بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی
مارک ایک امریکی شہری ہے جس کی عمر ستر سال ہے۔ مارک سے میری دوستی ابھی حال ہی میں ہوئی جب میں نے اپنے آپ کو فٹ رکھنے کے لئے اسکواش کھیلنی شروع کی۔ میں نیا نیا ایک دن جب فٹنس کلب پہنچا تو ایک شخص اکیلا کورٹ میں پریکٹس کر رہا تھا۔ یہ مارک تھا۔ مجھے بھی کھیلنے کا شوق تھا لہذا میں نے اشارے سے مارک کو ہیلو کیا۔ وہ کورٹ سے باہر آیا اور اپنا تعارف کرایا۔ اس طرح ہم ہفتے میں دو دن اسکواش کھیلنے لگے۔
ابتدائی دنوں میں وہ میرے جوتے دیکھتا لیکن کچھ نہ کہتا۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے لیکن کیوں کہ ہماری ملاقات کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا لہذا وہ خاموش رہا۔ مارک کیوں کہ اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہے اس لئے وہ ہمیشہ مجھ سے پہلے کورٹ میں موجود ہوتا تھا۔ ایک دن میں جلدی پہنچ گیا اور مارک وہاں نہیں تھا۔ میں اس کا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ آیا اور اپنے بیگ سے جوتے نکالے اور جو جوتے وہ پہن کر آیا تھا وہ اتار دیے۔
اس نے بستے سے نکالے ہوئے جوتے پہنے۔ میں یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ اس نے مجھے کہا تمہارے جوتے اسکواش کورٹ کے لئے نہیں بنے۔ تمھارے یہ جوتے ٹینس کورٹ کے لئے ہیں یا جوگنگ کے لئے ہیں۔ لکڑی کے کورٹ کے لئے مختلف جوتے ہیں۔ تم ان جوتوں کو پہن کر یہاں تک آتے ہو، ان میں مٹی جم جاتی ہے جو لکڑی کے کورٹ کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ اس سے میں اور تم دونوں گر کر زخمی ہو سکتے ہیں۔ تمہیں چاہیے کہ تم اسکواش کے جوتے خریدو اور ان کو یہاں آ کر تبدیل کر لیا کرو۔ میں نے مارک کو کہا ٹھیک ہے، میں اسکواش کے جوتے خرید لوں گا۔ گھر سے جوگنگ کے جوتے پہن کر نکلا کروں گا اور پھر یہاں آ کر اسکواش کے جوتے سے تبدیل کر لیا کروں گا۔
مارک ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ مارک کے پاس مجھ سے بہتر ریکٹ، جوتے، چشمے، رسٹ بینڈ اور اسکواش کھیلنے کے تمام لوازمات تھے۔ میں تیس سال سے پاکستان سے باہر رہ رہا ہوں اور میں نے مغربی ملکوں میں ہر شخص کو بہت نظم و ضبط کا پابند دیکھا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ہر چیز ترتیب سے کرتے ہیں۔ اگر سائیکل چلائیں گے تو پہلے ہیلمٹ پہنے گے، سائیکل پر لائٹ لگائیں گے اور پیلی جیکٹ پہنیں گے تاکہ اندھیرے میں نظر آ سکیں اور حادثے سے بچ سکیں۔ بالکل اسی طرح جس، طرح مارک نے مجھے سمجھایا کہ مجھے اسکواش کے لئے الگ جوتے خریدنے چاہیے اور یہ کہ میں ٹینس کے جوتے پہن کر اسکواش کھیل رہا ہوں۔
اب آپ سب کو یہ بتانے کا مقصد کیا ہے۔ ابھی کل ایک خبر آئی کہ کراچی میں 9 عورتیں اور تین بچے مفت راشن لیتے ہوئے کچل کر جاں بحق ہو گئے۔ نجی فیکٹری کے مالک نے سائٹ کے علاقے میں اپنی فیکٹری کے باہر مفت راشن بانٹنے کا انتظام کیا تھا۔ مفت آٹا اور راشن کا سن کر لوگ جمع ہو گئے اور ایک مجمع اکٹھا ہو گیا۔ جیسے ہی فیکٹری کے دروازے کھلے، لوگ مفت راشن لینے کے لئے دوڑے اور اسی دوران بارہ لوگ اپنی جان دے بیٹھے۔
فیکٹری مالکان نے بغیر پولیس، مقامی انتظامیہ اور بغیر کسی انتظام اور منصوبہ بندی کے راشن بانٹنے کا انتظام کیا تھا۔ یہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔ ہم لوگ بغیر کسی منصوبہ بندی کے ہر چیز رب کریم پر چھوڑ کر شروع کر دیتے ہیں۔ اس فیکٹری کا مالک یکم اپریل کو عمرے پر روانہ ہونے والا تھا۔ زکٰوۃ اور راشن کی تقسیم پر اتنی لاپرواہی اور انتظامی کوتاہی اور اس کے بعد عمرہ۔ کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب۔
اسی طرح کچھ برس پہلے اسلام آباد مری کے قریب ایک اسکول بس کا حادثہ ہوا تھا۔ بس میں گنجائش سے زیادہ بچے سوار تھے۔ ہائی وے پولیس نے اس بس کو روکا بھی کہ اتنے زیادہ بچے بھر دیے گئے ہیں مگر پھر بھی پولیس نے بس کو جانے دیا۔ کچھ ہی دور جا کر وہ بس موڑ مڑتے ہوئے حادثے کا شکار ہو گئی جس میں کئی بچوں کی جانیں چلی گئیں۔
کراچی میں بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ لگنے کا مشہور واقعہ ہر شخص کو زبانی یاد ہے۔ اس حادثے میں 260 لوگ زندہ جل گئے اور متعدد زخمی۔ اس فیکٹری کی بلڈنگ کا نقشہ پاس کرنے والے کو کسی نے پکڑا؟ اس سے پوچھا جاتا کہ کس طرح بغیر کسی خارجی راستے کے، بغیر کسی بڑی کھڑکیوں کے، بغیر کسی الارم کے، اس عمارت کا نقشہ کیسے اور کیوں قبول کیا گیا۔ کہتے ہیں کہ اس عمارت کی دوسری منزل ایک جیل کی کوٹھڑی تھی جس سے نکلنے کا راستہ صرف سیڑھیوں سے پہلی منزل سے ہی جاتا تھا۔ اسی لئے جب آگ لگی تو دوسری منزل والے ملازمین اس عمارت سے نکل ہی نہ پائے۔
اسی طرح کے ہزاروں واقعات ہیں جو ہماری لاپرواہی کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ کاش ہمارے سب لوگ کافر مارک کی طرح ہو جائیں جو چھوٹی چھوٹی جزئیات کو شعور اور فہم کی نظروں سے دیکھے۔ وہ کافر مارک جو ٹینس، اسکواش اور سائکل چلانے کے لیے الگ الگ جوتے رکھتا اور پہنتا ہے تاکہ کو کوئی حادثہ نہ ہو جائے۔ یہ کافر مارک کوئی بہت انتہائی تعلیم یافتہ بھی نہیں ہے، معمولی سی بنیادی تعلیم کے بعد کچھ کمپنیوں میں ملازمت اور پھر ٹیکسی۔ مگر اس شخص کو ہر کام میں مکمل آگاہی حاصل ہے۔ یہ معمولی چیزوں کو اہم سمجھتا ہے اور اپنی اور دوسرے کی زندگیوں کی حرمت کو مقدم مانتا ہے۔
اگر کافر مارک اس مفت راشن کا انتظام کرتا تو کیا یہ حادثہ ہوتا؟ بالکل نہیں! کیوں کہ مارک جانتا ہوتا اور اس کو اس بات کا ادراک ہوتا کہ بھوک اور مفلسی کیا چیز ہوتی ہے۔ مارک کو علم ہوتا کہ جب کسی کے بچے گھر میں بھوکے ہوں اور کھانے کے پیسے نہ ہوں تو پھر مفت راشن بانٹتے وقت پہلے کن چیزوں اور حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے۔


