رازدان حقیقت


اصل میں راز چھپی ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔ ہر راز کا ایک راز داں ضرور ہوتا ہے۔ قابل اعتماد شخص کے ساتھ ہی انسان اپنا راز ظاہر کر سکتا ہے۔ میری گفتگو کا انداز ذرا اس لیے مختلف ہے کہ میں خود ہی ایک سوال کرتا ہوں اور اس کا جواب بھی خود ہی سے دیتا ہوں۔ یہاں پر میں بات راز دان حقیقت کی کروں گا۔ کہ حقیقت کا راز داں کون ہے؟ اور حقیقت کے راز کس پر عیاں ہوتے ہیں؟ اور حقیقت کے ان رازوں کو کیسے پایا جا سکتا ہے؟ انسان بذات خود حقیقت کا راز داں ہے۔ ان رازوں کے پانے کے لیے انسان کا اہل دل ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے اپنے رازوں سے آشنا کرنا چاہتا ہے۔ اسے اہل دل

کی محبت عطاء کر دیتا ہے۔ ایک اہل دل ہی آپ کو اہل دل بنا سکتا ہے۔ بظاہر تو ہم سب میں دل ہے لیکن ان دل والوں میں بہت کم ہیں جو اہل دل ہیں۔ ایک اہل دل ہی مومن کے مرتبے پر فائز ہوتا ہے۔ یہاں پر اہل دل سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کے نور سے روشن ہو جاتے ہیں۔ ایک اہل دل ہی ان انوار و تجلیات کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ اب یہ اللہ کا دوست بن چکا ہوتا ہے۔ اور یہ اپنے دل کی آنکھ سے اللہ تعالٰی کے رازوں کو دیکھتا ہے۔ ہر چیز کی حقیقت اس پر عیاں ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ہر چیز میں وہ حقیقت کے نظاروں کو دیکھ کر سر شار ہو جاتا ہے۔ ایک اہل دل ہی خدا کے ان اسرار و رموز کو دیکھ سکتا ہے۔ جب خواجہ میر درد اس مقام پر پہنچے تو ان کو بھی یہ کہنا پڑا:

بقول خواجہ میر درد :
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا۔

ہر اہل دل پر اک وہ مقام گزرتا ہے جب اس کو ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کا نور دکھائی دیتا ہے جب میر درد نے ہر چیز میں حقیقت کو پوشیدہ پایا تو انھوں نے بھی یہ ہی اقرار کیا کہ وہ ذات ہر چیز میں جلوہ نما ہے۔ اللہ تعالٰی کے خاص رازوں اور انوار و تجلیات کا نزول انسان کے قلب پر ہوتا ہے۔ اصل میں انسان کی ذات ہی حقیقت کی رازداں ہے۔ جب انسان کو اپنی ذات سے آشنائی ہو جاتی ہے۔ تو وہ ہر چیز میں حقیقت کو کار فرما پاتا ہے لفظ حقیقت سے مراد اللہ کی ذات ہے۔

صوفیا نے بھی اپنی ذات سے آشنائی حاصل کرنے کے لیے مجاہدے اور ریاضتیں کیں جب وہ اپنی ذات سے آشنا ہوئے تو ان کو معرفت الہی نصیب ہو گئی۔ اہل دل جس چیز کا زبان سے اقرار کرتے ہیں دل کی آنکھ سے اس کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں۔ اہل دل جو بات کرتا ہے دل کی آنکھ سے اس کا مشاہدہ کر چکا ہوتا ہے یہ بات یاد رہے کہ زبان سے کہنا اور ہے اور دل کی آنکھ سے دیکھنا اور ہے۔ اقبال نے اس کی ترجمانی بڑے اچھے انداز میں کی ہے۔

بقول اقبال :
خرد نے کہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی ہیں۔

یعنی لا الہ کا محض زبان سے اقرار کر لینا کافی نہیں جب تک دل کی نگاہ سے اس کا مشاہدہ نہ کر لیا جائے اگر آپ معرفت الہی کے متلاشی ہیں تو یہ معرفت آپ کو اہل دل سے ہی مل سکتی ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ انسان کا قلب بھی ذکر الہی کرتا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ انسان کا دل بھی ذکر الہی کرتا ہے۔
جب کسی آدمی کا دل ذکر کرنا شروع شروع کر دیتا ہے تو ایک وقت آتا ہے کہ انسان کے دل میں نور پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر جب بھی اہل دل ذکر کرتے ہیں تو ان کا دل اللہ کے نور سے روشن ہو جاتا ہے۔ یہ اہل دل ہی راز دان حقیقت ہوتے ہیں۔ جن پر حقیقت کے راز منکشف ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS