فیض اور دست صبا


ادیب کی آبروئے شیوۂ فکر کی موزونیت، اسلوب کی نفاست اور تشبیہات کی فنکاری کی ہم آہنگی کر کے دیکھنا اور دکھانا کے درمیان جھولنے کے ہنر پر منحصر ہے۔ فن اور جمالیاتی شان کی جستجو ایک تنہا جدوجہد ہے اور ادیب حسب توفیق سامعین کو منور کرنے کی ذمہ داری کو پورا کرنے سے عہدہ برا ہونے کے بدولت اپنے جسمانی ناپائیداری سے فائق ہے۔ ادیب ہونا ایک نشاط و غم کی نوکری ہے۔

یہ کہنا غلط ہے کہ فیض کی شاعری ”وعدے اور امید“ کی شاعری ہے۔ اس کے بجائے، یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ فیض کی شاعری ”المناک اور دردناک“ شاعری ہے۔ ”دست صبا“ فیض کے فن اور جمالیاتی شان کی جستجو میں ایک گواہی ہے۔ جب فیض تاریکی اور تذلیل کے اندھیروں میں پھنسے ہوئے نفسیاتی تباہی کے دہانے پر تھے، انہیں معلوم ہوا کہ ادبی تخلیق ہی اپنی بقا کی واحد حکمت عملی ہے جس کے ذریعے ایک وہم بن کر اپنے آپ کو مدہوش کر سکتا ہوں۔ رجائیت کے پردے کے پیچھے فیض کی اپنی بے چینی اور بیتابی ہے جس نے شاعر کے شعور میں نفوذ پیدا کیے ہیں۔ اس شعری مجموعے میں، فیض اشعاراتی زبان سے اپنی قید کے دوران گزرتے ہوئے اکتاہٹ اور اکیلاپن کو واضح کرتے ہیں۔

فیض کی فلسفیانہ فکر ہمیشہ کثیر جہتی ہے اور اس مجموعے میں وہ اپنے درد کی متعدد شکلیں اور رنگ دکھاتے ہیں جو اسے دہانے پر دھکیل دیتی ہیں۔ درحقیقت، صرف عنوانات سے ہی ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ فیض کس قدر بے چین ہیں، مثال کے طور پر ، ”اے دل بیتاب ٹھہر“ ، ”شورش بربط ونے“ ، ”طوق و دار کا موسم“ ، اور ”سر مقتل“ ۔ شاعر سلاخوں کے پیچھے ڈالے جاتے ہوئے ادبی تحریک کے لئے صرف اپنے باطن کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس مشکل کے باوجود، شاعر نے اپنی آواز لوگ تک پہنچائی ہے۔

ایک ادبی تحقیق جس کے تئیں انہوں نے اپنے آپ کو معنون کی وہ دیوانگی و جنوں اور انسانی دل کی طبیعیات کے درمیان ہونے والا تعلق سمجھا ہے۔ اپنے کوٹھری کے اندر، ، صرف اپنے دل کو سن سکتے ہیں اور محسوس کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے، وہ اپنی دل کی نبض، تال، اور دھڑکن اور خون کے درجہ حرارت کی تصویر کشی کر کے اپنی انتہائی بیتاب حالت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر جتنا ہی تنہائی، بوریت اور بے مقصدیت کا شکار ہوتا ہے، اتنا ہی ان کا دل بے قابو ہو کر دھڑکتا ہے۔ وہ اپنی بے قابو حالت کو تقدیر و نصیب کے پاگل پن سے تشبیہ دیتے ہیں جو ان کے لئے منفرد نہیں ہے۔ فیض کے نزدیک، جب دلداری ممکن نہیں ہے، خود فریبی اور خود تمسخر ہی انسان کی بقا کا واحد راستہ بن جاتا ہے۔

یقینا، فیض کی اخری امید کریملن کا جھنڈا لہراتے لہراتے سوشلسٹ قوم میں رہتے ہوتے جہاں وہ اپنے عاشق کے ساتھ کمیونسٹ مینی فیسٹو پڑھتے رہتے ہیں۔ جتنا فیض قومی پرچم پر موجودہ سفید ستارے کو پیلے رنگ کے ستارے سے بدلنا چاہتے ہیں، اتنا ہی وہ اپنے آپ کو ایک تکلیف دہ حالت میں گرفتار پاتے ہیں، جیسے اس نے دنیا کا سب سے بڑا گناہ کیا ہو۔ جبکہ فیض اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ان کے اور حکومت کے درمیاں ہونے والی دراڑ ناقابل تسخیر ہے، لیکن سیاسی منافقت اور موقع پرستی کے ظلم کو تسلیم کرنا ان کے لئے ایک بزدلانہ فعل بھی ہے۔

اس ”کشید“ سے کتنا ہی خون نچوڑ لیا جائے، کتنے ہی ”داغ ندامت“ قمیص اور جسم پر کیوں نہ ہوں، فیض جانتے ہیں کہ ان کی نظریاتی جستجو پر رکھتی ہوئی غیر متزلزل ایمان کے بجز ان کی ادبی اور سماجی تشخیص کا تعین کرنے والی کوئی دوسری چیز نہیں۔ ان کے مجموعے میں طنزیہ اور تمثیلی زبان کے استعمال سے پتہ چلتا ہے کہ نصیب ”تیر“ یا ”نشتر“ کی مانند ان کے روح میں گھستی ہے۔ اس لئے، ان کے مجموعے میں کوئی گلہ و شکایت نہیں بلکہ نوحہ ہے۔

تعارف میں، ہم نے کہا ہے کہ فیض کی شاعری ”المناک اور دردناک“ شاعری ہے۔ لیکن، ہم ادبی تشریح کے حوالے سے، دوسرا نقطہ نظر پیش کر سکتے ہیں۔ انتہائی سفاکانہ دشمنی اور خونریز آزمائش کے سامنے، ہر کسی میں ہمت نہیں ہوتی کہ جو کچھ وہ دیکھتا ہے، اسے دکھا سکے۔ کم از کم، اس مجموعے ”دست صبا“ سے، یہ کہنا ناممکن ہے کہ فیض کی شاعری ”وعدے اور امید“ کی شاعری ہے۔ یہاں، یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ فیض کی شاعری ”استقامت اور پختہ ارادہ“ کی شاعری ہے۔

Facebook Comments HS