نا میرا نا آپ کا، ہم سب کا پاکستان
پنجاب کے بعد کے پی کے میں بھی الیکشن کمیشن نے صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے 8 اکتوبر کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد طے ہو گیا کہ اب پنجاب اور کے پی کے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات رواں سال اکتوبر میں ہوں گے مگر صدر مملکت اپنے حالیہ انٹرویو میں اس تاریخ پر مطمئن نظر نہیں آئے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کو 8 اکتوبر کو بھی الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے۔ اگر صدر پاکستان کے خدشات کو درست سمجھا جائے تو کیا پھر عام انتخابات آئندہ سال منعقد ہوں گے اور اگر ایسا ہے تو یقینی بات ہے کہ آئینی طور پر تو اس کی اجازت نہیں ہے تو کیا پھر کوئی ایمرجنسی نافذ کی جائے گی یا پھر کسی عدالتی فیصلے کا سہارا لیا جائے گا؟
جو بھی ہے ایک بات تو بہت واضح ہے کہ کم سے کم 30 اپریل کو انتخابات نہیں ہوں گے۔ جیسے جیسے انتخابات التوا کا شکار ہوتے جائیں گے تحریک انصاف مشکلات کا شکار ہوتی جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ تحریک انصاف جو جلد سے جلد انتخابات کی حامی ہے کی سیاسی حکمت عملی کیا ہوگی۔ کیا تحریک انصاف حکومت پر اتنا دباؤ ڈال سکے گی کہ انتخابات جلد ہوجائیں۔ بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کی سیاسی گرفت کمزور ہوتی جائے گی اب یہ کپتان کے کھلاڑیوں پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح سیاسی حالات کو اپنے حق میں کیے رکھتے ہیں۔
پہلے بھی بارہا اپنی تحریروں میں لکھا ہے ایک بار پھر عرض خدمت ہے کہ وقت کا پہیہ الٹا چل پڑا ہے، کپتان مکافات عمل کا شکار ہے کپتان نے اپنے دور اقتدار میں جو کچھ بویا وہ فصل تیار ہو چکی ہے اور اب یہ فصل کپتان نے کاٹنی ہے اس کے نفع یا نقصان کو کپتان نے خود برداشت کرنا ہے۔ اب سمجھنے والوں کو ایک غلط فہمی ہوتی ہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد سے عمران پراجیکٹ ناکام ہوا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران پراجیکٹ کی ناکامی کے بعد ہی تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی اور کامیاب بھی ہو گئی۔ وگرنہ ممکن ہی نہیں تھا کہ بڑوں کی مرضی کے بغیر تحریک عدم اعتماد پیش ہوتی اور کامیاب بھی ہوجاتی۔
اب اگر بڑوں کا ذکر چل ہی پڑا ہے تو ان دنوں سینئر صحافی شاہد میتلا کے آرٹیکل سنجیدہ سیاسی حلقوں میں زیربحث ہیں۔ شاہد میتلا کی سابق آرمی چیف جنرل باجوہ سے ملاقات میں ہونے والی گفتگو بہت اہم ہے اور سب سے اہم اس کی گفتگو کے منظر عام پر آنے کا وقت ہے۔ شاہد میتلا نے اس مبینہ گفتگو کو منظر عام پر لاکر گویا تہلکہ مچا دیا ہے۔ اگر شاہد میتلا کی مبینہ گفتگو کو درست مان لیا جائے تو پھر بلاول بھٹو کا کپتان کو سلیکٹڈ کہنا محض سیاسی الزام نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی بات لگتی ہے۔ مریم نواز نے تو کھڈیاں کے جلسہ میں یہاں تک کہہ دیا کہ سہولت کاروں کے جانے کے بعد زیبرا سے لائنیں ختم ہو گئی ہیں۔ اور اب زیبرا بھی زیبرا نہیں رہا۔
شاہد میتلا کے انکشافات کے ساتھ ساتھ حکومت نے اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز بل پیش کر دیا۔ از خود نوٹس کے کیسز میں کیے گئے فیصلوں پر متاثرین کو اپیل کا حق مل گیا یوں نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور جہانگیر ترین کو اپیل کا حق بھی مل گیا۔ یوں لگتا ہے کہ ان کی واپسی کا قانونی راستہ تلاش کر لیا گیا ہے۔ لگے ہاتھوں جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے ایک فیصلے میں چیف جسٹس کے خصوصی بینچ بنانے کے اختیار کو معطل کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں شاید اور بھی بہت کچھ تبدیل ہوتا ہوا نظر آئے۔ رجیم چینج کی کہانی اپنے کلائمکس کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کپتان کے سیاسی مستقبل کا انجام نوشتہ دیوار ہے۔ کپتان کا سیاسی عروج جتنی تیزی سے آیا اس سے زیادہ تیزی سے زوال پذیر ہے
اب تو یہ اندازہ کیا جا رہا ہے کہ کپتان کے خلاف عدالتوں کے زیرسماعت کیسز کے فیصلے کب تک متوقع ہیں اور ان کے نتیجے میں کیا کپتان سیاست بھی کرسکے گا یا نہیں کرسکے گا۔ سیاسی بحران کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ کیا نئے انتخابات اگر ہوجائیں تو کیا ان کے نتائج تمام سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول ہوں گے۔ معاشی بحران کیسے ختم ہو گا اور عوام کی مشکلات کو کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی بحران مزید بڑھے گا یا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتا جائے گا۔ موجودہ حالات میں ایک سوال کا جواب ابھی ملا نہیں ہوتا کہ دیگر کئی سوال پیدا ہو جاتے ہیں اور پھر ان نئے سوالات کے جواب کی تلاش شروع ہوجاتی ہے۔
وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے فلور آف دی ہاؤس تقریر کرتے ہوئے جہاں پارلیمان کی بالادستی کی بات کی وہاں پر انہوں نے موجودہ مسائل کا حل بتاتے ہوئے کہا کہ جب ہم معاشی، سیاسی اور آئینی بحران کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں ہم سب کو مل کر بیٹھنا ہو گا۔ ہمیں ان کے ساتھ بھی بیٹھنا ہو گا جن کی شکل ہمیں پسند نہیں جن کا سیاسی ماضی کچھ خاص نہیں اور جن کا مستقبل یقینی نہیں ہے مگر ہمیں مل کر بیٹھنا ہو گا اور ان مسائل کا حل نکالنا ہو گا۔
اس میں بلاول بھٹو کا واضح اشارہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی طرف تھا اور یہ خوش آئند بات ہے یہ ٹھیک سیاسی سوچ ہے کہ ملک میں جاری بحران کو ختم کرنے کے لیے مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں۔ بلاول بھٹو نے یہ کہہ کر دریا کو کوزے میں بند کر دیا کہ نا میرا نا آپ کا بلکہ ہم سب کا پاکستان۔ اگر پاکستان ہم سب کا ہے تو پھر ہم سب کو مل کر ہی اس بحران سے نکلنے کے لیے کوشش کرنی ہوگی ایسے میں اگر کوئی ایک فریق بھی اس عمل سے باہر رہ گیا تو یہ کسی کے مفاد میں نہیں ہو گا نا سیاسی جماعتوں کے نا ملک کی عوام کے اور نا ہی پاکستان کے مفاد میں ہو گا


