کیا یہ ملک اب رہنے کے قابل نہیں رہا؟
چھبیس سال پہلے یعنی 1997 کے موسم بہار کا ایک چمکتا دن ہے۔ جی ایٹ اسلام آباد کے 10 مرلے گھر کے ایک کمرے میں کھڑے نوجوان ڈاکٹر احمد نے دروازے میں کھڑی بیوی کو رخ پھیر کر دیکھا۔ وہ غصیلے چہرے کے ساتھ تلخی سے لبریز آواز میں کہتی تھی۔ ”کتنے دن ہو گئے ہیں آپ سے کہتے ہوئے کہ ان کاغذات میں درج چند مطلوبہ چیزوں کی فراہمی کر دیں۔ بس صرف یہی مرحلہ باقی ہے۔ کینیڈا کی امیگریشن تو بس اب ہمارے ہاتھ میں ہی ہے۔“
نوجوان نے کچھ کہے بغیر میز پر دھرے کاغذات اٹھائے۔ عین بیچ میں سے دو ٹکڑے کیے اور پھر چار ٹکڑے کر کے کونے میں پڑی ڈسٹ بن میں پھینکتے ہوئے مڑا۔ دروازے کے پٹ سے جڑی کھڑی خاتون خانہ کی حیرت زدہ پھٹی پھٹی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
”کینیڈا ہی جاکر بسنا ہے تو پھر انگلینڈ میں اچھی بھلی آفر کو ٹھکرا کر یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟ ملک کو ہماری ضرورت ہے۔ ہمیں یہیں رہنا ہے اور یہیں کام کرنا ہے۔
چوکھٹ کے ساتھ جڑی کھڑی بیوی کا تو مانو جیسے ماتھا گھوم گیا۔ پہلے تو آنکھیں ہی حیرت کے خوفناک پھٹاؤ سے پھیلیں پھر جیسے زبان بھی پھسل پڑی۔
”پاگل ہو گئے ہیں۔ ایک لاکھ روپے کو کھڑے کھڑے آگ لگادی ہے۔ ڈیڑھ مہینے سے تمہارے بھائی کے ساتھ سفارت خانے، وکیلوں دفتروں اور راستوں میں خجل ہوتی رہی ہوں۔ پیسہ اجاڑتی رہی۔ تم نے کھل کر اظہار کیوں نہیں کیا؟ دو ٹوک الفاظ میں کہا کیوں نہیں کہ مت کرو یہ سب۔ اب تمہاری وطن کے لیے ممتا جاگ اٹھی ہے۔“
آنسو اس کے گالوں پر تواتر سے بہنے لگے تھے۔ ڈاکٹر احمد نے اس کے پاس سے گزرتے ایک پل کے لیے رک کر اس پر نگاہ ڈالی اور کہا۔ اپنے شوہر کو جانتی تو ہو پھر ایسی حماقتوں کی کوئی ضرورت تھی۔ یاد کرو تمہیں کہا نہیں تھا۔
”مجھے کہیں نہیں جانا۔ میں نے امتیاز کے ساتھ کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ بس مجھے اپنے ملک کے بچوں کو ہی دیکھنا ہے۔“
وہ زچ ہو کر آنسو بہاتی رہی اور وقت دھیرے دھیرے گزرتا گیا۔ ڈاکٹر احمد اپنے اردگرد پھیلی ہولناک چالوں، خوفناک قسم کی عیاریوں، مکاریوں اور لوٹ کھسوٹ کی مشترکہ کاوشوں کو حیرت بھری آنکھوں سے دیکھتے اس کڑے وقت کو صبر اور تحمل سے گزارتا رہا جس نے اس کے دامن میں بہت کچھ بھر دیا تھا۔
اپنے اصولوں پر استقامت سے کھڑا اکثر وہ سوچتا رہتا کہ ان کے پیٹ کب بھریں گے۔ اس طمع کی کوئی حد بھی ہے۔
پھر ایک دن وہ اپنی نصف بہتر کے پاس بیٹھا اور اسے افسردگی سے سے دیکھتے ہوئے بولا۔
”فاطمہ تمہیں ایک کہانی سنانے کو جی چاہتا ہے۔ سنو گی۔“
بیوی نے ہنستے ہوئے کہا۔ ”سچی کہانیاں تو ہر روز ہی سنتی ہوں۔ آج کیا کچھ نیا ہے۔“
” ہاں۔ دنگ رہ جاؤ گی۔“
ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ ایک بہت عمر رسیدہ کسان اپنے کھیتوں میں کام کر رہا تھا۔ یہ اتفاق ہی تھا کہ بادشاہ وقت کا ادھر سے گزر ہوا۔ موسم کی شدت اس پر بڑھاپا۔ بادشاہ سلامت رک گیا۔ گھوڑے سے اترا اور پاس گیا۔ اپنا تعارف کروایا۔ بوڑھے کسان نے کام روک دیا۔ اور بادشاہ سلامت کو لے کر درختوں کی چھاؤں تلے آ گیا۔ سوال ہوا۔ ”بزرگو کتنی عمر ہوگی آپ کی؟“
”ایک سو آٹھ سال۔ کسان نے کہا۔ پھر مزید بھی بتایا کہ جناب میں نے آپ کے دادا کا زمانہ دیکھا۔ آپ کے والد کا دیکھا اور اب آپ کا بھی دیکھ رہا ہوں۔“
بادشاہ سلامت نے گہری دلچسپی سے بوڑھے کی بات سنی اور بولا ”تو گویا آپ نے ہماری خاندانی بادشاہت کے تین ادوار دیکھے۔ آپ مجھے بتائیں تو سہی آپ کے کیا احساسات و جذبات ہیں۔ آپ کے نزدیک ان میں سے کون سا بہترین دور ہے۔“
”بادشاہ سلامت آپ کے دادا کے زمانے میں میری جوانی تھی۔ برسات کے دنوں کی بات ہے۔ موسم بہت خراب تھا۔ تیز ہوائیں اور طوفانی جھکڑ چل رہے تھے جب ایک بہت حسین عورت سونے کے زیورات سے لدی پھندی گھوڑے پر سوار گھبرائی ہوئی میرے گھر کے دروازے کے سامنے نمودار ہوئی۔ وہ راستہ بھول گئی تھی۔ میں اسے اپنی کٹیا میں لے آیا۔ اس کے گھوڑے کو چارہ اور اسے کھانا کھلایا۔ اس کی رہنمائی کی۔ اور اسے اس راستے پر ڈال کر آیا جو اس کی منزل کی طرف جاتا تھا۔ اس تمام عرصے میں ایک پل کے لیے بھی مجھے یہ خیال نہیں آیا کہ مجھے اس کے زیورات لوٹ لینے اور اس کے خوبصورت جسم سے خود کو لطف اندوز کرنا چاہیے۔
آپ کے والد کے زمانے میں مجھے شاید ایک یا دو بار اس خیال نے احساس دلایا کہ میں نے اس وقت غلطی کی تھی۔ مجھے اس عورت کے زیورات لوٹ لینے چاہیے تھے۔ اس سے زیادہ نہیں۔ ہاں مگر بادشاہ سلامت۔ بوڑھا بولتے بولتے رک گیا تھا۔
بادشاہ دم سادھے اسے دیکھتا تھا۔ کچھ توقف کے بعد اس نے سلسلہ گفتگو دوبارہ شروع کیا۔ آپ کے دور نے تو مجھے قدم قدم پر احساس دلایا کہ میری زندگی کی سنگین غلطی ہی یہ تھی۔
ڈاکٹر احمد خاموش ہو گیا تھا۔ فاطمہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی تھی۔ دیر بعد اس نے نم آنکھوں اور گلوگیر لہجے میں کہا تھا۔
”فاطمہ آج چھبیس سال بعد میں یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ یہ ملک اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ آج میں او ایس ڈی بنا دیا گیا ہوں۔


