نظریہِ انفرادیت


کچھ دنوں پہلے سلیم میاں سے بات ہو رہی تھی جو کہ آج کل نظریہ انفرادیت کے بہت بڑے حامی ہیں اور اس نظریے کا ہر وقت پرچار کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا ماننا یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں انفرادی عزت و احترام اور انفرادی رائے کا فقدان آپ کو ہر جگہ پر دیکھنے کو ملے گا۔ ان کی اس بات کی صداقت کا اندازہ آپ اس واقعہ سے لگائیں۔

پچھلے دنوں ایک بہت ہی پیارے عزیز کی طرف سے پیغام وصول ہوا کہ ان کی منگنی ہو گئی ہے۔ میرا پہلا سوال یہ تھا کہ آپ کی رائے پوچھی گئی؟ کیونکہ مجھے ایک سو دس فیصد اس کی رائے کے بارے میں معلوم تھا۔ اس نے جواب دیا کہ یار گھر میں مسائل چل رہے تھے تو میں گھر والوں کو منع نہیں کر سکتا تھا میرے گھر والوں نے بس بتانے والے لہجے میں مجھ سے پوچھا تو میں نے ان کو کہہ دیا کہ جیسے آپ کو مناسب لگے۔ میرا اگلا سوال یہ تھا کہ تمھارا کیا ہو گا؟

تمھارے خواب؟ اس کا جواب یہ تھا کہ اللہ ہے یار۔ میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا کہ اللہ پاک بھی سوچتے ہوں گے کہ کیسی مخلوق بنائی ہے جو اپنے فیصلے تو خود کر نہیں پاتی لیکن آس مجھ سے لگائے بیٹھی ہے۔ آخر میں جب میں نے تھوڑا تفصیل معلوم کرنا چاہی تو سامنے سے مجبور لہجے میں جواب آیا کہ یار میں نے گھر والوں کی وجہ سے قربانی دی۔ اب کی بار میرے منہ سے نکلا تم کوئی گائے یا بکری ہو جو تمھاری قربانی دی گئی کیونکہ میں نے گائے اور بکریوں کی قربانی کا تو سنا تھا لیکن اس طرح انسانوں کی قربانی کی جب بھی بات سنتا ہو تو مجھے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ رانگ نمبر ہے۔

میں نے خود نظریہ انفرادیت کو پرکھنے کی کوشش کی تو مجھے خیال آیا کہ کچھ معاملات میں انفرادیت کے حامی لوگ بالکل ٹھیک ہیں لیکن یہ جب نظریاتی حد سے بڑھ جاتے ہیں تب مسائل جنم لیتے ہیں کیونکہ جب آپ مغربی معاشرے کو دیکھتے ہیں وہاں پر انفرادیت کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ دوسروں اور خود سے وابستہ لوگوں کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ جب اس حد تک آپ انفرادی خواہشات کا خیال رکھتے ہیں تب معاشرے میں internal crisis کا شکار اذہان ملتے ہیں جو اپنی خواہشات کے لیے کسی بھی دوسرے انسان کی خواہشات کو قربان کر سکتے ہیں۔

میرے خیال میں selective individualism کا concept ہمارے معاشرے میں متعارف ہونا چاہیے جس کے مطابق ہمیں ان لوگوں کو اہمیت دینی چاہیے جو ہمارے بہت قریبی ہیں اور کچھ معاملات جیسا کہ رشتہ طے کرنے اور پیشہ کے چناؤ جیسے معاملات میں انفرادی انسان کو بہت زیادہ اہمیت ملنی چاہیے تاکہ ہر انسان اپنی زندگی کے سب سے اہم فیصلے خود کر سکے۔

Facebook Comments HS