یورپ کا ہوائی جہازوں سے ٹرین پر منتقلی کا منصوبہ


ہر گزرتے دن کے ساتھ نمایاں ہوتی ہوئی ماحولیاتی تباہی کی وجہ سے گزشتہ کچھ عرصے سے یورپ میں ایک تحریک شروع ہوئی ہے کہ وہ لوگ جو تھوڑے سے فاصلے کے لیے بھی ذاتی یا عام جہاز سے سفر کرتے ہیں، انہیں اس حوالے سے شرم دلائی جائے اور حکام پر بھی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ امیر لوگوں کی اس بری عادت کو بدلنے کے لیے قانونی طور پر کوئی متبادل ماحول دوست حل تلاش کریں۔ بہت سے لوگ تھوڑے فاصلے کے سفر کے لیے پورے یورپ میں پھیلے ریل کی پٹریوں کے وسیع جال سے مزید استفادہ کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔

اور اس حوالے سے کچھ عمل درآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔ ہالینڈ کی سرکاری فضائیہ کے ایل ایم نے بعض مختصر راستوں پر ملکی ریل چلانے والے ادارے کے ساتھ شراکت داری کا معاہدہ کیا ہے۔ جبکہ آسڑیا اور فرانس کی حکومتوں نے مختصر یعنی تقریباً ڈھائی سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع منزلوں تک ہوائی جہاز کی پروازوں پر پابندی لگانے کے لیے قانون سازی کرنا شروع کی ہے۔

یوں ان اقدامات کے نتیجے میں یورپ میں ریل گاڑی کے ذریعے سفر کے شعبے میں ایک انقلاب آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئی تیز رفتار ٹرینیں چلانے کے لیے مختصر راستے بنانے اور ٹکٹ وغیرہ کی سہولیات آن لائن کرنے کے لیے تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ جبکہ رات کو چلنے والی، تیز رفتار، لمبے فاصلے تک جانے والی ریل گاڑیاں، جن کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی تھی، میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے۔ لمبے، بل کھاتے دشوار گزار پہاڑی راستوں کو سرنگیں کھود کر آسان، ہموار اور کم فاصلے کے حامل بنایا جا رہا ہے۔ نئی آنے والی ٹرینیں، زیادہ تیزرفتار اور ایندھن/بجلی کو کم سے کم خرچ کر رہی ہیں۔ ہسپانیہ، جرمنی اور آسٹریا میں سستے ٹکٹوں کی تھوک میں دستیابی نے ریل گاڑی سے سفر کو ایک دفعہ پھر سے مقبول بنا دیا ہے۔

ریلوے کی جدت کاری میں بڑی سرمایہ کاری اور عوام کے ایک بڑے طبقے کی دلچسپی سے بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ شاید جلد ہی پورے یورپ میں سارا سفر ہوائی جہازوں کی بجائے ریل گاڑیوں سے کرنے کا آغاز ہو جائے گا۔ جس سے یورپ کی فضائیں صاف اور ماحول مہکتا ہوا بن جائے گا۔

لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ خواب شاید ہی کبھی حقیقت کا روپ دھار سکے۔ لیکن کیوں؟

وجہ یہ ہے کہ جیسے دیگر ماحول دوست ذرائع کے ساتھ اچھائیاں اور برائیاں منسلک ہیں، تو ریل گاڑیوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ ان مسائل کے حل تو ڈھونڈے جا رہے ہیں لیکن کسی کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ جس سے یک دم سب ٹھیک ہو جائے۔ اور ایسے کوئی آثار نہیں دکھتے کہ جس سے لگے کہ جلد ہی یورپ بھر کے ہوائی اڈوں پر لگی مسافروں کی بھیڑ چھٹ جائے گی۔

اس سال اس حوالے سے ایک بڑی پیش رفت تو ہوئی ہے کہ فرانس میں ڈھائی سو کلو میٹر سے کم فاصلے تک کی پروازوں پر قانونی طور پر پابندی لگانے کا مسودہ پیش کیا گیا ہے۔ تاکہ زمین کی تپش میں اضافہ کرنے والی ماحول دشمن گیسوں میں کچھ کمی کی جا سکے۔ لیکن چونکہ فرانس یورپی یونین کا رکن بھی ہے، اس لیے اس قانون کی یورپی یونین کے افسران بالا سے منظوری بھی ضروری تھی۔ اور یورپی یونین کے حکام نے اس قانون کی منظوری پر اصولی طور پر اتفاق تو کیا لیکن ساتھ ہی دودھ میں مینگنیاں ڈالتے ہوئے یہ اصرار بھی کیا کہ اس پابندی کا اطلاق صرف انہی شہروں کے راستوں پر کیا جائے جہاں تیز رفتار ریل گاڑی جاتی ہو تاکہ ڈھائی گھنٹوں سے کم وقت میں ایک سے دوسرے شہر پہنچا جا سکے۔

ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کر دی کہ وہاں اتنے سویرے ریل گاڑیاں جاتی ہوں اور اتنی رات کو دیر گئے تک واپس بھی آتی ہوں کہ مسافر شہر میں آٹھ گھنٹے تک کا وقت گزارنے کے بعد واپس بھی پہنچ سکیں۔ یوں اس قانون کے پرواز بھرنے سے پہلے ہی پر کتر لیے گئے۔ کیونکہ ان شرائط کا مطلب یہ تھا کہ موجودہ ٹرینوں کے نظام کے ساتھ کل ملا کر پیرس کے اورلے ہوائی اڈے سے صرف تین شہروں بورڈوکس، نانٹیز اور لیون پر ہی اس قانون کا اطلاق ممکن ہو پائے گا۔ جبکہ فرانسیسی حکام نے اس کے ساتھ پیرس کے چارلس ڈیگال ہوائی اڈے سے بھی بورڈوکس، نانٹیز، لیون اور رینیز اور اس کے ساتھ ساتھ لیون سے مارسیلیز چلنے والے راستے پر پروازیں بند کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔

چنانچہ اب اس منصوبے پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ اقدام ماحولیاتی تبدیلی جیسے سنجیدہ مسئلے کے حل کے حوالے سے ایک مذاق لگ رہا ہے۔

”فرانسیسی حکام کی جانب سے چند شہروں کی پروازیں روکنا مسئلے کے حل کی جانب محض تجاہل عارفانہ سے کام لینا ہے۔ جس سے ماحول دشمن گیسوں کے اخراج میں کمی نہ ہونے کے برابر ہوگی۔“ یہ کہنا ہے جو ڈارڈینا کا جو ٹرانسپورٹ اینڈ انوائرمنٹ نامی ایک تنظیم میں ہوابازی کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ یہ تنظیم ہوائی جہازوں میں ماحول دوست ایندھن کے استعمال کے حوالے سے مہم چلاتی ہے۔

اس تنظیم کا اندازہ ہے کہ ان تین راستوں پر پروازوں پر پابندی سے پورے فرانس میں ہوائی جہازوں سے خارج ہونے والی گیسوں کے اخراج میں محض صفر اشاریہ تین فیصد کی ”بھاری بھرکم“ کمی آئے گی۔ اور اگر یورپی یونین کے حکام کی اعتراض نہ کرتے اور مزید پانچ راستوں پر پروازیں بھی بند کر دی جاتیں تو مضر گیسوں کے اخراج میں صرف صفر اشاریہ پانچ فیصد کی کمی آتی۔

یہ اعداد و شمار کچھ زیادہ معلوم نہیں ہوتے۔ ویسے تو ہوائی جہاز کی صنعت سے خارج ہونے والی مضر صحت گیسوں کا اخراج، دنیا بھر میں خارج ہونے والی سالانہ گیسوں کا صرف دو اشاریہ پانچ فیصد حصہ ہی ہوتا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صنعت کا ماحولیات پر پڑنے والا اثر اس سے کہیں زیادہ ہے کہ جتنا گنا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے کچھ مزید صنعتیں زیادہ مضر مصنوعات پیدا کرتی ہیں۔ مثلاً ایک دفعہ استعمال ہونے والے سٹائرو فوم سے بنے برتن اور پلاسٹک کے چمچے، جن کی ایک بڑی تعداد ہوا بازی کی صنعت کی وجہ سے استعمال میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر گیسیں اور ان کی وجہ سے بننے والے پانی کے قطرے اور دیگر فضلہ جات جو ہوائی جہازوں سے خارج ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت ہے جو چند ہی سالوں میں بہت بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ کرونا کی وبا نے اس کے پر کاٹنے کی کوشش کی لیکن وبا کے بعد اب یہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کی ایک مثال ائر انڈیا کی نجکاری کے بعد ٹااڈا گروپ کی جانب سے بڑے پیمانے پر نئے طیاروں کی خریداری اور پاکستان میں جناح ائر اور سعودی عرب میں ریاض ائر کے قیام ہیں۔ انہی وجوہات کی وجہ سے مستقبل میں اس صنعت سے خارج ہونے والی آلودگی میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2013 سے سنہ 2019 تک ہوا بازی کی صنعت سے خارج ہونے والی مضر گیسوں کے اخراج میں ہر سال پانچ فیصد کا اضافہ ہوا۔

دیگر ذرائع آمدورفت کے برخلاف، یورپ سے چلنے والی ائر لائنز کو ہوائی جہازوں میں استعمال ہونے والے ایندھن (مٹی کا تیل) پر کسی قسم کا کوئی محصول اداء نہیں کرنا پڑتا۔

ہوائی جہاز کے ٹکٹوں کو بھی ”ویلیو ایڈیڈ ٹیکس“ سے استثناء حاصل ہے۔

لیکن اگر آدھے بھرے ہوئے گلاس کو دیکھیں تو فرانسیسی حکومت کے اس اقدام نے اپنی نوعیت کی پہلی مثال ضرور قائم کر دی ہے۔ جسے ہوا بازی کی صنعت کے لیے نظر انداز کرنا مشکل ہو گا۔ کیونکہ اس صنعت سے خارج ہونے والی فضائی اور صوتی آلودگی کے بارے میں سیاست دان اور عوام اکثر و بیشتر تنقید کرتے رہتے ہیں۔

”یہ فرانسیسی قانون ہوا بازی کی صنعت سے خارج ہونے والی گیسوں میں اتنی معمولی سی کمی کرتا ہے کہ اسے آٹے میں نمک برابر کہہ سکتے ہیں۔“ یہ کہنا ہے ”آلٹ ائر“ کے منتظم اعٰلی پیٹرک ایڈمنڈ کا، جو آئرلینڈ میں ہوا بازی کے شعبے میں ماحول دوست اقدامات کے لیے مہم چلانے والی ایک تنظیم ہے۔ ”لیکن ہم اسے ایک دوسرے انداز سے یوں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ اگر ہوا بازی کی صنعت نے ماحول دوست طریقے نہ اپنائے تو ان پر ایسی ہی بڑے پیمانے کی پابندیاں بھی عائد ہو سکتی ہیں۔“

فرانس واحد یورپی ملک نہیں ہے کہ جس نے چھوٹے فاصلے کی حامل پروازوں کے خلاف قانون سازی کی ہو۔

سنہ 2020 میں آسٹریا کی حکومت نے خسارے میں چلنے والی قومی ائر لائن ”آسٹرین ائر لائن“ کے واجبات تو سرکاری خزانے سے ادا کر دیے لیکن اس شرط پر کہ وہ ایسے تمام علاقوں کے لیے اپنی پروازیں بند کر دے گی جہاں ریل گاڑی کے ذریعے تین گھنٹوں سے کم وقت میں پہنچا جا سکتا ہو۔ لیکن اس سے بھی صرف ویانا سے سالز برگ جانے والی پروازیں ختم ہوئیں اور اس راستے پر جانے والی ریل گاڑیوں کی تعداد بڑھانا پڑی۔ اس سے پہلے بھی سنہ 2017 میں ویانا سے لنز جانے والی پروازیں بند کر کے اس راستے پر ریل گاڑی سے سفر کو فروغ دیا گیا۔ اسی سال حکومت نے تین سو تیس کلومیٹر سے کم فاصلے کی منزلوں پر جانے والی پروازوں کے ٹکٹوں پر تیس یورو کا محصول عائد کر دیا۔

ان اقدامات کو دیکھتے ہوئے بہت سے دیگر یورپی ممالک بھی انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوانے پر غور کر رہے ہیں۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ سنہ 2020 میں کیے گئے ایک جائزے کے مطابق یورپی عوام کی اکثریت یعنی باسٹھ فیصد اس پابندی کے حق میں ہیں۔

ہسپانوی حکومت نے حالیہ کوپ اجلاس میں سنہ 2050 تک ایسے تمام شہروں تک ہوائی سفر پر پابندی کا وعدہ کیا ہے جہاں ریل گاڑی کے ذریعے سفر میں ڈھائی گھنٹے سے کم کا وقت لگتا ہے۔

ان تمام اقدامات کو دیکھتے ہوئے یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ ہوابازی کی صنعت کے اہم اداروں کے ارباب اختیار نے خطرے کی بو سونگھ لی ہے۔ سنہ 2022 ء میں یورپیئن ائر لائنز کی انجمن نے ہوائی صنعت کے شعبے سے وابستہ دیگر اہم اداروں کے ساتھ مل کر ایک تحقیق شائع کی جس کے مطابق اگر پانچ سو کلو میٹر یا تین سو دس میل کے فاصلے تک کی تمام پروازوں کو ختم کر کے ریل گاڑی یا آمدو رفت کے کسی دوسرے ذریعے پر منتقل کر دیا جائے تو یورپی یونین کے ممالک سے خارج ہونے والی مضر صحت گیسوں کے اخراج میں پانچ فیصد ہی کمی ہو پائے گی۔

”کئی قانون سازوں کے لیے مختصر فاصلے کی پروازوں پر پابندی عائد کر کے ریل گاڑیوں کو فوقیت دینا، عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کا سستا نسخہ بن چکا ہے۔“ یورپیئن ریجنل ائر لائنز ایسوسی ایشن کے مونٹ سیراٹ بریگا نے سی این این کو بتایا۔

لیکن بریگا اور دوسرے۔ اس اقدام کی حمایت اور مخالف کرنے والے، اس دوہرے معیار کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایک طرف تو مختصر فاصلے کی پروازوں پر پابندی عائد کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف یورپی یونین نے ہوائی جہازوں میں ایندھن کی بچت کے لیے کاربن الاؤنسز کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور ساتھ ہی یورپی یونین کے علاقے سے باہر جانے والی پروازوں پر کسی قسم کی پابندی لگانے کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا ہے۔

حالانکہ لمبی مسافت کی حامل پروازیں سب سے زیادہ مضر صحت گیسیں خارج کرتی ہیں۔ جریدے ٹرانسپورٹ جیو گرافی میں شائع ہونے والے ایک مقالے کے مطابق پانچ سو کلو میٹر سے کم کے فاصلے تک جانے والی پروازیں یورپی یونین کی کل پروازوں کا ستائیس فیصد ہوتی ہیں لیکن ان سے خارج ہونے والی ماحول دشمن گیسیں یورپی یونین سے خارج ہونے والی کل گیسوں کا محض پانچ اشاریہ نو فیصد ہوتی ہیں۔ اس کے برخلاف چار ہزار کلو میٹر سے زائد فاصلے کی مسافتوں تک جانے والی پروازیں کل پروازوں کا محض چھ اشاریہ دو فیصد حصہ ہونے کے باوجود، سینتالیس فیصد تک ماحول دشمن گیسوں کے اخراج کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔

”حکومتیں لمبے فاصلے کی پروازوں سے خارج ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہیں اور ان کے بارے میں کوئی قدغنیں عائد کرنے کی بات نہیں کرتا ہے“ ۔ ٹرانسپورٹ اینڈ اینوائر منٹ کے ڈارڈین نے کہا۔ ”حکومتیں اس طرح کے نمائشی اقدامات کر کے اصل مسئلے کی سنگینی سے عوام کو گمراہ نہیں کر سکتیں۔“

اور یورپ بھر میں نئی نکور ریل گاڑیوں نے اٹلی کی قومی ائر لائن ”الی ٹالیہ“ کو دیوالیہ کرنے میں گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا دیا ہے لیکن ریل گاڑیاں چلانے والے اداروں کو ابھی مزید کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہنا ہے ٹرینز فار یورپ کے جان ورتھ کا جو یورپ میں ریل گاڑی کے ذریعے سفر کے لیے آگاہی مہم چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریل گاڑی کے مہنگے ٹکٹ اور مختلف راستوں پر کم ریل گاڑیوں کی تعداد نے ابھی بھی بہت سے لوگوں کو ہوائی جہاز سے ریل پر منتقل ہونے سے روک رکھا ہے۔ خاص طور پر مصروف ترین مسافتوں جیسے کہ پیرس سے ایمسٹرڈیم، فرینکفرٹ اور بارسلونا۔

”ایسے بہت سے راستوں پر ریل گاڑی مسافروں کے لیے اچھی سواری ثابت ہو سکتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ریل گاڑی چلانے والے ادارے اپنی خدمات زیادہ سے زیادہ مسافروں تک پہنچانے کی بجائے زیادہ منافع حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ چنانچہ عوام کو ریل گاڑی کی طرف زیادہ مائل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکومتیں ریل گاڑیاں چلائیں جن کو خسارے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا“ ۔ جان ورتھ کہتے ہیں۔

مختلف شہروں کے اندر اور ہوائی اڈوں کے درمیان ریل گاڑیوں کے ذریعے بہتر سفر کو فروغ دے کر کم فاصلے کی حامل پروازوں کی ضرورت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ جان ورتھ زور دے کر کہتے ہیں کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسے ٹکٹ جاری کیے جائیں اگر مسافر کسی ایک ریل گاڑی میں سوار ہونے سے رہ گیا ہے تو اسے اگلی گاڑی پر سوار کر لیا جائے۔ اس طرح کے ٹکٹ اس وقت ہوائی جہازوں کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ریل گاڑی اور ہوائی سفر کو ساتھ بھی ملایا جا سکتا ہے کہ جہاں کم فاصلے پر ریل اور زیادہ فاصلے پر ہوائی جہاز سے سفر کیا جائے۔ یہ کام جرمنی، آسٹریا، فرانس، سوئٹزر لینڈ، اور ہسپانیہ میں کسی حد تک ہو بھی رہا ہے۔ ابھی پچھلے مہینے فروری 2023 میں الی ٹالیہ کو خریدنے والی آئی ٹی اے ائر ویز نے اٹلی کے سرکاری ریلوے کے ادارے کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ کیا ہے۔ اور یہ ایک ایسی تجویز ہے کہ اس بارے میں ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر پہلی بات تو یہ کہ اس طرح کے مشترکہ منصوبے صرف ملکوں کے قومی ریل اور ہوائی جہاز کے ادارے ہی مل کر رہے ہیں۔ اس سال یورپیئن کمیشن میں ایک مسودہ قانون پیش کیا گیا ہے تاکہ اس کثیر ذرائع آمدورفت کو یورپ میں زیادہ فروغ دیا جا سکے۔

فرانس میں فی الحال کم فاصلے کی پروازوں پر پابندی کا قانون تین سالوں کے لیے لاگو کیا گیا ہے لیکن امید ہے کہ جب یہ مدت گزرنے کے بعد اس پر دوبارہ بحث ہوگی تو کئی مزید تھوڑے فاصلے کے حامل شہروں تک تیز رفتار ریل پہنچ چکی ہوگی، یوں اس قانون کے دائرہ اثر میں اضافہ ہی ہو گا۔

دوسری طرف ماحول دوست ہوائی جہازوں کی ایجاد سے کم فاصلے کی حامل پروازیں ہی سب سے پہلے کاربن سے پاک ہوں گی۔ کیونکہ بجلی سے چلنے والے، مخلوط انجن کے حامل اور ہائیڈروجن سے چلنے والے چھوٹے طیاروں کی ایجاد اور ترقی پر فی الحال توجہ مرکوز ہے۔ چنانچہ آنے والے سال بتائیں گے کہ ہوائی جہازوں، ریل گاڑیوں اور موٹر کاروں کا یہ سفر کس منزل کی طرف دنیا کو لے جا تا ہے۔

ماخذ:سی این این ٹریول

Facebook Comments HS