ہوں؟


شاستری تھارور نے ”میں ایک ہندو کیوں ہوں؟“ جیسی کتاب لکھ کر اپنے کھرے ہندو ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ انہوں نے ہندو تہذیب کے چار ہزار سال کی مذہبی رواداری، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی سے تعمیر ہندو تہذیب کے پس منظر میں آج کے ہندوا ہندوستانی معاشرے کا تنقیدی تجزیہ کیا ہے جو انتہا پسندانہ فرقہ وارانہ بی جے پی یا بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی سیاسی تحریک سے زخم خوردہ ہے۔

سیکولر ازم کے معنی عمومی طور پر مذہب کی مخالفت میں لیے جاتے ہیں مگر ہندوستان کی سیکڑوں برسوں کی تاریخ میں سیکولر ازم اپنی فطری معنویت کے ساتھ مسلمان، سکھ، بدھ اور ہندوؤں کے کندھوں سے کندھے جڑے معاشرے میں مثالی شکل میں دکھائی دیتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ہندو مذہب نہ صرف دیگر مذاہب کے ساتھ بلکہ اندرون خانہ بھی اپنے ایمانی رویوں کے لحاظ سے قطعی سیکولر ہے یعنی ایک پیروکار کے لیے تمام راستے خود آگہی، پراتھنا اور انتھک لگن سے گزر کر وحدت کی منزل تک ہی پہنچتے ہیں چاہے وہ شیوا کی پرستش ہو یا وشنو کے لیے سجدہ ریزی چاہے وہ بھگوت گیتا کا چاپ ہو یا رگ وید کی تلاوت۔

مگر بدقسمتی سے ہندو مذہب کا یہ آفاقی نظریہ، ’ہندونس‘ یا ’ہنوتوا‘ جیسی فکر کے زیرعتاب ہے جس کے لیے نقیب زنی بی جے پی جیسی انتہاپسند سیاسی جماعت نے کی۔ یوں تو اس سیاسی تحریک کے تانے بانے دامودار ساورکار کی 1923 میں لکھی گئی کتاب ’ایزینشئیل آف ہندوتوا‘ کی فکر سے ہی جا کر ملتے ہیں مگر 15 برس بعد ایم ایس گول واکر نے ’ہم اور ہماری قومی شناخت‘ جیسی کتاب کے ذریعے ہندوستانی نیشنلٹی کے تصور کو ہندو مذہبی کلچر سے جوڑ کر اسے بھرپور سیاسی تحریک کا حصہ بنا دیا۔ ان کے خیال میں نیشنلٹی کا تعلق جغرافیائی سرحدوں کے بجائے کلچر سے ہے یعنی ایک مسلمان ہندوستان کے جغرافیے میں رہنے کی وجہ سے ہندوستانی نہیں ہے کیونکہ وہ ہندو کلچر سے تعلق نہیں رکھتا ہے۔

شاستری تھارور اپنی کتاب ’میں ہندو کیوں ہوں‘ میں لکھتے ہیں کہ اس انتہا پسندانہ نظریہ میں مزید شدت رائیٹ ونگ فرانسیسی نژاد ہندو رائٹر سوتری دیوی کے خیالات سے اور بڑھ جاتی ہے جنہوں نے ہندوازم اور نازی ازم کو مماثل فکر قرار دیا تھا اور ایڈولف ہٹلر کو وشنو دیوتا کا اوتار کہا تھا۔ گولواکر اور ساورکار دونوں ہی سوتری دیوی کی نازی ہندو آئیڈیالوجی کی مماثلت کی بھرپور تائید کرتے ہیں اور نسلی اور مذہبی تصور حیات کو اعلی ترین اخلاقی صنف سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے اس آئیڈیالوجی کی بنیادوں پر قائم سیاسی جماعت بی جے پی کے پچھلے چھ برس کے دور حکومت میں ہندوستان ایک سیکولر اسٹیٹ کے بجائے ہندوا انڈیا بن گیا ہے جہاں صدیوں سے بسنے والے مسلمانوں پر زندگی کا دائرہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

شاستری تھارور کی کتاب ’میں ہندو کیوں ہوں‘ پڑھ کر مجھے ’میں مسلمان کیوں نہیں ہوں‘ کا خیال مجھے پھر سے آ گیا اور مذہب اور سیاست کے امتزاج سے پیدا ہونے والا متنازعہ تصور بھی اور پھر اسلامی تاریخ اور سیاسی مہم جوئی بھی یاد بھی آ گئی اور کتاب کے مطالعے کے آخر میں ایک سوال اور اس کا ممکنہ جواب بھی میرے ذہن کے گوشوں میں پیدا ہو گیا۔

مجھے یقین ہے گول واکر، ساورکاراورسوتری دیوی کی ہندوتوا فکر سے مسلمانوں کو تیرہویں صدی کی کی ابن تیمیہ کی اسلامی انتہاپسندانہ فکر یاد آ گئی ہوگی اور نیشنیلٹی اور اسلامی کلچر کا مسلم برادرہوڈ کا وہ تصور بھی جو سید قطب، حسن البنا، مولانا مودودی سے ہوتا ہوا آج ساری اسلامی دنیا میں پھیل گیا۔ مسلم برادرز اور سسٹرز کو یقیناً آر ایس ایس کی تخریبی سیاسی تحریک سے متاثر بی جے پی کے غنڈوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے، لاٹھیاں اور چھریاں دیکھ کر آئی ایس، الشباب، داش اور القاعدہ تک سینہ بہ سینہ پہنچنے والے خودکش بم دھماکے اور قتل و غارت گری بھی یاد آ گئی ہوں گیں؟ مگر کیا یہ سوال بھی کسی ممکنہ فکری طبقے کو بھی کبھی یاد آئے گا کہ مذہب کی ساخت میں منفی سیاسی رجحان کے اس مجرمانہ رخ میں پھیلنے کی نفسیاتی وجہ کیا ہے؟

دراصل مذہب آئیڈیالوجی کی یہی ساختیاتی کمزوری اس کے الہامی تصور کے مجہول ہونے کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ خود اپنی ہی روح کو سیاسی پراگندگی سے پاک رکھنے میں ہی ناکام ہو گیا ہے چہ جائکہ کہ انسانوں کی روح کی پاکیزگی کا سبب بن پاتا

Facebook Comments HS