کپتان کی گرفتاری کیوں ممکن نہ ہو سکی؟


زمان پارک لاہور کافی دنوں تک میدان جنگ بنا رہا۔ وہاں ہونے والے واقعات نیوز چینلز کی لائیو نشریات سے دنیا بھر میں دیکھے اور سنے گئے۔ یہ سب کچھ اپنی نوعیت کا انوکھا اور عجیب و غریب واقعہ تھا کہ ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کی گرفتاری کے لئے اتنے وسیع پیمانے پر جنگی طرز کی تیاری کی گئی اور گرفتاری پھر بھی نہ ہو سکی۔ یہاں تک کہ رینجرز بھی بلائی گئی لیکن نتیجہ خاطر خواہ نہ نکلا۔ پاکستانی معاشرہ تو پہلے ہی قانون ہاتھ میں لینے کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔

اب سیاسی کارکن بھی اسی راہ کے مسافر بن رہے ہیں۔ یہ سب کچھ نیا نہیں ہے بلکہ دہائیوں سے حکومتی و سیاسی غلطیوں کا شاخسانہ ہے۔ پاکستانی سیاست میں ایک لیڈر کی مقبولیت حقیقت میں دوسرے لیڈروں کی غلطیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ملکی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی متعدد لیڈروں کو عروج ملا اور پھر اندر سے ہی انجام تک بھی پہنچائے گئے۔ تاریخ سبق سیکھنے کے لئے ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں اس کو دہرایا جاتا ہے۔ رواداری تحمل برداشت کی آبیاری کے لئے کسی ایک جماعت کو پہل کرنا ہوگی تو یہ سلسلے رکیں گے۔

لیکن بظاہر ایسا کوئی سیاسی جماعت بھی کرنے کو تیار نظر نہیں آتی۔ عمران خان کے چند سالوں کی حکومت کے دوران سیاسی رواداری کی کوئی بات نہیں تھی۔ بلکہ انتقامی کارروائیوں کا دور دورہ تھا۔ یہی اس جماعت کی سیاسی غلطی تھی۔ پہلی بار اقتدار ملا تھا تو عوامی مسائل کے حل ان کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا کرنے میں ناکام رہے جس کا خمیازہ آج کے موجودہ حالات کی شکل میں اس کے سامنے موجود ہے۔ بد قسمتی سے پاکستانی معاشرے میں رواداری، احترام قانون، تحمل برداشت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے، اسی کے اثرات اب سیاست کے اندر بھی نمایاں ہیں۔

تادم تحریر دوسرے دن بھی زمان پارک میں گرفتاری کے لئے جنگی ماحول موجود ہے۔ پولیس اور سیاسی کارکن ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں۔ خبروں کے مطابق وکلاء کی بڑی تعداد بھی زمان پارک پہنچ چکی ہے۔ گویا سیاسی آگ مزید پھیلنے رہی ہے۔ غور کیا جائے تو موجودہ عوامی رد عمل حقیقت میں پاکستان کو کسی تیسرے بڑے سیاسی المیے سے بچانے کی کوشش ہے۔

توشہ خانہ کا کیس ایک خصوصی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ کپتان پر عدالت میں نہ پیش ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ عدالت کی طرف سے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری نے ہی زمان پارک میں پر تشدد ماحول پیدا کیا تھا۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی طرف سے یہ خدشہ دلیل کے طور پر استعمال ہو رہا ہے کہ عمران خان کو عدالتوں میں بلانا حقیقت میں ان پر قاتلانہ حملوں کی ایک اور کوشش کرنا اور جان لینا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کی وجہ سے زمان پارک میں یہ جنگی ماحول پیدا ہوا ہے اور قانون کو روندا گیا۔

اس وسوسے اور خدشے کو ختم کیے بغیر سیاسی صورتحال نارمل نہیں ہو سکتی۔ یہ سیاسی المیہ ہے کہ تحریک انصاف اور موجودہ حکومت کے درمیان سیاسی محاذ آرائی اب ذاتی نفرت میں ڈھل چکی ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو قبول اور برداشت کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتے۔ انتخابات کے لئے لڑی جانی والی لڑائی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ غیر جانبدارانہ اور غیر سیاسی تجزیہ کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال میں الیکشن ماضی کی دونوں بڑی جماعتوں نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے لئے بہت زیادہ خوش کن نہیں ہے۔

عوامی موڈ کی روشنی میں تو پیپلز پارٹی اور نون لیگ دونوں عوامی ووٹوں سے اقتدار حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں دکھائی دیتیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پنجاب میں دونوں کا دھڑن تختہ ہو چکا ہے۔ تحریک انصاف کی ضمنی انتخابات میں کامیابی حقیقت میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی سیاسی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ آج پنجاب پر قبضہ کی موجودہ لڑائی سے پرانی تاریخی لڑائیوں کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔ تحریک انصاف عوامی طاقت سے اقتدار لینے کی جو کوشش کر رہی ہے ایسی کوششیں ماضی میں کبھی کامیاب نہیں ہوئیں اور نہ ہی ایسا کوئی تصور موجود رہا ہے۔

اس وقت پس پردہ طاقت ور طبقے اپنی بالا دستی قائم رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ موجودہ اتحادی حکومت کی پالیسی ہے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ یہ حکومت دونوں طرح سے اپنے اگلے پچھلے بدلے چکانے کے چکر میں لگتی ہے۔ اس طرح پہلی بار ایسا خطرناک ماحول جنم لے چکا ہے جس میں ہر فریق ہر ریڈ لائن پار کر جانے کا تہیہ کر چکا ہے اور یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں تحمل مزاجی کی سیاست اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا کڑوا فیصلہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اپنی اپنی سیاسی غلطیوں کو تسلیم کر کے ایک دوسرے کو اس کا سیاسی مقام کے مینڈیٹ تسلیم کرنا ہی ہو گا۔ اسی میں سیاسی جماعتوں کا مستقبل بھی محفوظ ہے اور پاکستان کا بھی۔

Facebook Comments HS