میں فکر اقبال سے کیسے روشناس ہوا


کلام قبال سے میرے ربط و ضبط کا آغاز لڑکپن سے ہو گیا تھا۔ بلکہ شعر و سخن کی جانب میری رغبت میں کلام اقبال کا اہم کردار تھا۔ ابتدائی جماعتوں میں دعا، لب پہ آتی ہے دعا، ایک گائے اور بکری، ہمدردی اور پہاڑ اور گلہری، جیسی نظموں سے یہ شوق پروان چڑھا اور سیکنڈری جماعتوں میں پہنچ کر ، شکوہ، جواب شکوہ، ایک آرزو اور طلوع اسلام جیسی شہرہ آفاق نظمیں پڑھ کریہ شوق جوان ہوا۔ اس دور میں اقبال کے مشہور اشعار شب و روز میرے دل و دماغ پر چھائے رہتے۔

یہ الگ بات ہے کہ اکثر کا مفہوم پوری طرح سمجھ نہیں آتا تھا اور ان مفاہیم سے آگاہ کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ کیونکہ ہمارے اساتذہ اگرچہ بہت محنتی تھے لیکن ان میں سے اکثر کا علم محدود تھا۔ وہ جو کچھ پڑھا دیتے اسی پر قانع رہنا پڑتا کیونکہ انھیں سوال سننا پسند نہیں تھا۔ اس دور میں وہ استاد سب سے کامیاب سمجھا جاتا جس کی کلاس میں سناٹا ہو اور کسی قسم کی آواز نہ آئے۔ ان دنوں ”مولا بخش“ کے استعمال پر پابندی نہیں تھی بلکہ اس کا آزادانہ استعمال ہوتا تھا۔ لہذا تجسس کے باوجود اکثر خاموش رہنا پڑتا۔ اس تشنگی کا احساس مجھے عمر بھر رہا۔ میری دعا ہے کہ ہر طالب علم کو تشفی بخش ذرائع علم میسر ہوں تاکہ اس کے ذہن و دل میں کوئی تشنگی باقی نہ رہے۔ اگر ہمارے تعلیمی اداروں میں مولوی میر حسن جیسے استاد ہوں تو شاید ملت اسلامیہ کو کوئی دوسرا دانائے راز بھی مل جائے۔

بحیثیت شاعر علامہ اقبال کا مرتبہ و مقام مجھے ہمیشہ ہمالہ سے بھی بلند نظر آتا تھا۔ ان کی شاعری دل کے تاروں کو چھوتی تھی لیکن ان کا فکر اور فلسفہ کبھی بھی پوری طرح سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے بھی اس مد میں کبھی شعوری کوشش نہیں کی۔ بس ذوق سخن کے تحت ان کے اشعار پڑھتا۔ جو سمجھ میں آتے ان سے حظ اٹھاتا اور دیگر کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتا۔ ویسے بھی زمانہ طالب علمی کے بعد فلسفہ، تصوف، دینیات، تاریخ وغیرہ میری توجہ کا مرکز نہیں رہے۔ تاہم ادب سے شغف ضرور رہا۔

چند برس قبل آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں مقیم میرے دوست افضل رضوی جو خود محقق اقبال ہیں، نے مجھے دعوت دی کہ اقبالیات کے موضوع پر مقالہ لکھوں جو وہ آسٹریلیا کے مختلف ادیبوں کی تحاریر پر مشتمل کتاب ”آسٹریلیا میں اقبالیات کی خشت اول“ کا حصہ بنانا چاہتے تھے۔ میں نے معذرت کی اور انھیں بتایا کہ ایسا مقالہ لکھنے سے قاصر ہوں۔ رضوی صاحب نے ہمت نہیں ہاری او ر برابر مجھے ترغیب دیتے رہے۔ حتیٰ کہ میں نے اقبالیات سے متعلق مختلف اچھے مصنفین کی کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا۔

اس مطالعہ سے جیسے میرے ذہن کے دریچے وا ہونے شروع ہو گئے۔ میں نے ایسی حسین وادی میں قدم رکھ دیا تھا جہاں ہر سمت علم و دانش کے موتی بکھرے تھے۔ انھیں چننا شروع کیا تو میری روح میں سرشاری اور طمانیت سی بھرنے لگی۔ فکر کی حرارت سے دل پہ جمی برف پگھلنے لگی۔ اسرار حیات کی گرہیں کھلنے لگیں۔ عشق کی نئی جہتیں دکھائی دینے لگیں۔ انسان کے پوشیدہ جوہر نمایاں ہوئے تو عظمت انسانیت کا ادراک ہوا۔ آدم خاکی محدود سے نکل کر لامحدود وسعتوں کو تسخیر کرتا اس عروج پر نظر آیا جسے دیکھ کر انجم بھی سہم جاتے ہیں۔

فہم و ادراک کے در کھلے تو زندگی میں پہلی مرتبہ اقبال کی شاعرانہ فکر نہ صرف میرے دل میں گھر کرنے لگی بلکہ میرے ذوق و شوق کو مہمیز دینے لگی۔ یہ میرے لیے انوکھا اور دلچسپ تجربہ تھا۔ جتنا میں افکار اقبال سے روشناس ہوتا گیا یوں لگتا تھا کہ ذہن و دل میں کوئی اجالا سا بھر رہا ہے اور تاریکی زائل ہو رہی ہے۔ اس دوران میں، میں نے تین جہات میں مطالعہ جاری رکھا۔ اول: کلام اقبال، دوئم: اقبال کے حیات و افکار پر مشتمل کتب اور سوئم: سید مودودیؒ کی تفہیم القرآن میرے زیر مطالعہ تھی۔

میرے ذہن سے زنگ اتارنے اور اس کے اندر فکر اقبال کا نور بھرنے کے لیے یہ تینوں جہات مفید و کارآمد ثابت ہوئیں۔ میرے نزدیک فکر اقبال کی روح کو سمجھنے کے لیے قرآن کا دامن تھامے رکھنا اتنا ضروری ہے جس طرح رنگ و نکہت سے مزین کسی شگفتہ گل کی خاصیت جانچنے کے لیے اس پودے کا ادراک ضروری ہے جس پر یہ گل رعنا اگتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کلام اقبال کا بیشتر حصہ دین اسلام کی تشریح و توضیح پر مبنی ہے اور قرآن کی روشنی سے مزین ہے۔ متعدد قرآنی آیات کا ترجمہ اور تشریح پڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ اس مضمون کا شعر کلام اقبال کا حصہ ہے۔ اس کتاب میں شامل کئی آیات قرآنی کا حوالہ میری ذاتی تحقیق کا نتیجہ ہے۔

مطالعہ کا یہ سلسلہ جاری رہا حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آیا کہ میرا جی چاہا کہ اپنے جذبات و خیالات کو الفاظ کا جامہ پہناؤں۔ لہذا میں نے قلم اٹھایا اور ’دانائے راز‘ کے عنوان سے لکھنا شروع کیا۔ پچاس صفحات پر مشتمل یہ مقالہ لکھنے میں صرف چند ایام لگے۔ میں نے مقالہ تو رضوی صاحب کو ارسال کر دیا مگر میری جستجو، میرے اندر کی تپش اور بے قراری کم نہ ہوئی۔ فکر اقبال سے ربط و ضبط بدستور برقرار رہا۔ دراصل خوب سے خوب تر کی تلاش میں انسان کو براہ راست خالق سے ہم کلام کرنے والے اس دل پذیر کلام نے جیسے مجھے اسیر سا کر لیا تھا۔ اس جستجو اور بے قراری نے میرے شب و روز کی لگی بندھی روش بھی بدل دی۔ محفلوں سے جی اچاٹ ہو گیا۔ مجھے اپنے آپ کے ساتھ وقت گزارنے، اپنے باطن میں جھانکنے اور فکر اقبال کی روشنی میں اسرار حیات اور رموز کائنات پر غور کرنے میں لطف آنے لگا۔

اس مطالعہ سے میری فکر اور وجدان کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ یوں لگتا تھا کہ ایک وسیع و عریض لامتناہی گلشن میں موجود ہوں جہاں ہر رنگ و بو کا گل رعنا خوشہ چینی کے لیے میری دسترس میں ہے۔ میں رنگ برنگی کلیاں چنتا اور جھولی بھرتا جاتا۔ علم کوئی بھی ہو اپنے اندر رعنائی فکر تو رکھتا ہے لیکن اگر یہ علم کائنات کے اسرار و رموز منکشف کرنے والا اور رفعت انسانی کا علم بردار، خودی اور عشق جیسے فلسفہ حیات پر مبنی ہو اور شعری حسن سے مزین بھی ہو تو در دل پر دستک لازمی ہوتی ہے بس یہ کہ چاہے تھوڑی دیر کے لیے دل دماغ کو دنیا وی حرص و ہوس سے پاک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس میں یہ الہامی فکر و فلسفہ جگہ بنا سکے۔

فکر اقبال نے مجھے اتنا انسپائر کر دیا کہ میں نے اس موضوع پر باقاعدہ کتاب لکھنے کا ارادہ کر لیا۔ اس کے دو مقاصد تھے۔ ایک تو اپنے اندر موجود تپش اور بے قراری کا اظہار تھا جو ہر قلم کار بلکہ فن کار کا مطمح نظر ہوتا ہے۔ دوسری وجہ اگلی سطور سے عیاں ہو جائے گی۔ کتاب لکھنے کا فیصلہ تو کر لیا تاہم یہ فیصلہ بہت مشکل تھا کہ اس وسیع اور عمیق سمندر میں سے میرے حصے میں کیا آئے گا۔ کیونکہ کلام اقبال اور افکار اقبال کے اندر اتنی ہمہ جہتی، ہمہ گیری او ر ہمہ رنگی پائی جاتی ہے کہ ان میں سے کسی ایک موضوع کا احاطہ کرنے کے لیے کئی کتب درکار ہیں۔

دوسرا یہ کہ ان موضوعات پر جید ماہرین اقبال سیر حاصل تصانیف مرتب کر چکے ہیں۔ اقبالیات سے متعلق ہر موضوع پر بے شمار کتب موجود ہیں۔ ان تصانیف کی موجودگی میں، میں اقبالیات سے متعلق کس موضوع پر جرات خامہ فرسائی کروں جو دیگر کتب سے مختلف اور قارئین کے کسی خاص طبقے کے لیے مفید و کار آمد ہو، یہ میرے لیے بڑا چیلنج تھا۔ کافی سوچ بچار کے بعد میں نے کوئی نیا اور منفرد موضوع منتخب کرنے کے بجائے علامہ اقبال کی حیات کے اہم حالات و واقعات اور ان کی فکر کے مرکزی اجزا کو اس انداز میں احاطہ قلم میں لانے کا فیصلہ کیا کہ پیام اقبال ہر خاص و عام تک رسائی حاصل کر سکے۔

اگرچہ اس موضوع پر درجنوں مفصل کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور ان میں اضافہ نا ممکن ہے۔ مگر میری اس عاجزانہ کاوش اور جید علما کی تصانیف کے درمیان وہی فرق ہے جو ان میں اور مجھ میں ہے یعنی وہ کلام اقبال کی معرفت اور گہرائی سے اس قدر فہیم و آشنا ہیں کہ ان کی کتب بھی فلسفے اور افکار عالیہ کا شاہکار ہیں اور ان سے مستفید ہونے کے لیے بھی ایک خاص سطح کی لسانی، علمی اور ذہنی استطاعت کی ضرورت ہے جو ہر ایک کے بس میں نہیں ہے۔

دوسرا یہ کہ اقبالیات پر مبنی اکثر کتب کسی ایک خاص موضوع کا احاطہ کرتی ہیں جو سیر حاصل ہونے کی بنا پر اس موضوع کا تو شاید حق ادا کرتی ہوں لیکن ایسی درجنوں دقیق کتب کے مطالعہ کے بعد فکر اقبال کا سرا ہاتھ میں آتا ہے۔ اقبالیات سے متعلق ہر کتاب اپنی جگہ اہم اور قابل ستائش ہے کیونکہ یہ فلاح انسانیت پیغام ہے مگر عمومی طور پر ان کتب کا مطالعہ اکیڈمک ریسرچ تک محدود ہے جبکہ عام قاری انھیں اپنی پہنچ سے دور پاتا ہے۔ شاید یہی وجہ کہ اقبالیات کے موضوع پر سیکڑوں کتب ہونے کے باوجود فکر اقبال اس طرح سے عام لوگوں تک نہیں پہنچ پایا جو کہ اس کا حق ہے۔

آج بھی جب علامہ اقبال کو پاکستان کا قومی شاعر اور مصور پاکستان قرار دیا جاتا ہے اور پاکستان سمیت دیگر ملکوں میں جہاں اردو اور فارسی پڑھی جاتی ہے اقبال کو ایک عظیم فلسفی، شاعر مشرق، مسیحائے ملت اور حکیم الامت کا خطاب دیا جاتا ہے، کلام اقبال کی روح سمجھنے والوں کی تعداد مٹھی بھر بھی نہیں ہے۔ ہر سال یوم اقبال منایا جاتا ہے، سیمینار منعقد ہوتے ہیں، مضامین لکھے جاتے ہیں، دھواں دھار تقاریر ہوتی ہیں اور اشعار سنائے جاتے ہیں جو ہم بچپن سے سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں مگر اقبال کی فکر جو ہماری روح کو سیراب کر سکتی ہے، ہمارے باطن کی تاریکیاں دور کر کے اسے نور علم سے منور و سرشار کر سکتی ہے، سے ہم محروم ہیں۔

آج ہم بحیثیت فرد اور بحیثیت قوم کیوں بے سکونی، انتشار اور بے عملی کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قائد کے فرمان، اقبال کے پیام اور اللہ کے قرآن کو فراموش کر دیا ہے۔ قرآن مجید کو حرز جان بنانے کے بجائے اسے کارنسوں پہ سجا دیا گیا۔ کلام اقبال سے استفادہ حاصل کرنے کے بجائے اسے قوالوں کے حوالے کر دیا ہے اور قائد کے فرمان کا تو ذکر ہی کیا، ان کے بتائے اصولوں یقین، ایمان اور اتحاد کا جو حشر ہم نے کیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

اقبال کا آفاقی پیغام جملہ بنی نوع انسان کے لیے مشعل راہ ہے۔ یہ زیست کا مقصد بتاتا ہے اور اسے بسر کرنے کا ہنر اور حوصلہ بھی بخشتا ہے۔ اسے عوام الناس کے ہر طبقے میں پھیلانے کے لیے ہر طریقہ بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ مثلاً ایسی کتابیں لکھی جائیں جو مختصر ترین پیرائے میں اور عام فہم انداز میں یہ پیام عام کر سکیں۔ نصابی کتب میں اقبال کی صرف شاعری شامل کر دینا کافی نہیں ہے۔ اقبال کے پیام کو آسان نثری زبان میں مرحلہ وار شامل اشاعت کر کے طلبا کی ذہن سازی کرنی چاہیے تاکہ وہ اقبال کا شاہین بن کر ملک و ملت کے لیے سرمایہ افتخار ثابت ہوں۔ اس کے علاوہ نشرو اشاعت کے ادارے شاعر مشرق کے ثروت افکار کو مہم کی شکل میں عام کریں تاکہ یہ عدیم المثال پیغام نوجوانوں کے قلب و ذہن میں گھر کرسکے۔ ایسا ہو جائے تو آج کا نوجوان ذہنی پراگندگی سے نکل کر مثبت اور تعمیری راہ پر گامزن ہو کر اپنی اور ملت دونوں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

’حیات و افکار اقبال‘ اقبالیات کے متعلق دیگر کتب سے اس لیے مختلف ہے کہ اس ایک کتاب میں شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال کی زندگی کے اہم حالات و واقعات اس انداز سے درج ہیں کہ ہر خاص و عام حیات اقبال سے آگاہی حاصل کر سکتا ہے۔ بلکہ یہ روح پرور واقعات پڑھ کر اسے دامن دل پر دستک محسوس ہوگی اور حکیم الامت کے لیے اس کی عقیدت میں اضافہ ہو گا۔

اقبال کے کلام کا نچوڑ اور مرکزی نکتہ ان کا ’نظریہ خودی‘ ہے۔ نظریہ خودی، صرف خوش نما فلسفہ اور دل آفریں شاعری نہیں ہے بلکہ زندگی کو بامقصد بنانے اور اسے منشائے الہی کے مطابق بسر کرنے کا طریقہ اور راستہ بھی ہے۔ یہ افراد اور اقوام کے لیے ایسا مژدہ جان فزا ہے جو مردہ دلوں میں عشق کی حرارت پیدا کر کے انھیں ستاروں سے بھی آگے مائل بہ پرواز کر سکتا ہے۔ اقبال کا یہ اہم فلسفہ یعنی ’خودی‘ اس کتاب کا جزو ہے مگر اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ گنجلک اور پیچیدہ ہو کر عام قاری کی دسترس سے باہر نہ ہو۔

فلسفہ خودی کے علاوہ جو اہم موضوعات شامل اشاعت ہیں ان میں اقبال کا فلسفہ عشق، اقبال کا عشق رسول ﷺ ، اقبال ترجمان فطرت، اقبال کا نظریہ یورپ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں اقبال کی مخالفت کی وجوہات، بھی اس کتاب کا حصہ ہے۔ یوں یہ کتاب اقبال کی زندگی کے حالات و واقعات، ان کی فکری ارتقا، ان کی قومی اور ملی جد و جہد، قیام پاکستان میں ان کا کردار، ان کے دور کے سیاسی اور بین الاقوامی حالات، ان کی مخالفت کی وجوہات اور ان کے فلسفہ حیات و کائنات کے نچوڑ پر مبنی ہے۔ اقبال کی زندگی اور ان کی شاعری کی اتنی جہات ہیں کہ ایک کتاب میں ان سب کا احاطہ کرنا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ ’حیات و افکار اقبال‘ میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ ایک ہی کتاب پڑھ قاری اقبال فہم نہیں تو کم از کم اقبال شناس تو بن سکے۔

اقبال کا فلسفہ و افکار بیان کرنے کے لیے ان کے اشعار کا انتخاب بھی آسان نہیں ہے کیونکہ ان کا ہر شعر اتنا شاندار، پر اثر اور معنی خیز ہے کہ انتخاب مشکل ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ ایسے اشعار منتخب کروں جو عام قاری کے لیے قابل فہم ہوں مگر ان کی فارسی شاعری کو نظر انداز کرنا نا ممکن ہے۔ بعض موضوعات پر انھوں نے صرف فارسی ہی میں لکھا ہے۔ ان کی کئی کتابیں فارسی میں ہیں۔ لہذا فارسی کے کچھ اشعار اس کتاب کا حصہ بنانے پڑے۔ میں نے یہ بھی کوشش کی ہے کہ اشعار کا استعمال صرف حسب ضرورت اور بر محل ہو۔ بہرحال یہ ایک عظیم شاعر کی روداد سخن وری ہے لہذا اس کا خوبصورت اشعار سے مزین ہونا اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ عام فہم اور سادہ زبان استعمال

کرنے کی شعوری کوشش کے باوجود زیر بحث فکر اور فلسفہ کی وضاحت کے پیش نظر مختلف النوع الفاظ اور تشبیہات و تلمیحات کا استعمال ناگزیر تھا کیونکہ بہرحال یہ شعر و فلسفہ کا ذکر ہے جس میں زبان و بیان بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

قارئین، اقبال کی درویشانہ حیات، ان کا عارفانہ انداز سخن اور ان کے حکیمانہ افکار جس طرح میرے قلب و ذہن پر اثر انداز ہوئے ہیں، میری کوشش اور خواہش ہے کہ اپنی تحریر کے ذریعے یہ وجد آفرین اثرات اپنے قارئین تک منتقل کر سکوں۔ اگر چند لوگ بھی افکار اقبال سے روح کی بالیدگی حاصل کر پاتے ہیں تو میری اس کاوش کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ اس سے قبل میں نے افسانے، سفرنامے اور روداد سفر حج لکھی ہے۔ میری ان کتابوں میں حیات و کائنات کا مشاہدہ اور میرے باطنی مشاہدات و تجربات، دونوں کا پرتو موجود ہے مگر اقبالیات خالصتاً علمی کاوش ہے جو صرف ادب نہیں بلکہ فلسفہ، تاریخ، دینیات اور تصوف جیسے بیش بہا مگر منفرد تصورات پر مبنی ہے جو میرے لیے نئے موضوعات تھے۔

ان سے میری علمی و عقلی استعداد میں اضافہ ہوا ہے اور کائنات و حیات کے رموز سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ امید ہے کہ قارئین بھی اس علمی مباحث سے مستفید ہوں گے۔ اقبال کے کلام میں ہر انسان کے لیے پیغام موجود ہے اگر وہ اسے حرز جاں بنا لیتا ہے تو اس کے انداز تفکر اور انداز حیات میں ایسی انقلابی تبدیلی آ سکتی ہے جو اسے پاتال سے اٹھا کر تسخیر کائنات کے مشن پر کاربند کر سکتی ہے اور اسے صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات بنا سکتی ہے۔

میں رب ذوالجلال کا شکر گزار ہوں جس نے یہ توفیق عطا فرمائی کہ اس دقیق علمی موضوع پر قلم آزمائی کر سکوں۔

Facebook Comments HS