شادی کی باتیں

ویسے تو ساری زندگی انسان شادی کی باتیں کرتا ہے۔ شادی سے پہلے شادی ہونے کی باتیں، خواب اور منصوبے اور شادی کے بعد اس کے نہ ختم ہونے والے مسائل کے بارے میں۔ کہتے ہیں شادی ایک ایسی تقریب ہے جو کسی بھی معاشرے کی عکاس ہوتی ہے۔ اس میں کون سی روایات ہیں، کون سی رسوم ہیں اور وہ زندگی کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ جب ہم نے شادی کی تقریب پر غور کیا تو پایا اس وقت ہماری شادی میں اسلام سے پہلے کی رسومات یا یوں کہیں علاقائی رسومات شامل ہیں جیسے منہدی، ڈھولک، مایوں، جوتا چھپائی تمام علاقائی رسمیں ہیں۔
نکاح، دعوت ولیمہ، دودھ پلائی اسلامی رواج کے مطابق ہیں۔ ولیمہ پر کھانے کی ترتیب اور لباس ہم نے انگریزوں سے مستعار لیا ہے۔ اگر کھانوں پر بھی غور کیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے اس میں علاقائی، اسلامی اور مغربی تینوں کا اثر ہے۔ اس طرح ہم اگر غور کریں تو ہماری ثقافت کی جڑیں ہمارے علاقے میں، اسلام میں اور کچھ مغرب میں جا کر ملتی ہیں تو اگر کوئی بھی شخص صرف ایک پہلو کو لے کر ثقافت کا جائزہ لے گا تو ہماری ثقافت کے ساتھ ڈنڈی مارے گا۔
شادی کی باتوں میں خشک باتیں آ گئی ہیں حالاں کہ ہمارا مقصد اس مضمون کو ہلکا پھلکا رکھنے کا تھا۔ ابھی کچھ دن پہلے ہم بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کی طرح شریک ہوئے اور بھرپور لطف اندوز ہوئے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کیوں ہو جاتا ہے۔ اس کی ہم کو دو وجوہ سمجھ آئی ہیں۔ اگر عبداللہ غیر شادی شدہ ہے تو دیوانگی دکھا کر اپنے والدین کو قائل کرنا چاہتا ہے کہ اب میرا خیال کرو کہ اب ہم بھی شادی کے قابل ہیں۔
اگر شادی شدہ ہے تو وہ دوسرے کی شادی میں دیوانگی کے ذریعے اپنی شادی یاد کرتا ہے اور اس کا دل کرتا ہے کہ پھر لوٹ آئیں وہ دن بہار کے۔ اس لیے باسی کڑھی میں ابال بھی آ جاتا ہے اور لوگ کہتے پھرتے ہیں ”بوڑھی گھوڑی لال لگام“ ۔ اکثر لوگ دولھا کے ساتھ ساتھ سہاگ رات کا اہتمام کرتے ہیں۔ کچھ کامیاب ہوتے ہیں اور کچھ کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔
شادی کے بعد انسان کنگال ضرور ہو جاتا ہے۔ شادی کرنے والا بھی اور شادی میں شرکت کرنے والا بھی۔ شادی میں دو فریق ہوتے ہیں : لڑکی والے اور لڑکے والے۔ لڑکی والے جہیز اور بارات کا کھانا کر کے کنگلے ہوتے ہیں اور لڑکے والے بری اور ولیمہ کے کھانے پر اپنا کام کروا بیٹھتے ہیں۔ آپ کہیں گے شرکت کرنے والے کیسے کنگلے ہوتے ہیں؟ بھائی وہ سب نئے کپڑے سلواتے ہیں، ہر دن کا نیا سوٹ اور پھر تحفے تحائف بھی دینے ہوتے ہیں۔
شادی ایک ایسا تہوار ہے جس میں پورا خاندان شرکت کرتا ہے کیوں کہ ہمارے ہاں مقابلے کی فضاء کافی زیادہ ہے اس لیے ہر کوئی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی خاطر خوب دل کھول کر شادی پر پیسہ خرچ کرتا ہے اور پھر کئی مہینے وہ قرض اتارتا رہتا ہے اور شادی کو منحوس قرار دیتا ہے۔ بندہ پوچھے، تجھے بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بننے کی کیا ضرورت تھی؟

