شہر معجزات – معیشت


بینک دولت پاکستان کے 16 مارچ 2023 ء کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق وطن عزیز کے پاس کل غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر نو اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر تھے جس میں سے کمرشل بینکوں کے پانچ اعشاریہ پانچ ارب ڈالر نکال دیے جائیں تو بینک دولت کے پاس چار اعشاریہ تین ارب ڈالر باقی بچ جاتے ہیں جو ملک کی ایک ماہ کی درآمدات کے لیے ناکافی ہیں، شہباز شریف حکومت آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی قرض قسط لینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے مگر آئی آئی ایم ایف آئی ایم سوری کے ساتھ شرائط مزید سخت کر دیتا ہے اور ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ مسلسل برقرار ہے۔ ہم ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، معاشی حالت نا گفتہ بہ ہے، سیاست میں غیر یقینی ہے، سرکاری نظام میں حد درجہ مداخلت ہے وغیرہ وغیرہ۔

ہر جماعت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر مملکت کو معاشی طور پر مستحکم کردے گی، مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کی بیشتر آئینی مدت اقتدار سابقہ حکومتوں کی ناتجربہ کاری پر طعن و تشنیع کرتے اور بقیہ اپنی حکومت برقرار رکھنے میں سرف ہوجاتی ہے۔ یہ درست ہے جو حکومت ہی مستحکم نہ ہو وہ معیشت کو کیا مستحکم کرے گی۔ حکومتیں کیوں مستحکم نہیں ہوتیں اک عام شہری اس پر سیر حاصل بحث کر سکتا ہے، کون مداخلت کرتا ہے یہ بھی ہم سب جانتے ہیں۔

ابھی کچھ روز قبل سرل میڈا (المعروف ڈان لیکس والے ) نے ایک چہکار میں اکیسویں صدی میں پاکستان میں آنے والی حکومتوں اور مسلسل خراب معاشی حالات پر سوال اٹھایا کہ گزشتہ 20 برس میں پاکستان میں تمام بڑی سیاسی جماعتیں بشمول مارشل لاء حکومت اقتدار میں رہنے کے باوجود اگر معیشت ٹھیک نہیں کر سکیں تو کون کرے گا۔

ہم ایسے سوالوں سے نظریں چرائیں یا سوال کرنے والے کو آنکھیں دکھائیں سوال بہرحال موجود رہے گا اور معیشت ٹھیک نہیں ہوگی۔ یوں تو ان سوالوں میں سب سے اہم سوال یہ ہے کون معیشت کو ٹھیک کرے گا؟ اگر ہم گزشتہ بیس برس کے ملک کے وزرائے خزانہ کی تعلیمی یا پیشہ ورانہ قابلیت دیکھیں تو پی ایچ ڈی، ایم بی اے، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، ماہر معیشت، سابق گورنر سٹیٹ بینک، بینکر، کاروباری شخصیات ملیں گی، سب کی پیشہ ورانہ زندگی کامیابیوں سے بھرپور ہوگی، کوئی سیاست دان کم ٹیکنوکریٹ ہو گا تو کوئی آئی ایم ایف کا بھیجا ہوا نمائندہ۔

جناب اسحاق ڈار اب تیسری بار وزارت خزانہ (بیس برس سے باہر نکلیں تو چوتھی بار) کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں، ڈاکٹر مفتاح اسماعیل، عبدالحفیظ شیخ و شوکت ترین دو دو بار وزیر خزانہ رہ چکے، شوکت عزیز تو مسلسل آٹھ برس تک بلا شرکت غیرے وزیر خزانہ رہے مگر ملک معاشی طور پر خود مختار نہیں ہوسکا۔ کچھ لوگوں کو تو ہم آئی ایم ایف کے نمائندے یا غیر ملکی تعلیم یافتہ وزیر خزانہ کہہ کر بری الزمہ قرار دیتے ہیں کہ وہ ملک کے مسائل اس طرح نہیں جانتے جیسے ملک کے اندر رہنے والے جانتے ہیں تو پھر سوال اٹھتا ہے جو ملک کے اندر رہتے ہیں پاکستان کے بڑے و مشہور بزنس سکولوں یا دیگر اداروں سے پڑھتے ہیں، پھر بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنیوں میں پرکشش آسامیوں پر کامیاب پیشہ ورانہ زندگیاں گزارنے کے بعد جب ملک کے وزیر خزانہ بنتے ہیں تو ان کی صلاحیتوں کو گرہن کیوں لگ جاتا ہے؟ اک کامیاب سیاست دان، کامیاب کاروباری شخص، کامیاب پیشہ ور کیوں اک کامیاب وزیر خزانہ نہیں بن پاتا؟ حد تو یہ ہے جن کے نام کے کرنسی نوٹ ملک میں زیر گردش ہوں وہ بھی کامیاب وزیر خزانہ نہیں کہلائے جا سکتے ایسے دور مفلسی میں آئی ایم ایف و دوست ملکوں کی نظر وہی شعر بنتا ہے جو جون ایلیا سے منسوب ہے

دے مال ہم کو مفت ہم اصحاب کہف ہیں
سکہ ہمارے دور کا چلتا کہیں نہیں

Facebook Comments HS