پاکستان – بیسویں صدی کا معجزہ
اس برس 23 مارچ کے موقع پر یوم پاکستان کے پیغام میں وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے قیام کو بیسویں صدی کا معجزہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دن عہد ساز ہے جو ہمیں ماضی کی یاد دلاتا ہے۔
وزیراعظم کی دونوں باتیں درست معلوم ہوتی ہیں اس لیے کہ اس معجزے نے کئی معجزوں کو جنم دیا اور یہ معجزے قیام پاکستان کے فوراً بعد نمودار ہونا شروع ہو گئے تھے۔
غالباً سب سے پہلا معجزہ تو یہی تھا کہ مذہب کارڈ کو جناح صاحب کی قیادت میں مسلم لیگ نے انتہائی ہوشیاری سے استعمال کیا جس کے بعد آج تک ہمارا گول دائروں میں سفر جاری ہے۔
اگر ہم دہلی میں جامع مسجد پر کی جانے والی مولانا آزاد کی تقریر بھول بھی جائیں تو وہ معجزے نہیں بھول سکتے جو قیام پاکستان کے فوراً بعد ظاہر ہوئے جن سے مزید معجزوں کی راہ ہموار ہوئی۔
مثلاً سب سے پہلا معجزہ تو یہی تھا کہ قائداعظم نے وزیراعظم بننے کے بجائے گورنر جنرل بننے کا فیصلہ کیا۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ پارلیمانی جمہوریت میں حکومت کا سربراہ وزیراعظم ہوتا ہے اور ریاست کا سربراہ جیسے سربراہ مملکت بھی کہا جاتا ہے جو گورنر ہو یا صدر ایک رسمی عہدہ ہوتا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ میں سب سے طاقت ور شخصیت جناح صاحب کی ہی تھی اور یہ ممکن نہ تھا کہ وہ ایک رسمی عہدہ قبول کرتے۔ اس فیصلے سے بہت سے لوگوں کو خاصی حیرت ہوئی مگر اس سے سربراہ حکومت اور سربراہ مملکت میں چپقلش کا آغاز ہوا۔
لیاقت علی خان اور خواجہ ناظم الدین ہوں یا محمد خان جونیجو ہوں یا میر ظفر اللہ خان جمالی سب کے وزرائے اعظم بنتے ہی یہ توقع رکھی گئی کہ وہ سربراہ مملکت کی ہدایتوں پر عمل کرتے رہیں اور اگر نہیں کریں گے تو اپنے لیے مصیبت کو دعوت دیں گے۔
اس کے بعد دوسرا معجزہ یہ ہوا کہ یوم آزادی پر جناح صاحب نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کا پرچم لہراتے وقت کی دیوبندی مذہبی رہ نما مولانا شبیر احمد عثمانی کراچی میں اور مولانا ظفر احمد عثمانی ڈھاکہ میں اس تقریب میں موجود ہوں گے۔ یاد رہے کہ دیوبندی مسلک کے دیگر رہ نما مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی ہندوستانی قوم پرست سیاست کر رہے تھے مگر شبیر احمد اور ظفر احمد عثمانی تحریک پاکستان کی حمایت کر رہے تھے۔
ان دونوں رہ نماؤں کو جناح صاحب نے جو اعزاز بخشا وہ غالباً تحریک پاکستان کی حمایت کا صلہ ہی تھا۔
15 اگست 1947 کو ایک معجزہ اور ہوا جب پاکستان کی پہلی کابینہ نے حلف اٹھایا تو غیر متوقع طور پر ایک ہندو کو پاکستان کا پہلا وزیر قانون مقرر کیا گیا۔
اس وزارت کے لیے جوگیندر ناتھ منڈل کا انتخاب کر کے غالباً جناح صاحب یہ اشارہ دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ دیوبندیوں کو اعزاز دینے کے باوجود پاکستان صرف مسلمانوں کی حکومت نہیں بننے جا رہا تھا۔
گو کہ دوسرے اشارے کے مقابلے میں پہلا اشارہ طویل مدتی ثابت ہوا اور نہ تو منڈل طویل عرصے برقرار رہ سکے اور نہ ہی ان کی ہندو برادری کا پاکستان میں مستقبل روش بن سکا۔ معجزہ یہی ہوا کہ پاکستان میں دیوبندیوں کو بالا دستی حاصل ہوتی گئی جنہوں نے پاکستانی سیاست اور سماج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
جلد ہی ایک اور معجزہ ہوا اور قیام پاکستان کے بعد ایک ہفتے کے اندر ہی جمہوریت کو ایک بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب صوبہ سرحد ( موجودہ خیبر پختون خواہ ) میں ڈاکٹر خان صاحب کی صوبائی حکومت کو برطرف کر دیا گیا۔ پاکستان میں برطرف کی جانے والی یہ پہلی صوبائی حکومت تھی۔ ڈاکٹر خان صاحب عبدالغفار خان کے بڑے بھائی تھے جو اس خطے کے سرکش مجاہد آزادی تھے۔ دونوں بھائی انڈین نیشنل کانگریس کے حامی تھے تخلیق پاکستان کے سلسلے میں عوامی حمایت کا فیصلہ کرنے کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کرچکے تھے۔
اگر مسلم لیگ کو صوبہ سرحد میں کانگریس کی حامی حکومت برداشت نہیں تھی تو پھر صحیح طریقہ یہ تھا کہ صوبہ اسمبلی کے اندر عدم اعتماد کے ذریعے تبدیلی لائی جاتی لیکن یہ ایک معجزہ ہی تھا کہ آزادی کے بعد جس جمہوریت اور رواداری کی توقع تھی وہ پوری نہ ہو سکی۔
اس کے بعد نہ صرف صوبائی حکومتوں بل کہ وفاقی حکومتوں کو بھی برطرف کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک اور کام یہ کیا گیا کہ برخواست کر نے کے بعد ڈاکٹر خان صاحب کو حراست میں لے لیا گیا اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ انہیں ہزارے میں محدود کر دیا گیا اور پھر ستمبر 1947 میں باچا خان کی سرخ پوش تحریک پر بھی پابندی لگا دی گئی اور جدوجہد آزادی میں ان کی ہمہ جہت شخصیت کے باوجود غفار خان کو بھی گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا گیا۔
فروری 1948 میں چودھری خلیق الزماں کو پاکستان مسلم لیگ کا صدر منتخب کیا گیا اس سے قبل یہ آل انڈیا مسلم لیگ کہلاتی تھی۔
محمد علی جناح آل انڈیا مسلم لیگ کے آخری صدر تھے جنہوں نے گورنر جنرل بننے کے بعد مسلم لیگ کی صدارت چھوڑ دی تھی۔
اسی مہینے میں یعنی فروری 1948 میں دستور ساز اسمبلی کا تقریباً چھ ماہ کے وقفے کے بعد دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔ جناح صاحب نے بذات خود دوسرے اجلاس کی صدارت کی جب کہ پہلے سیشن کی صدارت وزیر قانون منڈل نے کی تھی۔ دوسرے سیشن میں ایک اہم فیصلہ یہ ہوا کہ حکومت کے انتظامی عہدوں سے مسلم لیگ کے عہدے داروں کو الگ کر دیا گیا۔ بعد میں لیاقت علی خان نے اس فیصلے کو اس وقت بدل دیا جب انہیں وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی مسلم لیگ کا صدر منتخب کیا گیا۔
ایک اور معجزہ یہ تھا کہ ملک کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان بنگالی ہونے کے باوجود اردو کو ملک کی واحد قومی زبان قرار دے دیا گیا۔ مشرقی بنگال ( اس وقت تک صوبے کا نام بدل کر مشرقی پاکستان نہیں رکھا گیا تھا ) کے بعض ارکان نے مطالبہ کیا تھا کہ دستور ساز اسمبلی کا اجلاس باری باری کراچی اور ڈھاکے میں منعقد کرایا جائے اور ارکان کو اسمبلی میں بنگلہ زبان میں تقریر کرنے کی اجازت دی جائے۔ وزیراعظم لیاقت علی خان نے اس تجویز پر برہمی کا اظہار کیا اور پر زور مخالفت کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ”قومی یکجہتی“ کی خاطر صرف اردو زبان استعمال کرنے کی اجازت دیں گے۔ اس کا ”قومی یکجہتی“ پر دیرپا اثر پڑنے والا تھا۔
” قومی یکجہتی“ کے تابوت میں ایک اور کیل اس وقت ٹھونکی گئی جب مارچ 1998 میں جناح صاحب نے ڈھاکا یونی ورسٹی میں واضح کیا کہ ملک میں صرف اردو چلے گی۔
وہ بھی کسی اور زبان کو قومی زبان کا درجہ دینے کو تیار نہیں تھے۔ یاد رہے کہ مشرقی بنگال کی آبادی پورے پاکستان کے مقابلے میں میں 56 فی صد تھی اور بنگالی عوام اردو کو واحد قومی زبان بنانے کے خلاف تھے۔
ابھی آزادی کو پورا ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ اپریل 1948 میں وزیر اعلیٰ سندھ ایوب کھوڑو کو برطرف کر کے پیر الہی بخش کو نیا وزیر اعلیٰ مقرر کر دیا گیا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ تقسیم کے فوراً بعد پیر صاحب نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان کی تمام مساجد کو ہدایت دی جائے کہ جمعہ کے خطبے میں جناح صاحب کا نام شامل کیا جائے جس طرح قرون وسطیٰ میں رواج تھا کہ جمعہ کے خطبے میں خلیفہ کا نام لیا جاتا تھا۔ خوش قسمتی سے کسی نے ان کی احمقانہ تجویز پر توجہ نہیں دی۔
ایوب کھوڑو سندھ میں مہاجرین کی آبادی کاری کو محدود کرنے حامی تھے جس کی وجہ سے ملک غلام محمد اور غضنفر علی خان جیسے مرکزی وزراء سے ان کے اختلاف پیدا ہو گئے۔ اسی دوران غلام علی ٹالپور اور پیر الہی بخش جیسے سندھ کے وزراء ایوب کھوڑو کے خلاف سازش تیار کر رہے تھے۔ پہلے قدم کے طور پر سندھ کے گورنر غلام حسین ہدایت اللہ نے ایوب کھوڑو کو صوبائی وزارت داخلہ سے محروم کر دیا اور پھر 26 اپریل 1948 کو بدعنوانی کا الزام لگا کر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
نئے وزیر اعلیٰ پیر الہی بخش جناح اور مرکزی حکومت کے بہت زیادہ وفادار تھے۔ صوبہ سرحد کے ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کی برطرفی کے بعد ایوب کھوڑو کی سندھ صوبائی حکومت دوسری تھی جسے برطرف کیا گیا جب کہ جناح صاحب ابھی حیات تھے۔
مئی 1948 میں خان عبدالغفار خان اور جی ایم سید نے حزب اختلاف کی پہلی جماعت قائم کی جس کا نام پیپلز پارٹی آف پاکستان رکھا گیا۔ غفار خان اس کے صدر اور جی ایم سید اس کے جنرل سیکریٹری بن گئے لیکن ایک ہفتے کے اندر ہی ان کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی۔
دوسری طرف جون 1948 میں پہلی رؤیت ہلال کمیٹی تشکیل دی گئی جو مفتی محمد شفیع، احتشام الحق تھانوی، عبد الحامد بدایونی وغیرہ پر مشتمل تھی۔ ظاہری طور پر اس کا سیاسی واقعات سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نئی ریاست کس راستے پر چلنے والی تھی۔
نئے وطن میں باریش لوگوں کے مقابلے میں سائنس و ٹیکنالوجی کو کمتر اہمیت ملنے والی تھی۔ حالاں کہ اس وقت بھی سائنسی پیش گوئی کر سکتے تھے کہ چاند کب اور کہاں دکھائی دے گا۔ رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل کا مطلب پاکستان کو بتدریج ملاؤں کے ہاتھ میں یرغمال بنانا ثابت ہوا۔
یہ تمام معجزے ہی تو تھے جو قیام پاکستان کے فوراً بعد سامنے آتے گئے اور ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس معجزاتی ملک کی معیشت، سیاست اور سماج کو کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے مگر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں دنیا کی تاریخ نے اس سے بھی بڑے معجزے دیکھے ہیں اور حتمی طور پر تاریخ آگے ہی بڑھتی ہے پیچھے نہیں جاتی۔


