بت پرستوں کی نئی نسلیں (6)
نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو اسے پاش پاش کر دیتے۔ مگر پرانے بت کے ٹکڑوں کو پاؤں تلے روندنے اور نیا بت تراشنے کے درمیان بس ایک مختصر سا وقفہ ہوتا تھا۔
—————————————————-
چھٹا باب : اور خونخوار بھیڑیا پھر جاگ اٹھا
چراغ دین نے فضل داد سے اجازت لی اور اسے اس افسردہ حال میں چھوڑ کر چلا گیا۔ فضل داد کچھ دیر غم اور بے بسی کے طوفان میں گھرا ہوا وہاں بیٹھا رہا۔ اس کے دماغ میں غصے کے الاؤ جل رہے تھے (اتنا طاقتور آدمی اور ایسی بے اختیاری) کچھ دیر میں دماغ ذرا ٹھکانے آیا تو اس نے ثمینہ بی بی کو بلوا یا۔ وہ حویلی میں ہی کہیں کام کر رہی تھی۔ چند منٹ میں آ گئی۔
”آپ نے مجھے بلایا صاحب جی؟“ ثمینہ نے آتے ہی پوچھا۔
فضل داد: ہاں! میں نے ہی بلایا ہے تمہیں۔ کیونکہ اس وقت میں بہت بری حالت میں ہوں۔ دماغ کھول رہا ہے میرا۔ ڈرتا ہوں کہیں کسی کا قتل ہی نہ کر دوں۔
ثمینہ بے چاری تو سہم گئی ”میں صدقے واری جاؤں، ایسا کیا ہو گیا ہے صاحب جی؟“ ۔
فضل داد: میں بالکل اکیلا ہوں اس وقت۔ کوئی ایسا دوست نہیں ہے میرا، جس سے میں دل کی بات کر سکوں۔ جو میرے درد کو کم کرنے میں میری مدد کر سکے۔ تم کہو، کیا تم میری دوست بن سکتی ہو؟
ثمینہ: میں تو آپ کی غلام ہوں۔ داسی ہوں آپ کی۔ آپ مجھے جو بھی بنانا چاہیں، میں بن جاؤں گی۔ جس سانچے میں ڈھالنا چاہیں گے ڈھل جاؤں گی۔ آپ مجھے حکم تو کر کے دیکھیں۔
فضل داد: باہر موسم کیسا ہے؟
ثمینہ: بہت اچھا ہے جی۔ رب کی مہر بانی سے ہر طرف بہار ہی بہار ہے۔ سرسوں اپنے پورے جوبن پر ہے آموں پر بھی بور آ رہا ہے۔ اور آپ کے کنو کے پودوں پر جو پھول کھلے ہیں، ان سے تو ایسی خوشبو آ رہی ہے، جیسے سیدھی جنت سے آ رہی ہو۔
فضل داد: لیکن میرے اندر کا موسم تو دوزخ سے بھی خراب ہے۔ میرے دماغ میں تو جیسے آتش فشاں پھٹ رہے ہیں۔ جانتی ہو نا آتش فشاں کیا ہوتا ہے؟ پگھلا ہوا لاوہ، پانی کی طرح کی آگ، جوہر چیز کو جلائے جا رہی ہے۔
ثمینہ: رب خیر کرے! ایسی کیا قیامت آ گئی صاحب جی؟
فضل داد: تم جانتی ہو میں کیسا آدمی ہوں! طاقت رکھنے کے باوجود کبھی زور زبردستی، ظلم زیادتی نہیں کرتا۔
ثمینہ: اس میں تو کوئی شک نہیں ہے صاحب جی!
فضل داد: لیکن اس وقت میرے اندر ایک خونخوار بھیڑیا جاگ اٹھا ہے۔ جو بھوکا ہے زخمی ہے اور بے بسی سے بھونک رہا ہے۔ وحشی ہو گیا ہے یہ، اسے شکار چاہیے۔
ثمینہ: بھیڑیا تو گوشت کھاتا ہے صاحب جی۔
فضل داد: مجھے بھی اس وقت گوشت چاہیے۔ گوشت، کنواری لڑکیوں کا ۔
ثمینہ: انہیں کیا قتل کر کے کھائیں گے آپ؟
فضل داد: قتل تو میں خود ہو گیا ہوں پاگل۔ یہ دیکھو، ادھر پڑی ہیں میری کٹی ہوئی ٹانگیں۔ وہ پڑے ہیں میرے بازو۔ دھڑ بھی نجانے کتنے ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے۔ دل لیرو لیر ہو کے بھی تڑپ رہا ہے۔ اور سر، اس کا تو پتہ ہی نہیں کدھر گیا؟
ثمینہ بی بی نے اسے پانی کا گلاس بھر کے دیا۔
”آپ پہلے یہ پانی پئیں تھوڑا سا۔ پھر مجھے آرام سے بتائیں، ہوا کیا ہے؟ آپ کیا چاہتے ہیں؟ پھر جو کچھ مجھ سے ہو سکے گا، میں ضرور کروں گی۔“
فضل داد پانی کے چند گھونٹ پی کر گلاس رکھ دیتا ہے۔
”ثمینہ! مجھے کنواری لڑکیاں چاہئیں۔ بولو کچھ کر سکتی ہو میرے لیے؟“
ثمینہ: اب اگر ادھ کھلی کلیاں مسلنے کو جی چاہ رہا ہے آپ کا ، تو میں آپ کے لیے کنواری لڑکیاں ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہوں۔ لگتا ہے شادی شدہ اور تعاون کرنے والی لڑکیوں سے دل بھر گیا ہے آپ کا ۔
فضل داد: یہ دل بھرنے کی بات نہیں ہے لڑکی، وحشت اور پاگل پن کا معاملہ ہے۔ یہ دماغ میں بھڑکی ہوئی آگ کا مسئلہ ہے۔ ایسا
مسئلہ جو میں تمہیں بتا نہیں سکتا، سمجھا نہیں سکتا۔ تم بولو، کچھ کر سکتی ہو کہ نہیں؟
ثمینہ: کر سکتی ہوں صاحب۔ کیوں نہیں کر سکتی؟ آپ کے لیے سب کچھ کر سکتی ہوں۔ دو کنواری لڑکیاں تو میرے ماں باپ کے گھر میں بیٹھی ہیں۔ میری بہنیں۔ پہلے تو انہیں ڈالتے ہیں آپ کے اس خونخوار بھیڑیے کے سامنے، قربان ہونے کے لئے۔
فضل داد: لیکن مجھے ہر بار ایک کنواری لڑکی چاہیے۔ ہر دو چار دن بعد ۔ ان دونوں کے بعد کیا کرو گی؟
ثمینہ: پھر اور ڈھونڈیں گے صاحب۔ مجبوریوں کے سیلاب میں سب سے پہلے کنواری لڑکیاں ہی بھینٹ چڑھائی جاتی ہیں۔
فضل داد: لیکن تم اچھی طرح جانتی ہو۔ اس وحشت میں بھی، میں کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا۔
ثمینہ: آپ ذرا سکون کا سانس لیں صاحب جی۔ کسی کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں ہو گی۔ اور اپنے بھوکے بھیڑیے کو بتا دیں کہ شکار کا بندو بست ہو گیا ہے۔ اس کے جبڑوں کو پورا خون مل جائے گا۔
”کیا تم سچ کہہ رہی ہو؟ اپنی بہنوں کو لے آؤ گی میرے پاس؟“
ثمینہ: بالکل لے آؤں گی۔ میرا آپ سے وعدہ ہے۔
فضل داد: لیکن تم تو ان کی شادیاں کرنا چاہتی ہو؟
ثمینہ: شادیاں بھی ہو جائیں گی صاحب جی۔ اور پھر شادیوں کے بعد بھی تو یہی کچھ ہونا ہے نا۔ تو شادیوں سے پہلے ہی سہی۔
فضل داد: مطلب، تم پہلے انہیں میرے پاس لاؤ گی۔ بعد میں ان کی شادیاں کرو گی؟
ثمینہ: آپ کا یہ خونخوار بھیڑیا بھی عجیب ہے۔ شکار کو چیرنا پھاڑنا بھی چاہتا ہے اور اس شکار کی خیریت کا بھی طالب ہے۔
فضل داد: بحث مت کرو، تم میری بات کا جواب دو ۔
ثمینہ: آپ کے پاس آنے کے بعد تو ان کی شادیاں اور بھی ضروری ہو جائیں گی۔
فضل داد: وہ کیوں؟
ثمینہ: وہ یہاں آپ کی خدمت میں پیش ہوں گی اور پھر بیاہی جائیں گی۔ یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ لیکن ایک کنواری لڑکی کو مرد کا مزہ چکھا کر ، پھر اسے تڑپنے اور ترسنے کے لیے چھوڑ دینا، وہ تو بہت بری بات ہو گی نا؟
فضل داد: تو جب ان کے خاوندوں کو پتہ چلے گا کہ وہ کنواری نہیں ہیں تو ۔ ؟
ثمینہ: ان کو پتہ نہیں چلے گا صاحب جی۔ میں ایسا بندو بست کردوں گی، وہ کیا، ان کے تو فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہو گی۔
فضل داد: تو پھر کرو ثمینہ، جتنی جلدی ہو سکے کرو۔ اور اس کے فوراً بعد ان کی شادیوں کا انتظام بھی ان کی شادیوں پر جو بھی خرچ ہو گا، وہ میں کروں گا۔
ثمینہ: پھر تو آپ بالکل بے فکر ہو جائیں۔ سمجھیں آپ کا کام ہو گیا۔
اور ثمینہ نے جو کہا تھا کر دکھایا۔
پانچ ماہ میں چھ کنواری لڑکیاں فضل داد کے کمرے تک لائی جا چکی تھیں۔
دو ثمینہ کی بہنیں او ر چار لڑکیاں ان کے علاوہ۔
ثمینہ کی ایک بہن کی شادی ہو چکی تھی۔ دوسری کا بھی رشتہ طے پا گیا تھا اور اس کی شادی کی تیاریاں بھی پورے زور و شور سے جاری تھیں۔
دوسری چار لڑکیوں میں سے بھی دو کی شادیاں ہو چکی تھیں اور باقی دونوں کی شادیوں کے انتظامات بھی تمام جزئیات سمیت مکمل تھے۔ سارے علاقے میں مشہور کر دیا گیا تھا کہ ان غریب لڑکیوں کی شادیوں پر تمام خرچ ملک فضل داد کر رہا ہے۔
کچھ تو ثمینہ بی بی اور احمد دین کا پراپیگنڈا اور کچھ دیہاتیوں کا اپنا نظام ترسیل، فضل داد کا نام پورے علاقے میں، ایک سخی اور مہر بان زمیندار کے طور پر گونجنے لگا تھا۔
پورے علاقے میں ایک جشن کا ساماں تھا۔
جو چند محدود لوگ اندر کی بات جانتے تھے، وہ کسی کو بتا نہیں سکتے تھے۔ باقی چاہے ملک پور ہو یا آس پاس کے دیہات، کسی کو حقیقت سے آگاہی نہیں تھی۔ وہ تو سب اس کی سخاوت کے ہی گن گا رہے تھے۔
منشی چراغ دین کو حیرت ضرور تھی مگر وہ بھی اسے صرف ایک خوشگوار تبدیلی ہی سمجھ رہا تھا نور بانو کا خیال تھا کہ یہ سب اسے دکھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اصل راز تک تو اس کی بھی رسائی نہیں تھی۔ وہ ان تمام ہنگاموں میں ایک خاموش تماشائی سے زیادہ کچھ حیثیت ہی نہ رکھتی تھی۔
ایسے میں فضل داد نے ایک بار پھر ثمینہ بی بی کو طلب کیا۔
ثمینہ کا خیال تھا کہ وہ اگلے پروگرام کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔ وہ فوراً پیش ہو گئی۔ مگر اس کی توقع کے خلاف فضل داد بہت
افسردگی کے عالم میں بیٹھا ہوا تھا۔
ثمینہ بی بی نے سلام دعا کے بعد اس افسردگی کی وجہ پوچھی۔
فضل داد نے سوال کیا: تم نے مجھے ایک بار کہا تھا کہ مجبوری گناہ و ثواب نہیں دیکھ سکتی؟
ثمینہ: جی کہا تھا۔ کیوں کچھ غلط کہہ دیا میں نے؟
فضل داد: نہیں، تم نے کچھ غلط نہیں کہا تھا۔ میں ہی اس وقت تمہاری بات نہ سمجھ سکا۔
ثمینہ: آپ بڑے لوگ ہیں صاحب! آپ تو اپنی مرضی سے ہی سمجھتے ہیں۔ اور پھر وہی کچھ سمجھتے ہیں جو آپ سمجھنا چاہتے ہیں۔
فضل داد: مگر اب میں اسے اچھی طرح سمجھ گیا ہوں۔ تم بتاؤ اور کتنی لڑکیوں کے ماں باپ سے بات ہو چکی ہے تمہاری؟
ثمینہ: جی، آپ کے خونخوار بھیڑئے کے لیے پورے ایک سال کی خوراک کا بندو بست ہو گیا ہے۔
فضل داد: اس خونخوار بھیڑیے کو تو میں نے گولی مار دی ہے۔ وہ تو اب بھونکے گا بھی نہیں۔
ثمینہ: لیکن صاحب جی! میں ان لڑکیوں کے ماں باپ کو کیا جواب دوں گی۔ جن کے ساتھ معاملات طے ہو چکے ہیں۔ وہ تو اپنی بیٹیوں کی شادیوں کے لئے بڑی آس لگائے بیٹھے ہیں؟
فضل داد: ان کی آس امید کو کچھ نہیں ہو گا۔ ان لڑکیوں کی شادیاں تو ہوں گی۔ اور ہم لوگ ہی کریں گے ان کے سب اخراجات اور انتظامات۔ بس وہ لڑکیاں میرے پاس نہیں آئیں گی۔
ثمینہ: یہ تو اور بھی اچھی بات ہے۔ لیکن یہ سب ہوا کیسے؟ آپ تو ۔ میرا مطلب ہے آپ کا خونخوار بھیڑیا؟
فضل داد: میں یہ سوچ کر ڈر گیا ہوں ثمینہ! کہ لوگ مجبوریوں میں کنواری بیٹیوں تک کی قربانیاں دے دیتے ہیں۔ وہ تو پھر کسی اور وقت کچھ بھی کر گزریں گے۔ ایسے حالات میں تو وہ کسی کا قتل بھی کر سکتے ہیں۔ اور کسی کا بھی۔ پھر اگر ایسا کوئی سلسلہ چل نکلا تو وہ نجانے کہاں جا کر رکے۔ رکے بھی یا نہیں؟ اور یہ سب مجبور لوگ میرے گاؤں کے ہیں۔ ملک پور کے، جسے میں ایک خوشحال اور مثالی گاؤں بنانا چاہتا ہوں۔ میرا کام ان کی مجبوریاں دور کرنا ہونا چاہیے۔ نا کہ ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا۔
ثمینہ: مجبور تو آس پاس کے دیہاتوں میں بھی بہت ہیں۔ جو سب، اب آپ سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ آپ کو تو شاید اندازہ ہی نہیں کہ ان لڑکیوں کی شادیوں کی باتیں کہاں تک پھیل گئی ہیں۔
فضل داد: وہ سب بھی ہو گا۔ لیکن لڑکیوں کی شادیوں سے ان کی مجبوریاں تو ختم نہیں ہو جائیں گی۔ مجھے ان سب کی مجبوریوں
کا علاج کرنا ہے ثمینہ! اور اس طرح سے کرنا ہے کہ انہیں مجھ سے مدد مانگنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
ثمینہ: لیکن یہ سب آپ کریں گے کیسے؟
فضل داد: کروں گا! میں اپنے کچھ دوستوں سے بھی مشورے کر رہا ہوں، جو ایسے معاملات کے ماہرین ہیں۔ مجھے امید ہے کہ میں جلد ہی گاؤں والوں کو مزید اچھی خبریں دوں گا۔
ثمینہ: اس کا مطلب ہے، اب آپ اکیلے ہی سویا کریں گے اپنے بستر پر !
فضل داد: ابھی میں، اس خونخوار بھیڑیے کو ہی ختم کر سکا ہوں، جو مجھے بھی کھا جانا چاہتا تھا۔ لیکن کچھ چھوٹے چھوٹے جانور ابھی بھی زندہ ہیں مجھ میں۔ ویسے بھی میرا خیال ہے کہ کئی شادی شدہ لڑکیاں خوشی سے بھی آتی رہی ہیں میرے پاس۔
ثمینہ: بالکل صاحب جی! اور پھر آپ کی خوشی، ان کی خوشی۔ مطلب خوشی میں خوشی۔
فضل داد: لیکن تم تو اپنی مجبوریوں کے لیے آتی رہی ہونا؟
ثمینہ: میری مجبوریاں تو سب آپ نے ختم کردی ہیں صاحب۔
اب تو میں بھی کئی مہینوں سے موقع ملنے کا انتظار کر رہی ہوں۔
فضل داد: تو چلو آج شام کو تمہارا یہ انتظار ختم کر دوں گا۔
ثمینہ: یہ تو پھر کتنی ساری خوشیاں اکٹھی کر دیں ہیں آپ نے۔ خدا آپ کا بھلا کرے۔ میری بھی عمر لگ جائے آپ کو ۔ جنت کی حوریں آپ کا انتظار ہی کرتی رہیں۔
فضل داد: یہ تم ایک دم کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہو؟
ثمینہ: خوشی میں ایسا ہی ہوتا ہے صاحب جی۔
فضل داد: دکھ میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے پاگل لڑکی۔
ثمینہ: لیکن اس وقت دکھ کی کیا بات؟
فضل داد: میں اس وقت بہت دکھی تھا ثمینہ۔ جب تم نے میری مدد کی تھی۔ بتاؤ تمہیں بدلے میں کیا دیا جائے؟ جو بھی میں تمہیں دے سکتا ہوں، تمہیں مانگنے کا حق ہے۔
ثمینہ: ابھی تو مجھے کچھ نہیں چاہیے صاحب! جب ضرورت ہو گی تو مانگ لوں گی۔ بس آپ اپنا آج کا وعدہ یاد رکھیے گا۔ بڑے
لوگوں کو بھولنے کی بڑی عادت ہوتی ہے۔
فضل داد: نہیں، میں اپنا وعدہ کبھی نہیں بھولتا۔
(پھر وہ شام دونوں نے اکٹھے گزاری اور دوسرے دن فضل داد شہر چلا گیا۔ اسے روشن آباد کے لیے بھی کچھ اہم لوگوں سے ملاقاتیں کرنا تھیں۔ اور کچھ سوال اس کے پاس ملک پور کے لیے بھی تھے ) ۔
فضل داد نے شہر پہنچ کر سب سے پہلے اپنی ماں گوہر جان کو اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔ گوہر جان میں بھی ملک جہانداد کی وفات کے بعد کئی تبدیلیاں آ چکی تھیں۔ اس نے اپنے تمام زیورات بیچ کر فضل داد کے ساتھ ”روشن آباد“ میں سرمایہ کاری کی تھی، جس کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ علاوہ ازیں اس نے 45 سال کی عمر میں ایف اے کا پرائیویٹ امتحان دے کر ، ایف اے پاس کر لیا تھا۔ پھر اس نے کمپیوٹر آپریٹنگ کے دو چھوٹے چھوٹے کورس کیے اور اب وہ بی اے کا امتحان بھی پرائیویٹ دینے کی تیاریاں کر رہی تھی۔
یہ سب چونکہ ان کے خاندان میں پہلی بار ہو رہا تھا، اس لیے دور دور تک کے رشتہ داروں میں یہ موضوع مرکز گفتگو بنا ہوا تھا۔ شہر میں اس کے ملنے جلنے والوں کے لیے بھی یہ انوکھی، لیکن قابل ستائش اور انقلابی تبدیلی تھی۔ اس وجہ سے وہ سب بھی اسے قابل رشک نگاہوں سے دیکھنے لگے تھے۔ گوہر جان نے فضل داد کے خیالات کو سراہا اور اسے اپنے بہنوئیوں سے تبادلہ خیالات کا مشورہ دیا۔
جب فضل داد نے ملک نیاز احمد اور ملک فیاض احمد کے ساتھ مل کر پارٹنر شپ پر ”روشن کنسٹرکشن کمپنی“ کی بنیاد رکھی تھی، تو تینوں مردوں کی رضا مندی سے جمیلہ جان اور ثریا جان بھی ان کی گفتگو میں حصہ لینے لگی تھیں۔ اور اگر یہ ملاقات فضل داد اور گوہر جان کے گھر میں ہوتی تو ان کی سوچ بچار میں گوہر جان بھی شامل ہو جاتی تھی۔ پھر اب جمیلہ جان اور ثریا جان نے نہ صرف پرائیویٹ امتحان دے کر بی اے کی ڈگریاں حاصل کرلی تھیں بلکہ انہوں نے بھی کچھ کمپیوٹر کورسز کر لیے تھے۔ اور اب وہ دونوں ماسٹرز کرنے کی تیاریوں میں تھیں۔ کاروباری معاملات میں اب یہ تینوں عورتیں بھی حصہ دار بن چکی تھیں۔ سب کو صاف نظر آ رہا تھا کہ پھولتے پھلتے ہوئے کاروبار میں آگے چل کر سبھی کو عملی کردار ادا کرنا پڑے گا۔
اس بار ملک پور سے واپسی پر ، گوہر جان سے مشورہ کرنے کے بعد فضل داد اپنے بہنوئیوں کے پاس پہنچا اور سب معاملات زیر بحث آئے تو سب نے مل کر مندرجہ ذیل فیصلے کیے۔
(1) روشن آباد فارمز اور روشن کنسٹرکشن کمپنی کا ایک دفتر شہر میں کھولا جائے۔ تاکہ مطلوبہ ماہرین جو شہر میں آباد ہیں، ان سے ملاقاتوں میں آسانی ہو اور دیگر کاروباری لوگوں سے رابط بھی سہل ہو جائے۔ اس سے یہ بھی ممکن ہے کہ روشن کنسٹرکشن کمپنی کو باہر سے بھی
کچھ ٹھیکے مل جائیں۔ یوں جو انہوں نے قیمتی بھاری مشینری خرید رکھی ہے، استعمال ہوتی رہے۔
(2) روشن آباد میں اپنے ٹھہرنے کے لیے معقول مکانات تعمیر کیے جائیں تاکہ کام کے دوران روزانہ شہر واپس نہ آنا پڑے۔
(3) ملک فیاض احمد کے تعلقات والے ان ماہرین سے رابطے کیے جائیں، جو دستکاری، گھریلو صنعتوں اور سمال انڈسٹریز کے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔
(4) روشن آباد والے دفتر، شہر والے دفتر (جسے ابھی بنایا جانا تھا) اور ملک پور کی حویلی میں کمپیوٹر سیٹ نصب کیے جائیں۔
فیصلے کے اگلے دن ہی ان منصوبوں پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا۔
چند دنوں کے بعد ہی انہیں شہر کے بڑے کاروباری علاقے میں ایک فرنشڈ دفتر مل گیا۔ دو دن میں ہی باقی ضروری لوازمات میسر آ گئے۔ اور نیا لینڈ لائن کنکشن ملنے تک موبائل فونوں سے کام چلانا شروع کر دیا گیا۔
شہر والے دفتر میں بیٹھ کر ہی انہیں معلوم ہوا کہ روشن آباد اور روشن فارمز کی شہرت، شہر کے تمام کاروباری حلقوں تک پھیل چکی ہے۔ جس نے اپنے مطلوبہ ماہرین سے رابطوں کے لیے ان کا راستہ آسان کر دیا۔ ملک نیاز احمد اور ملک فیاض احمد اپنے شعبوں میں مصروف رہے اور فضل داد اپنی ضرورت کے ماہرین سے ملاقاتیں کرتا رہا۔ یوں دو ہفتوں کے اختتام پر ہی اس کے پاس ملک پور کے لیے، اپنے منصوبوں کا پورا خاکہ تیار ہو گیا۔
پھر وہ ملک پور واپس آیا اور منشی چراغ دین سے مشورہ کرنے کے بعد گاؤں کے چیدہ چیدہ لوگوں کو ، اس نے ایک ملاقات کے لیے بلایا اور ان پر اپنا ارادہ ظاہر کر کے ان سے تعاون طلب کیا۔ زیادہ سے زیادہ لڑکیوں کو سکول میں لانا، عورتوں کا فارغ وقت کے نفع بخش استعمال کے لیے دستکاریاں سیکھنا اور مردوں کو نئے نئے ہنر متعارف کروانا، انہیں کافی پیچیدہ مراحل محسوس ہو رہے تھے۔ پھر بھی اڑھائی تین گھنٹے کے بحث و مباحثے کے بعد ، سب اس کا ساتھ دینے پر راضی ہو گئے۔ بہت سے لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس کا شکریہ بھی ادا کیا۔
فضل داد نے ایک مہینے کے اندر اندر بندو بست کر کے، لڑکیوں کے سکول میں لڑکیوں اور عورتوں کے لیے اور لڑکوں کے سکول میں، لڑکوں اور مردوں کے لیے دست کاری اور گھریلو صنعتوں کی کلاسوں کا آغاز کروا دیا۔
ادھر روشن آباد میں اس نے آٹھ کنال کے ایک ٹکڑے پر اپنے اور اپنے بہنوئیوں کے ٹھہرنے کے لیے رہائش کی تعمیر کا کام بھی شروع کروا دیا۔ علاوہ ازیں مین روڈ کے ساتھ ایک چھوٹی سی مارکیٹ بھی بننے لگی، جہاں کہ ملک پور کے لوگوں کا گھروں میں تیار کیا ہوا
سامان خریدا جانا تھا۔
پھر اس نے منشی چراغ دین کو نور بانو کی شادی کے لیے رشتہ تلاش کرنے کے لیے کہا۔ اس نے منشی کو بتایا کہ وہ گاؤں میں چالیس کنال زرعی زمین نور بانو کے نام کرے گا، جو شادی کے بعد بھی نور بانو ہی کے نام پر رہے گی۔ نور بانو کا ہونے والا شوہر اس زمین پر کاشت کر سکے گا اور اسے کاشت کے لیے، فضل داد کی طرف سے پورا تعاون حاصل ہو گا۔ اگر نور بانو چاہے تو لڑکیوں کے سکول کی بڑی استانی کے ساتھ مدد گار کے طور پر لگ جائے۔ اور اگر اس کا دل ہو تو اور پڑھتی بھی رہے۔ منشی چراغ دین نے ان سب مہر بانیوں پر اس کا پر جوش شکریہ ادا کیا۔
یہ سب کام بھی ہو رہے تھے اور ایک ایک کر کے ان لڑکیوں کی شادیاں بھی فضل داد کے پیسوں سے انجام پا رہی تھیں، جن کے سلسلے میں بات چیت ثمینہ بی بی نے کی تھی۔ بے شک اب فضل داد کے اندر کا (بقول اس کے ) خونخوار بھیڑیا مر چکا تھا لیکن ان شادیوں کے پروگراموں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
(جب قدرت کسی کا ساتھ دینے پر آتی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ بگڑے ہوئے کام سنورنے لگتے ہیں اور جہاں سے امید بھی نہیں ہوتی، وہاں سے امداد بہم ہو جاتی ہے۔ انسان کسی حادثے سے دو چار ہو کر ، اسے بد قسمتی تصور کرتے ہوئے، اپنے ستاروں کو کوس رہا ہوتا ہے کہ ان مایوس کن حالات میں سے نئے معاملات رونما ہو کر خوش قسمتی میں بدل جاتے ہیں۔ اور یوں کہ انسان خود حیران رہ جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ فضل داد کے ساتھ بھی ہو رہا تھا) ۔
نور بانو کی تکلیف نے اسے اکسایا کہ بڑی سڑک سے ملک پور آنے والے کچے راستے کو پکی سڑک میں تبدیل کروائے۔ سڑک پختہ ہوئی تو فضل داد کو ملک پور موڑ پر سبزیوں کا ایک فارم بنانے کا خیال آیا، جو وجہ بن گیا وہاں ”روشن آباد“ جیسی بستی کی تعمیر کی۔ جہاں اب اس کے فارموں کے سائز بھی بڑھتے جا رہے تھے اور اس کی آمد نیوں میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ روشن آباد کے مکانات اس کے بینک بیلنس کو بڑھا رہے تھے اور کنسٹرکشن کمپنی بھی مسلسل ترقی کر رہی تھی۔ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی گو نا گوں اصلاحات اس کی مینجمنٹ میں سہولتیں پیدا کر رہی تھیں۔ ہر ضروری جگہ پر نصب کیمرے اسے پل پل کی خبر دے رہے تھے۔
نور بانو نے اس کی شادی کی دعوت کو ٹھکرایا تو وہ کنواری لڑکیوں سے انتقام لینے پر اتر آیا۔ استعمال کے بعد ان لڑکیوں کی شادیاں تو اس کی مجبوری تھی۔ لیکن یہی مجبوری اس کی شہرت اور عزت میں اضافے کا باعث بن گئی۔
ملک پور کے لوگوں کو دستکاریوں اور گھریلو صنعتوں کی تربیت اور دیگر ہنر سکھانے کا کام اس نے یہ سوچ کر شروع کیا تھا کہ یہ لوگ
مالی مشکلات سے نکل آئیں۔ مگر اس نے فضل داد کے لیے ایک ایکسپورٹ فرم کی بنیاد رکھ دی۔
شہر میں دفتر کیا بنا یا، روشن کنسٹرکشن کمپنی کو بڑے بڑے ٹھیکے ملنے لگے اور فضل داد کا شمار ایسے امیر لوگوں میں ہونے لگا جو اپنے علاقے کو جدید اور وہاں کے رہائشیوں کو خود کفیل بنانے کے ساتھ ساتھ زر مبادلہ کما کر ملک کی ترقی کا باعث بھی بن رہے تھے۔
فضل داد کے پارٹنر بن کر ملک نیاز احمد اور ملک فیاض احمد بھی دولت میں کھیلنے لگے جمیلہ جان، ثریا جان او گوہر جان انتظامیہ کا حصہ بن چکی تھیں۔ ان کے خاندان کے علاوہ دوسری بہت سی عورتیں بھی اس تبدیلی پر بہت خوش تھیں۔
حالات کو ساز گار دیکھتے ہوئے، فضل داد نے کار زار سیاست میں قدم رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ دولت کی طاقت اس کے پاس بہت ہو گئی تھی اور مزید ترقی بھی کر رہی تھی۔ اب اسے سیاست کی طاقت در کار تھی۔ لیکن اس کا اعلان کرنے سے پہلے، اس نے گوہر جان کو اطلاع دی کہ وہ اب شادی کے لیے تیار ہے۔ گوہر جان کے لیے یہ انتہائی خوشی کی خبر تھی۔ وہ فوراً رشتوں کی تلاش میں مصروف ہو گئی۔ کئی ایک لڑکیوں کے والدین پہلے ہی اس خواہش میں، اس کے ساتھ رابطے میں تھے۔ جب بات چل نکلی تو کچھ مزید لوگوں نے بھی اس سے رجوع کیا۔ مگر فضل داد نے کسی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنا اگلا کام شروع کر دیا۔
وہ ملک پور میں، حویلی کے ملک جہانداد والے حصے کو کافی دیر قبل ہی دفتر میں تبدیل کر چکا تھا۔ جہاں اس وقت کم از کم پندرہ آدمی اس کے کام کی دیکھ بھال اور ریکارڈ رکھنے کا کام کر رہے تھے۔ ملک پور کا سارا ریکارڈ اس کے پاس موجود تھا۔ کون کہاں رہتا ہے؟ گھر میں کون کون ہے؟ وہ لوگ کب سے یہاں ہیں؟ اب تک کیا کرتے رہے ہیں؟ اور اب کیا کر رہے ہیں؟ وہ اسی ریکارڈ کی بنیاد پر کسی گھر کا انتخاب کرتا۔ گھر کے بزرگوں کے نام یاد کرتا اور ان کے گھر چلا جاتا۔
گھر کی بزرگ عورتوں کو سلام دعا کر کے ان کے پاس بیٹھ کر چائے پیتا (چاہے وہ چولہوں کے پاس ہی کیوں نہ بیٹھی ہوتیں ) ، ان کا حال دریافت کرتا، کسی خدمت کے بارے میں پوچھتا، اگر کسی کا کوئی مسئلہ ہوتا تو فوراً اپنے لیپ ٹاپ پر نوٹ کرتا اور آخر میں اپنی ہونے والی شادی کے لیے دعاؤں کی درخواست کر کے چلا آتا۔ گھر کے سب لوگ خوش ہو جاتے اور بات دوسرے گھروں تک بھی پھیلتی۔ اس طرح دو دوچار چار کر کے وہ ملک پور کے تقریباً ہر گھر میں چلا گیا۔
اسی دوران میں اس کے کارندے آس پاس کے دیہات سے معلومات اکٹھی کر رہے تھے۔ ان کا کام مکمل ہوتے ہی، فضل داد نے ان سب دیہاتوں میں بھی ایسا ہی کیا۔ اس نے کسی کو نہیں بتایا کہ وہ سیاست میں حصہ لینے جا رہا ہے اور اسے ان کے ووٹوں کی ضرورت پڑے گی۔
دعائیں حاصل کرنے کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد وہ واپس گوہر جان کے پاس پہنچا۔ جس کے ساتھ، رشتوں کے بارے میں تبادلہ خیالات ٹیلی فون پر پہلے ہی چل رہا تھا۔ ماں کے ساتھ تمام خواہش مندوں کے بارے میں بات ہوئی۔ جو رشتے اسے کچھ مناسب لگے، انہیں پیغام بھجوا دیا گیا کہ لڑکا رشتہ طے کرنے سے پہلے لڑکی سے علیحدگی میں ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ جس کے بعد لڑکی کو بھی حق ہو گا کہ وہ چاہے تو اس رشتے سے انکار کردے۔ زیادہ تر لوگوں نے اس شرط کو نا منظور کر دیا۔
لیکن کچھ پڑھے لکھے خاندان ایسے بھی تھے، جو الٹا اس بات پر خوش ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فضل داد کو پسند آ جانے والی تین لڑکیوں نے اسے نا پسند کر کے بات ختم کر دی۔ لیکن تین لڑکیاں ابھی بھی ایسی تھیں جنہوں نے فضل داد کے ساتھ گفتگو کے بعد ہاں کردی تھی اور وہ فضل داد کو بھی پسند تھیں۔ کچھ مزید سوچ بچار کے بعد بالاآخر علوی خاندان کے ایک صنعت کار گھرانے کی بیٹی عروسہ علوی کا انتخاب ہوا۔ جو انگریزی ادب میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کر چکی تھی۔ معاملات طے ہونے کے چند ہفتوں کے بعد ہی ان کی منگنی ہو گئی۔
بہنوں، بہنوئیوں اور ماں کو شادی کی تیاریوں میں مصروف کر کے فضل داد اپنے سیاسی عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پیر علیم الدین شاہ اور پیر کلیم الدین شاہ کے پاس پہنچا۔ اور ر سمی گفتگو کے بعد وہ سیدھا مقصد کی بات پر آ گیا۔
ملک جہانداد سے دونوں پیر صاحبان نے جو وعدہ کیا تھا، وہ بے شک انہیں یاد تھا۔ اور انہوں نے فضل داد کے سامنے اس کا اعتراف بھی کیا، لیکن انہوں نے فضل داد کو یہ بھی بتانے کی کوشش کی کہ وہ ابھی نا تجربہ کار ہے اور سیاست کے بارے اس کا علم بھی محدود ہے۔ اس لیے اسے ابھی کم از کم پانچ سال اور انتظار کرنا چاہیے۔ مگر ان کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ فضل داد کتنی تیاری کے بعد ان کے پاس پہنچا تھا۔
فضل داد نے انہیں یاد دلایا کہ ملک جہانداد کی بیماری کے دوران ہونے والے انتخابات کے موقع پر اس نے، انہیں پہلے سے زیادہ ووٹ دلوائے او ر پہلے سے کہیں زیادہ اقتصادی امداد بھی فراہم کی۔ اور اب صوبائی اسمبلی کی سیٹ کے لیے الیکشن تو اس نے ہر صورت میں لڑنا تھا، اگر پیر صاحبان کا تعاون اسے حاصل ہو گا تو پیر صاحبان کو بھی اس کا تعاون حاصل ہو گا۔ پہلے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے اور بعد میں ایک بھائی کو سینٹ تک پہنچانے کے لیے دوسری صورت میں دونوں اطراف کو نقصان اٹھانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اور اس امر کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ ان کی نا اتفاقی سے کوئی تیسرا فریق بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
پیر صاحبان نے اس سے کچھ وقت مانگا تاکہ وہ اپنے لوگوں سے صلاح مشورہ کر سکیں۔ فضل داد ان کو سوچ بچا ر کی مہلت دے کر لوٹ آیا اور آ کر اپنے دوسرے کاموں میں مصروف ہو گیا۔ کئی ہفتے گزرنے کے بعد بھی اس نے پیر صاحبان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
ادھر پیر برادران اس دوران میں اپنے ذرائع سے اس علاقے میں اس کی مقبولیت کا اندازہ لگاتے رہے۔ مکمل رپورٹ کے بعد ، وہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ فضل داد تو اپنے پورے علاقے میں ان کے وہم و گمان سے کہیں زیادہ مقبول ہے۔ اور یہ بھی کہ اس کی ہر دلعزیزی بالکل غیر مشروط ہے۔ اسے ختم کرنے کا تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسے کم کرنے کے لیے بھی کئی سال کی محنت اور بہت سا روپیہ درکار ہو گا۔ الیکشن سر پر کھڑا تھا اور پیسہ خرچ کرنے کے لیے وہ تیار نہیں تھے۔
انہوں نے فضل داد کو پیغام بھیج کر بلوایا اور ایک طرح سے احسان کرنے کے انداز میں اس کی بات مان لی۔ حالانکہ ان کے خیال میں سینٹ کی سیٹ کے لیے وہ ان کی کچھ مدد نہیں کر سکتا تھا۔ مگر انہوں نے فی الحال اس خدشے کا اظہار کرنا مناسب نہ سمجھا۔ فضل داد بھی ابھی کوئی لمبی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ ان کا شکریہ ادا کر کے چلا آیا۔
اسے دو باتوں کی خوشی تھی۔
ایک تو یہ کہ پیر صاحبان تعاون کے لیے راضی ہو گئے تھے۔
دوسرا، جو اس نے کتابوں میں پڑھا تھا، وہ عملی زندگی میں بھی ویسا ہی نکلا۔
اس نے کتابوں سے سیکھا تھا کہ مد مقابل کو زیر کرنے کے لیے، کوئی بھی دوسرا عملی قدم اٹھانے کی بجائے، پہلے اسے اپنی طاقت سے خوفزدہ کرو۔ اور طاقت حاصل کرنے کے بھی دو طریقے ہیں۔
پہلا طریقہ: کسی بہت زیادہ طاقتور انسان کے حاشیہ بردار بن جاؤ۔ تمہیں طاقت حاصل ہو جائے گی اور تمہارا سامنا کرنے والے خوفزدہ ہو جائیں گے۔ البتہ ایسی طاقت کے ساتھ ایک مسئلہ ہے کہ جونہی تمہارا باس تم سے ناراض ہو گا، تمہاری طاقت چھن جائے گی۔ اور مت بھولو کہ باس کسی معقول وجہ کے بغیر بھی ناراض ہو سکتا ہے۔
دوسرا طریقہ: اپنے سے نیچے والے لوگوں کو ڈرانے کی بجائے، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہوئے ان کی مدد کرو۔ ان کے قریب ہو جاؤ۔ وہ تمہیں محبت کرنے لگیں گے اور ان کی محبت تمہاری طاقت بن جائے گی۔ پھر جب تک تم ان سے دغا نہیں کرو گے، تمہیں ان کی محبت حاصل رہے گی۔ تمہاری طاقت قائم رہے گی اور دشمن خوف کا شکار۔
ایک اور خیال جو اس کے لیے خوشی کا باعث بن رہا تھا کہ اس نے ملک پور روڈ کو کچے راستے سے پختہ بنوانے کے لیے، ملک جہانداد سے بات کرتے ہوئے جو دلیل پیش کی تھی وہ بھی درست نکلی۔ اس نے کسی کتاب سے پڑھا ہوا جملہ دہراتے ہوئے باپ سے کہا تھا کہ طاقتور لوگ کسی کمزور کو کبھی ساتھی نہیں بناتے۔ ان کا ساتھی بننے کے لیے پہلے خود طاقتور بننا پڑتا ہے۔
اس وقت وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ پیر صاحبان، خوامخواہ میں اس سے تعاون کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ انہوں نے پہلے اس کے علاقے میں بندے بھیج کر اس کی مقبولیت کا اندازہ لگایا ہے، اور مجبور ہو کر رضا مند ہوئے ہیں یعنی اسے یہ طاقت علاقے کے لوگوں کی محبت سے حاصل ہوئی ہے۔ بے شک یہ محبت حاصل کرنے کے لیے، اس نے کام بھی کافی کیے تھے مگر اس معاملے میں زیادہ بڑا کردار اس کی خوش قسمتی نے ادا کیا تھا۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ الیکشن میں جانے سے پہلے اپنی طاقت میں مزید اضافہ کرے گا۔ اس نے اپنے بہنوئیوں کے علاوہ ان ماہرین سے بھی مشورے کیے جو پچھلے ایک سال سے اس کے باقاعدہ ملازم تھے۔ ان میں سے کچھ تو ملکی سیاست کی رگ رگ سے واقف اور اس میدان کے پرانے گر گے تھے، اور کچھ نئے تعلیم یافتہ، لیکن تحقیقی صحافت کے ماسٹر سمجھے جاتے تھے۔ ان سب کے مشوروں سے اس نے ایک ایک کر کے پریس کے لوگوں کو ملک پور اور روشن آباد میں مدعو کرنا شروع کیا۔
وہ انہیں وہاں بلاتا، ان کی دعوت کرتا اور پھر انہیں اپنے کھیت، باغات او فارموں کی سیر کرواتا۔ ملک پور کی تاریخ سے آگاہ کرتا۔ بزرگوں کے کار نامے سناتا اور آخر میں بتاتا کہ کیسے اس نے باپ کی چھوڑی ہوئی تیس مربع اراضی میں مزید اضافے کیے؟ کیسے اس نے ویران جگہ پر روشن آباد جیسی بستی بسا دی۔ گاؤں میں لڑکیوں اور لڑکوں کے سکول، گھریلو صنعتوں اور دوسرے ہنر کی تربیت کے اداروں کی داستان علیحدہ تھی۔ پھر جب وہ لوگ واپس جانے لگتے تو فضل داد کے کارندے ان کے لیے چاول، گوشت، دودھ اور پھلوں کے بڑے بڑے کارٹون ان کی گاڑیوں میں لاد دیتے۔
وہ اس آؤ بھگت سے خوش ہو کر جاتے اور واپس جا کر اس کے کارناموں کے بارے میں لمبے لمبے رنگین مضامین تصویروں سمیت شائع کرتے۔ ٹی وی چینلوں والے اس کے بارے میں پروگرام چلا کر اس کی کوششوں کو سراہتے۔ ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن تھا کہ خبریں سیاسی حلقوں تک نہ پہنچیں؟ اسے کئی سیاسی پارٹیوں کی طرف سے شمولیت کے دعوت نامے موصول ہونے شروع ہو گئے۔ اس نے کسی کو بھی ہاں یا ناں میں جواب نہ دیا۔ بلکہ آنے والے انتخابات سے کسی حد تک مطمئن ہو کر ماں کے پاس لوٹ آیا، جہاں اس کی شادی کی تاریخ میں چند روز باقی تھے۔


