سویڈن کا تمباکو سے چھٹکارا


سویڈن تمباکو نوشی سے پاک ملک بننے کے قریب پہنچ گیا ہے کیوں کہ وہاں تمباکو نوشی کی شرح 5.6 فیصد تک گر گئی ہے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے کیوں کہ یورپی یونین کے ممالک نے تمباکو نوشی سے پاک ہونے کا ہدف سن 2040 مقرر کر رکھا تھا مگر سویڈن یہ ہدف تمباکو کی متبادل کم نقصان دہ مصنوعات کے استعمال کی مدد سے رواں برس یعنی مقررہ ہدف سے 17 سال قبل ہی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

تمباکو سے پاک ملک ہونے کا مطلب ملک کے نوجوانوں میں تمباکو نوشی کی شرح کا 5 فیصد سے کم ہوجانا ہے۔ سویڈن نے گزشتہ 15 برسوں کے دوران متبادل مصنوعات کی مدد سے ملک میں تمباکو نوشی کی شرح میں 15 فیصد سے 5.6 فیصد تک کمی لائی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ متبادل مصنوعات سے مراد ای سگریٹ، سویڈش سنوس اور ہیٹ نان برن ہیں۔ اب تک کی سائنسی تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ مصنوعات سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ اور تمباکو نوشی ترک کرنے میں کارآمد ہوتی ہیں۔

برطانیہ کے رائل کالج آف فزیشنز کے مطابق، اگر سگریٹ نوش کو نکوٹین، سگریٹ کے دھوئیں کے بغیر موثر اور قابل قبول طریقے سے پہنچائی جائے تو اسے تمام تر نقصانات سے بچایا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمباکو نوشی سے جڑے تمام تر خطرات کا تعلق تمباکو کے جلانے سے پیدا ہونے والے دھوئیں میں موجود خطرناک مادوں سے ہوتا ہے اور متبادل مصنوعات دھوئیں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے خطرناک مادوں سے محفوظ ہوتی ہیں۔

سویڈن تمباکو نوشی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے یورپی یونین کا واحد ملک بن گیا ہے جہاں تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات سب سے کم ہیں۔ اسی طرح سویڈن میں پھیپھڑوں کے کینسر کی شرح بھی پورپین یونین کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔

سموک فری سویڈن نامی ویب سائٹ کے مطابق ملک میں تمباکو نوشی کی شرح میں کمی کی اصل وجہ انسداد تمباکو نوشی کے دیگر اقدامات اور آگہی کے ساتھ ساتھ متبادل مصنوعات کو بڑے پیمانے پر لوگوں کے لیے قابل رسائی بنانا ہے۔ سویڈن نے متبادل مصنوعات پر پابندی نہیں لگائی اور نتائج خود بتا رہے ہیں کہ یہ تمباکو نوشی کی شرح کو کم کرنے میں کتنی کارآمد ثابت ہوئی ہیں۔

سویڈن کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کرنے میں متبادل مصنوعات سے متعلق سائنسی تحقیق کے دعوے درست ثابت ہو رہے ہیں۔ جاپان اور برطانیہ کی بھی مثالیں دی جا سکتی ہیں جہاں ان متبادل مصنوعات کے استعمال کی وجہ سے سگریٹ نوشی میں کمی آ رہی ہے۔

سویڈن کی حالیہ کامیابی میں متبادل مصنوعات کی افادیت سے انکاری ممالک کے لیے واضح پیغام ہے کہ ان مصنوعات کی مخالفت کرنا یا ان پر پابندی عائد کرنا مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ تمباکو نوشی سے پاک مستقبل کا حصول یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکسوں میں اضافے و دیگر روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ کم نقصان دہ متبادل مصنوعات سے بھی استفادہ کیا جائے۔ اگر سویڈن ہدف سے 17 برس قبل تمباکو نوشی کا خاتمہ کر سکتا ہے تو کوئی اور ملک کیوں نہیں؟

Facebook Comments HS