ماحولیاتی تبدیلی: گیسولین انجن والی گاڑیوں پر جرمنی کا یوٹرن
جب فروری کے مہینے میں یورپی پارلیمان نے اندرونی احتراقی انجن پر سنہ 2035 تک پابندی لگانے کے بارے میں قانون منظور کیا تو اِسے ماحولیاتی آلودگی کے نتیجے میں عالمی تپش میں اضافے کے خلاف ایک بڑا سنگ میل قرار دیا گیا۔ پارلیمان سے منظوری کے بعد بس یورپی یونین میں شامل ممالک کے سربراہوں سے رسمی منظوری ملنا باقی تھی۔
لیکن جرمنی نے اچانک ہی اپنا موقف تبدیل کر لیا۔
یہ ایک ایسی کہہ مکرنی تھی کہ جس نے یورپی یونین کو سمجھنے کا دعویٰ کرنے والے بہت سے ماہرین کو بھی ششدر کر کے رکھ دیا۔ جرمن حکومت نے اِس قانون میں ایک ایسی چھوٹ کو شامل کرنے پر اصرار کیا کہ جس کے ذریعے اندرونی احتراقی انجن کی حامل گاڑیاں سنہ 2035 کے بعد بھی تیار اور فروخت کی جا سکیِں گی۔
اور یہ رعایت یہ ہے کہ ایسے انجن مصنوعی طور پر تیار کیے گئے ایندھن کو استعمال کریں گے جن کے بنانے سے آلودگی نہیں پھیلتی۔
ایک لمحے کے لیے یہاں آپ رُک کر یہ سوچ رہے ہوں گے کہ تو بھلا اِس میں کیا بُرائی ہے۔ اِس سے بھی آلودگی کم ہوگی۔
بُرائی یہ ہے یہ مصنوعی یا سنتھیٹک ایندھن تیار کرتے ہوئے تو زیادہ آلودگی پیدا نہیں ہوتی لیکن جب یہ ایندھن انجن میں جلتا ہے تو اِس کے احتراق سے تقریباً اُتنی ہی آلودگی خارج ہوتی ہے کہ جو عام رکازی ایندھن جلانے سے خارج ہوتی ہے۔
اور یہی وہ مسئلہ ہے کہ جو یورپی یونین کے مضر گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے منصوبے کی راہ میں بڑی رُکاوٹ ثابت ہو گا۔ یورپی یونین پہلے ہی قانون سازی کر کے یہ وعدہ کر چکا ہے کہ سنہ 2050 تک یورپ ایک سال میں جتنا کاربن جذب کرسکے گا، اُتنا خارج کرے گا۔ کاریں اور وینیں ایک سال میں یورپ میں خارج ہونے والی آلودگی کے پندرہ فیصد حصے کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ چنانچہ یورپ کی فضاؤں کو آلودگی سے پاک کرنے کے لیے اندرونی احتراقی انجن پر پابندی، اِس حوالے سے نہایت ہی ضروری اور اہم قدم ہو گا جو دوسرے ممالک اور خطوں میں بھی ایسی ہی قانون سازی کے لیے تحریک مہیا کرے گا۔
اِس لیے بہت کچھ خطرے کی زد میں ہے۔
اِس قانون کو یورپی پارلیمان میں پیش کرنے کے پیچھے سوچ یہ تھی کہ سنہ 2035 تک (جب دُنیا صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں کم و بیش ڈیڑھ ڈگری زیادہ گرم ہو چکی ہوگی) ڈیزل اور پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری اور فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ یورپی قانون سازوں کی دلیل تھی کہ ایک گاڑی کی اوسطاْ زندگی پندرہ سال ہوتی ہے۔ چنانچہ ماحولیات کے حوالے سے سنہ 2050 کے اہداف حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اِس سے پندرہ سال پہلے روایتی انجن کی حامل گاڑیوں کی تیاری اور فروخت پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔ اس بات پر سب متفق تھے۔
لیکن اب جرمنی نے اچانک ہی پینترا بدلتے ہوئے نیا موقف اپنایا ہے کہ اِس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ روایتی انجن کی تیاری پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ اب جرمنی کا کہنا ہے کہ ایسے انجن کی اجازت ہونی چاہیے کہ جو ماحول دوست ایندھن سے چلیں۔ تین دوسرے یورپی ملک اٹلی، پولینڈ اور جمہوریہ چیک نے بھی جرمنی کے موقف کی تائید کی ہے۔
ماحولیاتی تباہی کے حوالے سے آگہی مہم چلانے والے توقع رکھ رہے تھے کہ یورپین کونسل۔ جو یورپی سیاسی رہنماؤں کا سب سے بڑا ادارہ ہے، رواں مہینے یعنی مارچ میں اِس قانون کو باضابطہ طور پر نافذ کرنے کی منظوری دے دے گا۔ لیکن بڑھتی ہوئی مخاصمت سے سب کچھ کھٹائی میں جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ضروری ہو گا کہ یہاں ٹھہر کر اِس مصنوعی ایندھن کے متعلق کچھ ضروری تفصیل بیان کر دی جائے۔ یہ مصنوعی ایندھن ہوا میں پہلے سے موجود کاربن یا ہائیڈروجن کو کشید کر کے تیار کیے جاتے ہیں۔ اِن کے استعمال کی حمایت کرنے والے اِنہیں ”صاف“ یا ”ماحول دوست“ ایندھن قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ اتنے بھی ”ماحول دوست“ نہیں ہیں۔ کیونکہ انہیں انجن میں استعمال کرنے سے تقریباً اُتنی ہی آلودگی خارج ہوتی ہے کہ جتنی روایتی ایندھن سے خارج ہوتی ہے۔
اِن ایندھنوں کو ”ماحول دوست“ یا ”سبز ایندھن“ محض اِن کی تیاری کے عمل کے حوالے سے کہا جاتا ہے۔ مثلاً فضاء میں موجود کاربن کشید کر کے اُسے جلانے سے محض وہی کاربن خارج ہوتی ہے جو اُسے تیار کرتے وقت فضاء سے کھینچی گئی ہوتی ہے۔ یعنی ایسے ایندھن کو جلانے سے فضاء میں کاربن کی نئی مقدار داخل نہیں ہوتی، محض اتنی ہی کاربن واپس جاتی ہے کہ جتنی کھینچی گئی ہوتی ہے۔
لیکن صرف مضر دھواں ہی نہیں، اِن صاف ستھرے ایندھنوں سے اب بھی کئی مسائل جُڑے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ اِن کی وافر مقدار میں فراہمی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ دوسرا فضاء سے کاربن یا ہائیڈروجن کشید کر کے اُس سے ایندھن بنانے کا عمل رکازی ایندھن کے مقابلے میں مہنگا ہے۔ اور اگلے کچھ عرصے تک یہی کیفیت رہے گی۔ اِسی لیے اِس تجویز پر تنقید کرنے والے افراد کہتے ہیں کہ ایسے ایندھن کو صرف اُنہی شعبوں میں استعمال کیا جائے جہاں رکازی ایندھن جلانے کے علاوہ کوئی متبادل دریافت نہیں ہوئے ہیں۔ مثلاْ ہوا بازی اور بحری جہازوں کی صنعت۔
اور یہ چیز شاید کچھ دہائیاں پہلے تو ماحول کو بہتر بنانے کے لیے قابل قبول ہوتی مگر اِس وقت تو فضاء میں موجود کاربن کی بڑی مقدار کو ختم کرنے کی بات ہو رہی ہے تاکہ کرہ ہوائی کو مزید گرم ہونے سے روکا جا سکے۔
یہی وجہ ہے کہ ماحولیاتی گرمائش کے حوالے سے آگاہی مہم چلانے والے کارکن اور اِس قانون کی منظوری کے لیے مشاورت کرنے والے وکلاء، اِس بات پر بہت چراغ پاء ہیں۔ ”اِس قانون کا اصل مقصد تو اِس کے مسودے میں بہت واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے کہ صرف وہی گاڑیاں سڑکوں پر چلانے کی اجازت ہوگی جو کوئی آلودگی خارج نہیں کریں گی جبکہ یہ نام نہاد صاف ستھرے ایندھن انجن میں جلائے جاتے ہیں تو اِن سے کاربن ڈائی آکسائڈ اور دیگر مضر گیسیں خارج ہوتی ہیں، چنانچہ اِن کو بھی چلانے کی اجازت دینے کی کوئی تُک نہیں بنتی۔“ یورپی پارلیمان کے ڈچ رُکن جان ہوئیتیما نے کہا۔
بہت سے یورپی قانون سازوں کے لیے جرمنی اور دیگر ممالک کا اپنے موقف سے منہ موڑ لینا انتہائی تعجب کا باعث بنا ہے۔ اِس قانون کی منظوری کے لیے پچھلے دو سالوں سے زائد عرصے سے بات چیت ہو رہی تھی جس کے لیے کئی مراحل میں مذاکرات کیے گئے تھے۔
”میں یورپین کونسل سے مذاکرات کرنے والے وفد کا سربراہ تھا اور اُس وقت تمام ممالک کے سفیروں نے اِس قانون کے مسودے پر اتفاق کیا تھا۔“ ہوئیتیما نے بتایا۔ ”سب کچھ طے ہو جانے کے بعد اچانک اِن ممالک نے معاہدے سے جان چھڑانا شروع کردی۔“
ماحولیاتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اِس سے زمین کو مزید گرم ہونے سے بچانے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔
ذرائع آمدورفت اور ماحولیات (ٹرانسپورٹ اینڈ انوائرمنٹ) نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ انجن والی گاڑیوں کو چھوٹ دینے سے برقی گاڑیوں کی تیاری کے حوالے سے جوش و جذبے اور عوام میں انہیں اپنانے کے حوالے سے دلچسپی پر منفی اثر پڑے گا۔
”جرمن حکومت کی جانب سے قانون میں چھوٹ دینے کا مطلب ہو گا کہ ذرائع آمدورفت کو کاربن کے اخراج سے پاک نہیں کیا جا سکے گا۔ اور سنہ 2035 ء کے بعد بھی روایتی ایندھن کا استعمال جاری رہے گا جو کہ تیل نکالنے والے بڑے اداروں کے لیے انتہائی نفع بخش چیز ہوگی۔“
حتیٰ کہ بعض گاڑیاں بنانے والے اداروں نے بھی اِس تبدیلی کی مخالفت کی ہے۔
کئی کارساز اداروں کے ایک وفد جس میں فورڈ اور والوو جیسے بڑے نام شامل ہیں، نے یورپی یونین کے نام ایک کھلے خط میں اِس چھوٹ کی مخالفت کی ہے۔
”برقی گاڑیوں کی صنعت میں بہت سے اداروں نے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور چونکہ اُنہوں نے ایک بڑا خطرہ مول لیا تھا اور اب جب یہ صنعت منافع بخش ہونے والی ہے تو اُنہیں اِس سے مالی فوائد حاصل کرنے کا بھرپور موقع فراہم کرنا چاہیے۔ ایک دفعہ انجن والی گاڑیوں کو ختم کرنے پر راضی ہونے کے بعد اِس سے انکار کر دینا، سرمایہ کاروں کو ایک منفی اشارہ دے گا۔“ وفد نے بیان میں کہا۔
جرمنی میں اِس وقت کئی سیاسی جماعتوں کی اتحادی حکومت ہے اور اُن میں سے ایک جماعت لبرل ایف ڈی پی نے اِس تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔
”اندرونی احتراقی انجن مسئلہ نہیں ہے، بلکہ جس رکازی ایندھن پر یہ چلتے ہیں، وہ مسئلہ ہے۔“ لبرل ایف ڈی پی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیر ذرائع آمدورفت وولکر وسینگ نے مارچ کے شروع میں اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا۔ ”ہمارا مقصد یہ ہے کہ ماحول میں مزید مضر گیسیں شامل نہ ہوں۔ جو کہ نئی ٹیکنالوجیز کے لیے موقع ہے۔ ہمیں مسئلے کے مختلف حل کی جانب کھلے دل سے دیکھنا ہو گا۔“ وزیر موصوف نے کہا
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی کہ یہ سوچ چند دہائیوں پہلے اپنا لی جاتی تو ٹھیک تھا مگر جیسا کہ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اگر ابھی اِسی وقت تمام مضر گیسوں کا اخراج روک بھی دیا جائے تو بھی زمین کو صنعتی دور سے قبل کے درجۂ حرارت سے ڈیڑھ ڈگری زیادہ گرم ہونے سے نہیں روکا جا سکتا۔
اس حوالے سے تفصیل ہمارے پچھلے مضمون میں ہے
ماحولیاتی تباہی: وقت سے پہلے زمین زیادہ گرم ہو جائے گی
اور ایسی صورت میں فضا میں موجود کاربن کی سطح کو برقرار رکھنے کی بجائے اُسے کم کرنے کی ضرورت ہے جو اِس قسم کے ہومیوپیتھک قوانین سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
دراصل جرمنی کے اِس انکار کی وجہ یہ ہے کہ دُنیا کے کار سازی میں سے چند بڑے اور اہم ترین ادارے جیسے کہ بی ایم ڈبلیو، مرسیڈیز بینز، آؤڈی اور واکس ویگن، جرمنی میں واقع ہیں اور جرمن حکومت اِن اداروں کو خوش کر کے اپنی معیشت کی ترقی برقرار رکھنے کی خواہاں ہے۔ اور اُسے اِس کی کوئی فکر نہیں ہے کہ چند سالوں کی وقتی ترقی کے بعد تنزلی ہی تنزلی آ جائے گی۔
کار ساز، انجن بنانے والے ادارے، اِن کے فاضل پُرزہ جات بنانے والے ادارے، رکازی ایندھن نکالنے، اُسے صاف کرنے والے اور اُس کی ترسیل کرنے والے اداروں کا گٹھ جوڑ، اِس چھوٹ کے لیے حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ اُنہوں نے اپنے موجودہ کارخانوں اور ٹیکنالوجی میں جو سرمایہ کاری کر رکھی ہے، اُسے تبدیل نہ کرنا پڑے۔
اِن صنعتوں کی نمائندہ انجمن کا کہنا ہے کہ ”یہ ماحول دوست ایندھن ماحولیاتی تبدیلی سے بچاؤ کے اقدامات میں مدد دیں گے۔ کیونکہ اِس طرح کے ایندھن کی فوری ترسیل کے لیے بنیادی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کرنا پڑے گی۔ چنانچہ کم ترقی یافتہ ممالک میں بھی اِن کا فوری طور پر استعمال شروع ہو جائے گا۔“
خود جرمن حکومت کے اندر بھی اپنے وعدے سے پھر جانے پر پھوٹ پڑ چکی ہے۔ حکومت کی دوسری اتحادی جماعت، گرین پارٹی کی وزیر ماحولیات، اسٹیفی لیمک نے مجوزہ تبدیلی پر کڑی تنقید کی ہے۔
”جرمن حکومت کو اپنے یورپی اتحادیوں سے وعدہ کر کے مکرنا نہیں چاہیے۔ یہ قانون یورپ کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کی راہ میں انتہائی اہم قدم ہے۔“ اُنہوں نے اپنے بیان میں کہا۔
اگر تو یہ قانون اپنے اصل مسودے کے مطابق منظور ہو گیا تو یہ دُنیا بھر میں کہیں بھی روایتی انجن والی گاڑیوں کو متروکہ چیز قرار دینے کی پہل کرے گا۔
سائنس دانوں اور ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تو دُنیا کے درجہ حرارت کو ڈیڑھ ڈگری بڑھنے سے روکنا اور اِس کے نتیجے میں زمین پر شدید گرمائش، تباہ کن سیلابوں، خشک سالی اور جنگلات کی شدید آگ سے بچنا ہے تو کرہ ہوائی کو گرمانے والی گیسوں کے اخراج پر کمی کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
اِس حوالے سے انتباہی تحقیقات اور پیرس کے عالمی ماحولیاتی معاہدے اور مضر گیسوں میں کمی کے وعدوں کے باوجود، اب تک اِن کے اخراج میں کمی لانا تو کجا، اِس وقت تو اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ صرف سنہ 2020 میں کرونا وبا کے سبب لگنے والی پابندیوں کے نتیجے میں وقتی طور پر مضر گیسوں کے اخراج میں کمی آئی تھی۔
جرمنی کا موقف بدلوانے کے لیے اب بھی مذاکرات جاری ہیں لیکن اگر یہ قانون مجوزہ چھوٹ کے ساتھ منظور ہوجاتا ہے تو سنہ 2035 کے بعد بھی روایتی انجن سے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری اور فروخت جاری رہے گی۔ البتہ قانون اِس وقت یہ شرط عائد کرتا ہے کہ ایسی گاڑیوں کے انجنوں میں اتنی تبدیلی ضرور کی جائے گی کہ یہ روایتی پیٹرول یا ڈیزل ایندھن پر نہ چل سکیں۔
اب جرمنی اپنی ناں کو ہاں میں بدلتا ہے یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
بعض ماہرین تو اِس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اِس جھگڑے کے بعد یورپی یونین اپنی نوعیت کے اِس انتہائی اہم قانون پر اُس کی روح کے مطابق عمل درآمد بھی کروا پائے گایا نہیں۔
”یہ اُلجھن واقعی حوصلے پست کرنے والی ہے۔“ ای تھری جی نامی ماحولیاتی تھنک ٹینک کی ایلیسا جیانیلی نے کہا۔ اُن کا کہنا ہے کہ اب تک تو یورپی یونین مضر گیسوں کے اخراج کو ختم کرنے کے لیے صحیح راہ پہ گامزن تھا۔ ”لیکن اِس انتہائی اہم قانون کو واپس لے لینا، پچھلے کئی سالوں میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو دھچکا پہنچا دے گا۔“
”یہ۔ صرف کاروں کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ اِس سے سیاسی طور پر بھی بہت منفی پیغام جائے گا“ ۔ اُنہوں نے اپنی بات ختم کی۔
لگتا تو یہی ہے کہ ڈان نیوز کی اِس تحریر کے مطابق ہم انسانوں کے پاس صرف دس سال ہی زندہ رہنے کے لیے رہ گئے ہیں۔
https://www.dawnnews.tv/news/1199272


