پولیس گردی کی شکایت کس سے کریں


کوئی کہہ رہا تھا شہر میں بدمعاشوں کا راج ہے۔ میں نے بھی سنا ہے تھانوں میں نفری بڑھا دی گئی ہے۔ بدمعاشی کا دوسرا نام پولیس ہے لیکن کوئی بھی اسے اس نام سے نہیں پکارتا، وجہ نامعلوم۔ ششش، چپ، پولیس کے ظلم پر حلق سے آواز مت نکالنا ورنہ دنیا سے نکال دیے جاو گے۔

کچھ دن پہلے ایک صاحب چوری کی رپورٹ درج کروانے تھانے گئے، چور دو لاکھ چرا کر لے گئے تھے۔ اب صاحب روز چوروں کے بارے تھانے پتہ کرنے جاتے ہیں، اسی ہزار خرچہ آ چکا ہے۔ چور پکڑنے کے لیے پولیس نے مزید تعاون مانگا ہے۔

بیگ صاحب کا ویسپا چوری ہو گیا لیکن تھانے میں ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔ بیگ صاحب کے پاس دینے کو دعاؤں کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور تھانیدار انتہائی شریف انسان ہے۔ سو بیگ صاحب مصلے پہ بیٹھ کر ویسپا ملنے کی دعا ہی کر سکتے ہیں۔ کوئی ایف آئی آر کٹوانی ہو تو پہلے تسلی کر لیں آپ کی جیب اس کی اجازت دیتی ہے۔

کل ایس ایچ او کا موڈ سخت خراب تھا، اس لیے شہر کے گشت پر نکل گیا اور جس جس پہ نظر پڑی اس کو پکڑ کے لے آیا اور پھر دے دھنا دھن ڈنڈوں کی بارش کی۔ موڈ اچھا ہو تو کسی ہوٹل میں پایا جاتا ہے۔

پولیس والے بادشاہ ہوتے ہیں، جو بھی کریں وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہوتے۔ جس کو چاہیں اٹھا لیں انھیں کوئی نہیں روک سکتا، قانون بھی نہیں کہ قانون کو تو نظر ہی کچھ نہیں آتا۔ زیادہ تر بے گناہ لوگ پولیس کے عتاب کا نشانہ بنتے ہیں۔ دوران حراست ملزموں کو مجرم ثابت کرنے کے لیے پولیس والے ممکن کم نا ممکن حربے زیادہ آزماتے ہیں۔ اسی لیے اکثر بے گناہ دوسروں کا جرم قبول کر کے جان چھڑا لیتے ہیں۔ اکثر ملزموں کا فیصلہ تفتیش کے دوران سزائے موت دے کر پولیس خود ہی کر دیتی ہے۔

منشیات برآمد کرنا پولیس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اس کے لیے انھیں بس کسی کی بھی تلاشی لینا ہوتی ہے۔ البتہ جدھر منشیات فروشی عروج پہ ہو ادھر کا رخ کرنے سے قصداً گریز کیا جاتا ہے تاکہ بنا خلل چمن کا کاروبار چلتا رہے۔ پولیس والے ڈکیتی یا قتل کی واردات پہ آرام ہی سے پہنچتے ہیں۔ پھرتی دکھانے کا فائدہ بھی کوئی نہیں کہ چڑے تو کھیت چگ کے جا چکے ہوتے ہیں۔ شک کی بنا پر کسی بھی راہ چلتے کو پکڑ کر تھانے بند کر دیا جاتا ہے، البتہ اصل مجرم پکڑنے کے لیے ثبوت کا ہونا ضروری ہے۔

مجبوروں اور لاچاروں کو نشانہ بنانا پولیس کا مزاج ہے ہی لیکن پولیس کو ذہنی مریضوں سے بھی خاص انسیت ہے۔ پولیس کو ”ذمہ داری“ سے کام کرتے دیکھنا ہو تو پھر عید کے دنوں تک انتظار کیجیئے۔ ان دنوں پولیس والے انتہائی متحرک ہوتے ہیں۔ پولیس کی جانب سے شہریوں کی تذلیل اور ان پہ تشدد معمول کی بات ہے جو خود مجرمانہ فعل ہے لیکن پولیس اسے جرم نہیں مانتی۔

پولیس کا خوف لوگوں کے دلوں میں اس طرح بیٹھا ہے کہ زیادہ تر شہری اپنی شکایت درج کروانے تھانے ہی نہیں جاتے، انھیں پتہ ہوتا شکایت درج کروانے کے بعد وہ ایک بڑے عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے۔ پولیس کا رویہ دیکھ کر لگتا ہے کہ ٹریننگ کے دوران انھیں غلیظ گالیوں، بھرپور تشدد اور جارحانہ مزاج کی خاص تربیت دی جاتی ہے۔

پولیس کے محکمے میں بھرتی لوگ بدمعاشی کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی ہو گا۔ تھانے میں کسی تگڑی سفارش والوں کی سنی جاتی ہے یا تگڑی رشوت دینے والوں کی۔ پولیس منہ زور گھوڑے کی طرح بے لگام ہے۔ تھانے قانون کے نہیں اپنے بنائے اصول کے تحت چلتے ہیں۔ پولیس کا محکمہ انصاف کی پہلے سیڑھی ہے اور غضب خدا کا کہ انصاف اس پہلی سیڑھی ہی سے لڑھک جاتا ہے۔ عدالتیں شک کی بنا پر مجرم بری کر دیتی ہیں اور پولیس والے شک میں گرفتار ملزم کو مجرم بنا دیتے ہیں۔ چوری ڈکیتی، قتل اغوا غرض کسی بھی جرم کی شکایت درج کروانے تھانے جاتے ہیں لیکن تھانے والوں کی شکایت درج کروانے کہاں جائیں۔ کہ بدقسمتی سے پولیس گردی کو روکنے کے لیے کوئی ادارہ ہی موجود نہیں۔

Facebook Comments HS