تحریک انصاف سے متعلق نظام عدل کا دہرا معیار
لاہور کے زمان پارک اور اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں جو ہوا اسے سیاسی احتجاج سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ جمہوریت میں احتجاج اور اختلاف رائے کی آزادی ہر شخص کو حاصل ہے۔ ہمارا آئین ہر شخص کو پر امن احتجاج اور آزادی اظہار رائے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ حکومت اور ریاستی ادارے تو کجا عدلیہ بھی کسی شہری کو اس بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتی۔ نا ہی دنیا کا کوئی قانون کوئی جوڈیشل سسٹم کسی ایسے مفروضے کی بنیاد پر کہ فلاں شخص مستقبل میں گھر سے نکل کر فلاں جرم کا ارتکاب کر سکتا ہے اس کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے کا حکم پیشگی جاری کر سکتا ہے۔
اسی طرح ملکی آئین ہر شخص کو اپنی سوچ کے مطابق سیاسی عقیدہ رکھنے کی آزادی بھی فراہم کرتا ہے۔ آئین میں درج ان حقوق اور آزادیوں کی لیکن چند حدود و قیود اور سیفٹی بیریئرز بھی ہیں جن کی عدم پاسداری کی صورت یہ حقوق معطل بھی ہو سکتے ہیں۔ مثلاً جیسے کسی شخص کو پر امن احتجاج کی آزادی ہے ویسے ہی آزادانہ نقل و حمل ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے۔ کسی بھی شاہراہ یا عوامی مقام پر اجتماع خواہ کتنے ہی ارفع مقصد کی خاطر ہو اگر اس سے نقل و حمل پر اثر پڑے تو وہ قانون شکنی کے زمرے میں ہی تصور ہوتا ہے۔ کسی بھی احتجاج کے دوران رکاوٹیں کھڑی کر کے عام لوگ جن کا کسی سیاسی سرگرمی سے کوئی لینا دینا نہیں ان کی نقل و حرکت متاثر کرنے کا کسی بھی جمہوری معاشرے میں تصور نہیں کیا جا سکتا۔
تحریک انصاف تو جب سے اقتدار سے نکلی ہے اس کے تمام مقاصد ہی بالکل نا جائز اور غیر آئینی ہیں لہذا اسے کس طرح عوام کی زندگی اجیرن کرنے اور نقل و حرکت محدود بنانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کے انتشار کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ عمران خان کے مقدمات میں عدالتوں کو دباؤ میں لاکر نہ صرف ریلیف حاصل کیا جائے بلکہ دھونس اور دھاندلی سے ایک مرتبہ پھر دو ہزار اٹھارہ جیسے انتخابی نتائج حاصل کیے جائیں۔
آئین میں انتخابات کا طریقہ واضح طور پر درج ہے اور جس کے لیے نگران حکومتوں کا قیام ضروری ہے۔ بالفرض تحریک انصاف کی فرمائش پر عدالتوں سے جاری ہوئے حکم پر دو صوبوں میں قبل از وقت انتخابات ہو جائیں تو عام انتخابات کے موقع پر وہاں کس کی حکومت ہوگی؟ لازمی بات ہے کہ اس وقت تحریک انصاف یا اس کی مخالف جماعتیں حکومت میں ہوں گی۔ اور جب بر سر اقتدار جماعت عام انتخابات میں اس صوبے سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر اکثریت حاصل کر گئی تو ان نتائج کو ہارنے والا فریق تسلیم کرے گا؟
یہ سراسر ملک کو انارکی اور نہ ختم ہونے والے بحران میں مبتلا کرنے والا فیصلہ ہے اور پنجاب میں انتخابات ملتوی کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ نئے انتخابات موجودہ اسمبلیوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکتے ہیں یا پھر ایک اور طریقہ یہ ہے شہباز شریف خود اسمبلی تحلیل کر دیں۔ اس کے سوا آئینی لحاظ سے انتخابات کرانے کا کوئی طریقہ نہیں۔ دو صوبوں میں پیشگی انتخاب کا عمران خان کا مطالبہ بالکل غیر منطقی ہے اسی لیے پہلے وہ عسکری اداروں پر دباؤ بڑھاتے رہے تاکہ وہ ماضی کی طرح مداخلت کریں اور حکومت کو تحریک انصاف کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کر دیں۔ لیکن عسکری اداروں کی طرف سے حسب منشاء معاونت نہ ملنے کے بعد اب وہ اپنا غصہ اور ہیجان عوام کی زندگی اجیرن بنا کر نکالنا چاہتے ہیں تاکہ ملک میں انارکی پیدا ہو جائے اور اگر ان کی جگہ نہیں بنتی تو پورا نظام ہی تہس نہس ہو کر رہ جائے۔
نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے تحریک انصاف کی اس فاشسٹ اور دہشتگردانہ ذہنیت کو پروان چڑھانے کی ذمہ داری بڑی حد تک اس جماعت سے متعلق ریاستی اداروں کے نرم رویے پر عائد ہوتی ہے۔ دو ہزار چودہ کے دھرنے میں تحریک انصاف ڈی چوک دھرنے پر کیا کیا نہیں کر چکی۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر دھاوا بولا۔ وزیر اعظم ہاؤس پر قبضے کی کوشش کی۔ سول نا فرمانی کا اعلان کیا۔ عوام کو یوٹیلٹی بلز جلانے کی ترغیب دی۔ پیسہ بھیجنے اور منگوانے کے لیے پراپر چینلز کے بجائے حوالہ و ہنڈی جیسے شرمناک فعل پر عوام کو مسلسل اکسایا گیا۔
غیر ملکی سربراہان کے دورے دانستہ ملتوی کرائے جس سے معیشت نا قابل تلافی نقصان سے دوچار ہوئی۔ قانون پر عملدرآمد اور سرکاری رٹ بچانے کی کوشش میں مصروف افسران کو سر عام ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں دیں۔ حتی کہ اس وقت کے منتخب وزیر اعظم کو قتل کرنے کی سازش تک کی گئی۔ عمران خان بلا خوف سرکاری افسران کو یہ کہہ کر اب بھی دھمکا رہے ہیں کہ، اقتدار میں آنے کے بعد جن افسران نے ان کے کارکنان کے خلاف کوئی قدم اٹھایا انہیں نہیں چھوڑیں گے۔
زمان پارک میں گزشتہ دنوں جو تماشا ہوا وہ بھی لازما ہر یاد داشت میں محفوظ رہے گا۔ انتظامیہ کے ساتھ دھونس دھمکی، مار کٹائی، پولیس پر تشدد اور پولیس موبائل جلانا کسی سیاسی جماعت کا کام ہے؟ اپنی نوعیت کا یہ واقعہ بھی واحد ہے، ایک وفاقی اکائی کی پولیس نے دوسری پولیس فورس پر بندوقیں تان لیں۔ ان تمام جرائم کی سزا ملنے کی بجائے نہ صرف تحریک انصاف کی سرپرستی ہو رہی ہے بلکہ حکومت کے اختیارات میں عدالتوں کی طرف سے مداخلت جاری ہے۔ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات سے پہلے انتخابات کے دوران اور اس کے بعد تحریک انصاف کی سر پرستی کے نتائج سب کے سامنے ہیں اور اب جو نقصان ہو رہا وہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں۔
حیرت ہے کہ اب بھی کچھ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ وفاقی حکومت تحریک انصاف کی اس دہشتگردی پر خاموش کیوں ہے اور کوئی کارروائی کیوں نہیں کر رہی۔ یہ سوال کرنے والے یا تو ملکی نظام سے بالکل ہی لا علم ہیں یا جانتے بوجھتے فکری بددیانتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ عمران خان صاحب اور ان کے ہمنواؤں کے خلاف کارروائی ہونا تو درکنار ایف آئی اے یا الیکشن کمیشن انہیں معمولی نوٹس بھیج دے تو فی الفور عدالت کی طرف سے انہیں ”ہراساں“ نہ کرنے کا حکم آ جاتا ہے۔
پنجاب اس وقت تحریک انصاف کی شر پسندی کا مرکز ہے وہاں کی حکومت جس طرح پلیٹ میں ڈال کر عمران خان کو پیش کی گئی تھی اس سے ہمارے نظام عدل کا جھکاؤ کس جانب ہے واضح ہو گیا تھا۔ ریاستی اداروں کا نیوٹرل رہنے کا عزم خوش آئند ہے لیکن اداروں کو سوچنا چاہیے کہ ان کی بے جا سر پرستی سے ہی تحریک انصاف اتنی طاقتور ہوئی تھی لہذا اس جماعت کی حقیقت بے نقاب کر کے اس کو اصل سائز میں لانا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ یاد رکھیں معیشت کے بعد ملکی سلامتی برباد ہونے کی باری ہے۔


