جنوبی ایشیا پہ پیراڈائم شفٹ کے اثرات


گلوبل پیراڈائم شفٹ کے تناظر میں جنوبی ایشیا پہ وارد ہونے والے سیاسی و اقتصادی تغیرات میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بڑھنے کی وجہ سے ہمہ جہت دباؤ میں اضافہ بھی ہوا، جو ہمیں نئے حالات سے نمٹنے پہ مجبور کرے گا۔ اس وقت امریکہ اور چین کے مابین تجارتی مقابلہ نے جہاں یورپ کی اقتصادی و سیاسی اقدار میں تبدیلیوں کی راہ ہموار بنائی وہاں جنوبی ایشیا بھی ہمہ جہت معاشی، سیاسی اور تزویراتی ارتعاش کی زد میں ہے۔ ایشیا پہ نظر رکھنے والے چند تجزیہ کار چین، امریکہ تجارتی مقابلہ کو ایٹمی جنگ میں بدلتے عالمی تنازعہ کے طور پہ پیش کر کے پاکستان کی قومی پالیسی پہ اثرانداز ہونے کی کوشش میں سرگرداں ہیں کیونکہ طاقت کا فوجی و اقتصادی توازن بدلنے کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں تین سو سالوں پہ محیط مغرب کے سیاسی، فوجی، اقتصادی اور ثقافتی تسلط کو خطرات لاحق ہیں۔

20 سے 22 مارچ تک روس کے دورے میں چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جس نئے ورلڈ آرڈر کی بنیاد رکھی وہ انہی حقائق کی نشاندہی کرتا ہے۔ صدر شی کا دورہ ماسکو اہم تھا جس میں پروٹوکول کی رسموں کی بجائے سنجیدہ تجارتی امور طے پائے تاہم دونوں رہنماؤں کے مابین بیک ٹو بیک ملاقاتیں کے علاوہ صدر پوٹن اور صدر شی جن پنگ کی 4.5 گھنٹے پہ محیط ون آن ون ملاقات غیرمعمولی تھی۔ چینی صدر شی نے رواں سال فروری میں دورہ ماسکو کے دوران یوکرین تنازعہ کا پُرامن حل تجویز کیا جسے امریکہ نے مسترد کر دیا شاید امریکہ روس کے لئے یوکرین جنگ سے نکلنے کے راہیں مسدود بنانا چاہتے ہیں لیکن یہ جنگ فی اصل یورپ کے مستقبل کو گہنا دے گی، شاید اسی لئے یورپ اپنی بقا کی خاطر امریکہ کے ساتھ موروثی وابستگی پہ نظرثانی پہ مجبور ہے، مغرب اب پہلی جنگ عظیم کے نیو نوآبادیاتی ماڈل سے نکل کر اوپن مارکیٹ اکانومی، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے تصور سے نجات کی راہیں ڈھونڈ رہا ہے کیونکہ یورپ کی معدوم ہوتی نسلوں کو چین کے نیو اتھاریٹیرین سسٹم میں اپنی بقا دکھائی دیتی ہے۔

چین کے ساتھ تجارتی مقابلہ نے امریکہ کے علاوہ یورپ کو بھی لپیٹ لیا چنانچہ اس سال کے آغاز میں واشنگٹن میں ہونے والے معاہدے کا مقصد 2018 میں شروع ہونے والی تجارتی جنگ کے خاتمہ کی راہ ہموار بنانا تھا مگر یہ ممکن نہ ہوا، آج امریکہ اور چین کے درمیان دشمنی جزئیات تک پھیلی چکی ہے، جو دو بڑی طاقتوں کے مابین عالمی جغرافیائی سیاسی بالادستی کے حصول کی عکاس ہے، اس نئی صورت حال نے یورپی یونین کے مستقبل کے لئے اس سوال کو اہم بنا دیا کہ چین کے ساتھ کس طرح نمٹنا جائے۔

یورپی ماہرین سیاست کا خیال ہے کہ اس سوال کا مثبت جواب ہی ان کی بقا کے تقاضوں کو پورا کرے گا، بیجنگ کے ساتھ تعلقات کے ہر شعبے میں اتحاد ناگزیر ہے کیونکہ کوئی بھی یورپی ملک اپنے طور پر اس قابل نہیں کہ وہ چین کے حجم اور طاقت کے مقابلے میں اپنے مفادات اور اقدار کا دفاع کر سکے۔ اٹھارہویں صدی سے پہلے، یورپ کے صنعتی انقلاب تک، چین دنیا کا امیر ترین ملک تھا۔ 1820 میں، اس نے دنیا کی جی ڈی پی کا 30 فیصد پیدا کیا جو یورپ اور امریکہ کی مشترکہ پیداوار سے زیادہ تھا لیکن چین نے ہمیشہ اپنے آپ کو متوسط سلطنت کے مقام پہ رکھا، جب چینی تہذیب کا سورج نصف النہار پر تھا تب بھی چین نے اپنی اقدار برآمد کرنے سے احتراز برتا تاہم موجودہ چینی قیادت کے رویہ میں کچھ جوہری تبدیلیاں رونما ہوئیں، جس نے ”میڈ اِن چائنہ“ 2025 پلان کے تحت چین کے لئے عالمی تکنیکی طاقت بننے کے عزم کو ظاہر کیا۔

صدر شی کی طرف سے پیش کردہ ”چین کا خواب“ اسی مقام کے حصول کا ذریعہ ہو گا، یعنی چین اُس سیاسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو امریکہ کے عالمی منظر نامہ سے پیچھے ہٹنے کے باعث پیدا ہوا، چین کا مقصد یک قطبی عالمی نظام کو چینی خصوصیات کے ساتھ کثیر الجہتی نظام میں تبدیل کرنا ہے، جس میں اقتصادی اور سماجی حقوق کو سیاسی اور شہری حقوق پر ترجیح دی جائے گی اور یہی پالیسی تیزی سے سکڑتی سفید فام نسلوں کے لئے کشش کا باعث بنی۔

1974 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ڈینگ ژیاؤ پنگ کی تقریر سے مملو چینی خارجہ پالیسی کے وہ دن گئے جب انہوں نے کہا تھا، چین سپر پاور ہے نہ ہی وہ کبھی سپرپاور بننے کی کوشش کرے گا۔ سپر پاور کیا ہے؟ یعنی سامراجی ملک جو ہر جگہ دوسرے ممالک کو اپنی جارحیت، مداخلت، کنٹرول، بغاوت یا لوٹ مار کا نشانہ بنا کر عالمی تسلط کے لئے کوشاں رہے لیکن آج رابطے کی صحت مند ڈپلومیسی کے تحت دنیا میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار میں اس کے بنیادی مفادات کا غیر مبہم اور غیر مشروط تحفظ شامل ہے۔

توسیع پسند کے مثبت تصور کے تحت باقی دنیا کے لیے چین کا رویہ نمایاں طور پر تبدیل ہوا حالانکہ سونگ خاندان ( 960۔ 1279 ) کے تحت جب چین نے سمندری ٹیکنالوجی پر غلبہ پایا تو تب بھی اس نے دیگر ممالک پر قبضہ یا بیرون ملک نوآبادیات قائم کرنے کے لئے اسے استعمال نہ کیا۔ 1405 اور 1433 کے درمیان، اس سے قبل کہ یورپی سمندری مہمات شروع کرتے، ایڈمرل زینگ بحری بیڑے کے ساتھ جاوا، انڈیا، ہارن آف افریقہ اور آبنائے ہرمز کا سفر مکمل کر چکا تھا جو سائز اور نفاست میں 150 سال بعد کے ہسپانوی آرماڈا سے بہت آگے ہونے کے باوجود سمندر پار ممالک پر مستقل قبضہ یا دیگر اقوام کے استحصال کا کوئی منصوبہ نہ بنا سکا مگر اب چین اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے تکنیکی اور فوجی فوائد استعمال کرنے کو تیار ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، گزشتہ 30 سالوں میں، چین کے فوجی اخراجات 1 سے بڑھ کر 14 فیصد ہوئے، جس میں امسال 6.6 فیصد اضافہ ہوا، صدر شی 2049 یعنی عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 100 ویں سالگرہ تک پیپلز لبریشن آرمی کو اہم دفاعی ٹیکنالوجی فورس بنانا چاہتے ہیں۔

1989 میں تیانمن اسکوائر واقعہ کے بعد چین پر ہتھیاروں کی خریداری پر عائد یورپی پابندیاں آج بھی نافذ ہیں لیکن چین اب فوجی ساز و سامان کی درآمد پر انحصار نہیں کرتا، اس نے خود اول درجے کی اسلحے کی صنعت کھڑی کر لی، اس کے بحری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کی برآمدات ہر سال بڑھ رہی ہیں، اگرچہ چینی فوجی صلاحیتیں ابھی امریکہ کے مقابلے میں کم سہی لیکن یہ فاصلہ چند دہائیوں پہلے کے مقابلے میں بہت تھوڑا رہ گیا، اگلے ایک سال میں چین کے پاس چار آپریشنل طیارہ بردار بحری بیڑے ہوں گے۔

امریکی رپورٹس بتاتی ہیں کہ چین اب امریکی بحری تسلط اور مغربی بحرالکاہل پر کنٹرول کے لیے بڑا چیلنج بن گیا۔ لیکن چین لڑے گا نہیں اور بورڈ گیمز اس کی واضح مثال ہے کہ چینی یورپیوں سے مختلف سوچتے ہیں؟ یورپی شطرنج کے شوقین ہیں، جس کا اختتام مکمل فتح پر ہوتا ہے تاہم چینی گو کو ترجیح دیتے ہیں، جہاں مقصد بورڈ پر خالی جگہوں پر قبضہ جمانا تاکہ مخالف کو گھیر کر اس کی جواب دینے کی صلاحیت کم کی جائے، جیسا مشہور چینی ماہر سن زو نے دی آرٹ آف وار میں کہا تھا، جنگ کا سب سے بڑا فن بغیر لڑے دشمن کو زیر کرنا ہے۔

اگرچہ کچھ تجزیہ کار چین امریکہ تجارتی مقابلہ کو نئی سرد جنگ سے تعبیر کرتے ہیں لیکن یہ درست نہیں کیونکہ امریکہ اور سوویت یونین کبھی معاشی طور پر اس قدر جڑے ہوئے نہ تھے جیسے چین، امریکہ ہیں، ڈالر کے استحکام کے علاوہ پورے سرمایہ دارانہ نظام کا استحکام، متضاد حد تک کمیونسٹ پارٹی آف چائنا پر منحصر ہے کیونکہ جاپان کے بعد امریکی ٹریژری بانڈز کا دوسرا سب سے بڑا مالک چین ہے۔

2001 میں مغرب نے چین کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں اس امید پہ خوش آمدید کہا کہ تجارت کو آزاد کرنا سیاسی کھلے پن کے ساتھ چلے گا لیکن یہ سوچ غلط ثابت ہوئی، اس کے برعکس چین وہ نمونہ پیش کیا جس نے اس مفروضہ کو غلط ثابت کیا کہ اقتصادی اور سیاسی کشادگی ایک سکے کے دو رخ ہیں، اختلاف کی ہر علامت کو نگرانی کے طاقتور ٹولز اور ریاست پر کمیونسٹ پارٹی کے تسلط کے ذریعے آسانی سے دبایا جا سکتا ہے۔ یورپی ماہرین کہتے ہیں، یورپ اگر امریکہ اور چین کے تنازعہ میں الجھا رہنا نہیں چاہتا تو اسے دنیا کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھنا ہو گا اور اپنی اقدار و مفادات کے دفاع کے لئے ایسا کام بھی کرنا پڑے گا جو ہمیشہ امریکہ کے ساتھ موافق نہیں ہو سکتا یعنی یورپ کو اپنی معاشی اور سٹریٹجک خود مختاری میں اضافہ کرنا چاہیے۔

یہ نظریہ دو ستونوں پر مبنی ہے، موسمیاتی تبدیلی، کورونا وائرس کا مقابلہ، علاقائی تنازعات اور افریقہ میں ترقی جیسے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بیجنگ کے ساتھ تعاون جاری رکھنا ہو گا اور یہی مغربی معیشت کی خود مختاری کو یقینی بنانے، یورپی اقدار اور مفادات کو فروغ دینے کی کلید ثابت ہو گا۔ یہ پالیسی میں تبدیلی نہیں بلکہ بیجنگ کے متعلق 2019 کی یورپی حکمت عملی کی حدود کے اندر ایک قسم کی ترقی ہوگی، جس نے پہلے ہی چین کو ایسے اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر شناخت کیا، جو مدمقابل اور نظامی حریف ہونے کے باوجود یورپ کے تعاون کا مستحق ہے، چین کے ساتھ تعلقات لامحالہ پیچیدہ ہوں گے کیونکہ یہ یورپ کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہو گا، اگر یورپ عالمی مسائل کا حل چاہتا ہے تو چین حقیقت میں ضروری بات چیت کرنے والا فریق ہے لیکن ایک ہی وقت میں یہ لامحالہ تکنیکی و اقتصادی حریف بھی ہے۔

 

Facebook Comments HS