ایران سعودی معاہدہ اور چین: ہم کہاں کھڑے ہیں؟
دس مارچ کو چین سے ایک ایسی خبر آتی ہے جس پر کوئی عرب و عجم، مغرب یا ایشیاء کا باشندہ یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔ چین نے آخرکار وہ گتھی سلجھا دی جو کئی صدیوں سے کسی سے سلجھ نہیں پا رہی تھی۔ چین کے شہر بیجنگ میں سعودی عرب اور ایران صلح معاہدہ کرتے ہیں۔ اس معاہدے کو فائنل کرنے سے چھ روز قبل اس کے نکات پر چین میں سعودی عرب اور ایران کے سفارتکاروں میں مذاکرات چلتے رہے۔ ساتویں دن اچانک چین۔ سعودی عرب اور ایران کے عہدیداران منظر عام پر آتے ہیں اور ہاتھوں میں سرخ اور سبز رنگ کے معاہدے کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں۔
مغربی میڈیا کے مطابق جو بائیڈن انتظامیہ اس معاہدے اور مذاکرات سے متعلق پہلے سے باخبر تھی لیکن انہوں نے فی الحال خاموشی اختیار کیے رکھی۔ معاہدے کے مطابق سعودی عرب اور ایران دوبارہ اپنے سفارتی تعلقات بحال کریں گے۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ اس معاہدے کے طے پانے کے اگلے دن ہی سعودی بادشاہ ایرانی صدر کو خصوصی طور پر خط لکھتے ہیں اور ان کو سعودی عرب کے دورے کی دعوت دیتے ہیں۔
قوی امکان ہے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے اور ان کا شایان شان استقبال بھی کیا جائے گا۔ سعودی عرب اور ایران کا معاہدہ کروانے میں چین نے مرکزی رول ادا کیا جبکہ اومان اور عراق کا بھی معاہدہ کروانے میں اہم رول تھا۔ محمد بن سلمان نے ولی عہد بننے کے بعد اپنی بھرپور طاقت دکھانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے اقتدار کے آغاز میں ہی تین بڑے کام کیے۔ پہلا انہوں نے یمن کے باغیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا، دوسرا، سعودی شہزادوں کی گرفتاریاں اور تیسرا شیعہ عالم دین شیخ نمر کی گرفتاری اور سر قلم کرنا۔
یمن جنگ کا آغاز انہوں نے 2016 میں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان میں نواز شریف وزیراعظم تھے اور راحیل شریف آرمی چیف تھے۔ آپ کو یاد ہو گا سعودی عرب نے اس جنگ کے لئے پاکستان سے بھی فوج مانگی تھی۔ نواز شریف اور راحیل شریف فوج بھیجنے کے لئے تیار تھے لیکن عمران خان نے فوج بھیجنے کی مخالف کردی، جس کے بعد معاملہ پارلیمنٹ میں چلا گیا۔ پارلیمنٹ میں ایک قرار داد پیش کی گئی جو تحریک انصاف کی مخالفت کے بعد متفقہ طور پر منظور نہ ہو سکی اور پاکستان نے سعودی عرب کو فوج دینے سے انکار کر دیا۔
جس کی وجہ سے سعودی حکومت نواز حکومت سے کافی نالاں نظر آئی گو کہ بعد میں محمد بن سلمان کو معلوم ہو گیا کہ عمران خان اور ان کی جماعت نے فوج بھیجنے کی مخالفت کی تھی۔ محمد بن سلمان نے اقتدار سنبھالتے دوسرا بڑا کام یہ کیا کہ جن سعودی شہزادوں پر کرپشن کے الزامات تھے ان سب شہزادوں کو ایک ہوٹل میں بند کر دیا۔ ایم بی ایس نے ان کو کہا جب تک کرپشن کا پیسہ واپس نہیں کرو گے اس وقت تک تم سب اسی ہوٹل میں قید رہو گے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
آخر کار ان سب شہزادوں نے ایک بڑی رقم واپس کی تو ان کو رہا کیا گیا۔ محمد بن سلمان کے دور میں تیسرا بڑا کام شیعہ عالم شیخ نمر کو پھانسی دینا ہے۔ اس پھانسی کے بعد ایران کافی سیخ پاء ہوا۔ ایران میں سعودی سفارتخانے پر حملہ ہوا۔ پھر سعودیہ ایران تعلقات ختم ہو گئے۔ 2016 کے بعد پھر 10 مارچ 2023 کو دوبارہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات بحال ہوئے ہیں۔ محمد بن سلمان کے رویے میں وقت کے ساتھ تبدیلی آ رہی ہے وہ اب سعودی عرب کو تھرڈ ورلڈ کنٹری کی طرح جدت کی طرف لے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ترک صدر طیب اردوغان نے بھی سعودی عرب کا دورہ کر کے مغرب کو سرپرائز دیا۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات بھی ایک عرصے سے سرد مہری کا شکار تھے۔ لیکن اب طیب اردوغان یورپ اور امریکہ پر انحصار کی بجائے عرب ممالک کی طرف اپنا جھکاؤ کر رہے ہیں اور دوبارہ عربوں سے تعلقات بحال کر رہے ہیں۔ سعودی عرب نے کچھ عرصہ قبل قطر کے ساتھ تعلقات ختم کیے تو باقی عرب ملکوں نے بھی ختم کر دیے۔ سعودی عرب نے ترکیہ سے بھی ایسا کرنے کا کہا لیکن ترکیہ نے انکار کر دیا۔
پھر وقت بدلا قطر میں فٹبال کا ورلڈ کپ ہوا، جو دنیا کی تاریخ کا مہنگا ترین ٹورنامنٹ تھا۔ جس پر قطر نے 230 ارب ڈالر خرچ کیے اس میں سعودی عرب نے بھی قطریوں کی مدد کی۔ سعودیہ اور قطر کے تعلقات کی بحالی میں صدر اردوغان نے اہم رول ادا کیا۔ گزشتہ دنوں ترکیہ میں زلزلہ آیا تو محمد بن سلمان نے پانچ ارب ڈالر کی مالی مدد فوری ترکیہ کے حوالے کی، گزشتہ ہفتے دس سال بعد ترکیہ کے وزیر خارجہ پہلی مرتبہ مصر پہنچے ہیں۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ کا مصر نے شاہانہ استقبال کیا۔ امریکہ کے افغانستان سے نکلنے کے بعد چین کا خطے میں اثر رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک امریکی فلاسفر نے کہا تھا امریکہ سترہ سال کے نوجوان کی چال چلتا ہے جبکہ چین ستر سال کے بزرگ کی چال چلتا ہے۔ چین آہستہ آہستہ اپنے قریبی تمام ممالک کو اپنے دائرے میں شفٹ کر رہا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا پاکستان اور بھارت بھی حصہ ہیں گو کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے سخت حریف ہیں۔
عنقریب اس تنظیم میں سعودی عرب اور ایران بھی باقاعدہ شمولیت اختیار کر لیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس ساری صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہی رہ گیا ہے اس کے علاوہ پاکستان کے پاس کچھ نہیں بچا۔ آج وقت ہے کہ پاکستان مسلم دنیا کو لیڈ کر رہا ہوتا لیکن ہم ایک ایک بلین ڈالر کے لئے دنیا کے ترلے کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران اپنے تعلقات بحال کر سکتے ہیں، ترکیہ مصر سے تعلقات بحال کر سکتا ہے، عرب امارات، بحرین، اومان اور مصر اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کر سکتے ہیں، پاکستان شنگھائی تنظیم میں بھارت کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے تو ہم بھارت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کیوں نہیں بحال کر سکتے؟
اسرائیل سے ہماری دشمنی صرف عربوں کی وجہ سے ہے جبکہ عرب آج اسرائیل سے باقاعدہ تجارت کر رہے ہیں، دوسری جانب ترکیہ اور اسرائیل میں بھی تجارت روٹین کے مطابق ہو رہی ہے۔ پھر پاکستان اپنے فیصلے اپنی مرضی سے کیوں نہیں کر سکتا؟ بھارت کے ساتھ تمام ایشوز کو لاک کریں اور فوری طور پر تجارتی معاہدے کریں۔ ایران اور افغانستان سے روزانہ اربوں روپے کی اشیاء سمگل ہوتی ہے جن میں تیل بھی شامل ہے لیکن ہم ان دونوں ملک کے ساتھ بھی تجارتی معاہدے نہیں کر پا رہے۔
اب دنیا بدل رہی ہے ہر ملک تجارت کے ذریعے خود کو مضبوط اور مستحکم کر رہا ہے لیکن ہم آج بھی اپنی انا کی وجہ سے دنیا سے پچاس سال پیچھے چل رہے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور ایران اور افغانستان کے ساتھ باقاعدہ تجارتی معاہدے پاکستان کو تھرڈ ورلڈ کنٹری کے مقابلے میں لاکر کھڑا کر سکتے ہیں۔ تمام سٹیک ہولڈر اپنی آپس کی لڑائیاں ختم کر کے دنیا کے ساتھ چلنے پر اتفاق رائے پیدا کریں ناکہ کنویں کے مینڈک بن کر اپنی ہی انا میں ڈوبے رہیں۔


