وزیر اعظم شہباز شریف کا صدر عارف علوی کے نام خط: ’آپ کا طرز عمل صدر کے آئینی کردار کے مطابق نہیں‘


صدر عارف علوی کے خط کے جواب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے انھیں لکھا کہ ’میں صرف اس لیے آپ کے خط کا جواب دے رہا ہوں تاکہ آپ کے متعصب رویے اور اقدامات کو سامنے لا کر آپ کی تاریخ درست کر سکوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آپ کے تعصب زدہ خط کے کچھ حصے اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کی پریس ریلیز معلوم ہوتے ہیں۔‘

شہباز شریف نے الزام لگایا کہ ’آپ نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی بار یکطرفہ رویہ دکھایا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آپ نے آئینی طریقے سے منتخب حکومت کی حوصلہ شکنی کی مگر اس کے باوجود میں نے آپ کے ساتھ اچھے روابط قائم کرنے کی کوشش کی۔‘

شہباز شریف نے لکھا کہ ’آپ نے بطور صدر ایک بار بھی عمران خان کی عدالتی حکم عدولی اور تعمیل کرانے والوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ نے یہ بھی نہ سوچا کہ دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے الیکشن کرانے سے ملک نئے آئینی بحران میں گرفتار ہوجائے گا۔ آپ نے آرٹیکل 218 کلاز تین کے تحت شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے تقاضے کو بھی فراموش کردیا۔ آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو آپ نے مکمل طورپر نظر انداز کردیا جو نہایت افسوسناک ہے۔‘

’آپ کا یہ طرز عمل صدر کے آئینی کردار کے مطابق نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’الیکشن کمشن نے 8 اکتوبر2023 کو پنجاب میں انتخابات کرانے کی تاریخ دی۔ تمام وفاقی اور صوبائی اداروں نے متعلقہ اطلاعات الیکشن کمشن کو مہیا کی ہیں۔ الیکشن کرانے کی ذمہ داری آئین نے الیکشن کمشن کو سونپی ہے۔ الیکشن کمشن نے طے کرنا ہے کہ شفاف و آزادانہ انتخاب کرانے کے لیے آرٹیکل 218 تین کے تحت سازگار ماحول موجود ہے۔

’صدر نے اپنے خط میں سابق حکومت کے وفاقی وزرا کے جارحانہ رویے اور انداز بیان پر اعتراض نہیں کیا۔ سابق حکومت کے وزرا مسلسل الیکشن کمشن کے اختیار اور ساکھ پر حملے کررہے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 46 اور رولز آف بزنس کی شق 15 پانچ بی کی صدر کی تشریح درست نہیں۔ صدر اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کی آپ کی بات درست نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جماعتی وابستگی کے سبب آپ نے قانون نافذ کرنےو الے اداروں پر حملوں کو یکسر فراموش کردیا۔‘

وزیر اعظم نے صدر کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ ’آئین کے آرٹیکل 48 کلاز وَن کے تحت صدر کابینہ یا وزیراعظم کی ایڈوائس کے مطابق کام کرنے کا پابند ہے۔ صدر کو مطلع رکھنے کی حد تک اس کا اطلاق ہے، نہ زیادہ نہ اس سے کم۔

’وفاقی حکومت کے انتظامی اختیار کو استعمال کرنے میں وزیراعظم صدر کی مشاورت کا پابند نہیں۔ جناب صدر، میں اور وفاقی حکومت آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ آئین کی مکمل پاسداری، پاسبانی اور دفاع کے عہد پر کاربند ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’آئین میں درج ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر کاربند ہیں۔ حکومت پرعزم ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے، ریاست پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئینی طور پر منتخب حکومت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp