ابلیس کی آخری رات
اس نے دوپہر 4 بجے کا الارم لگایا اور سو گیا یہ اس کی اس دنیا میں آخری نیند تھی پھر اسے 30 دن کے لیے جانا تھا۔
4 بجے الارم بجا آج جبریل کے آنے کے کچھ امکانات تھے اور اس نے ان کے آنے سے پہلے بہت سے کام کرنے تھے اسے ڈر تھا کہ کہیں انہیں انتظار نہ کرنا پڑے لہذا وہ فٹا فٹ اٹھا ایک سفید اجلا سوٹ استری کیا، شیو بنائی، نہایا اور خوشبو لگا کر 5 بجے تک تیار ہو کر TV کے سامنے بیٹھ گیا نیوز چینل پر آٹے کی لمبی قطار میں لوگوں کو خوار ہوتے، مرتے، اور بھوک سے بلکتے بچوں کو دیکھ کر وہ آب دیدہ ہو گیا، نیوز بلیٹن کے بعد اس کے چند جاننے والے ایک بڑی سی دوربین سے چاند دیکھنے بیٹھ گئے ان کے لئے کھانے کا خاص اہتمام کیا گیا تھا۔
کہیں سے چاند نظر آنے کے امکانات نہیں تھے وہ بھی اب مایوس ہو گیا تھا کہ جبریل اب کل ہی آئیں گے۔
دوربین والوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے وہ اس سے اتنا تنگ آچکے ہیں کہ مزید ایک دن بھی برداشت نہیں کر سکتے لہذا ان کی ہر ممکنہ کوشش تھی کہ چاند نظر آ جائے ویسے اس کی بھی یہی خواہش تھی کیونکہ وہ ان تمام لوگوں اور ان کے بے جا لعن تعن الزامات اور ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھاتے شدید تنگ آ چکا تھا بلکہ وہ تو ہمیشہ کے لئے ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا۔ یہ ایک مہینہ اس کا سب سے پسندیدہ مہینہ ہے اسے پورے سال میں بس اسی مہینے کا شدت سے انتظار رہتا ہے آخر اسے اپنے پروردگار کے پاس جانے کا موقع ملتا ہے۔ جہاں سے وہ آیا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنے پرانے ساتھیوں سے بھی ملاقات کے لیے وہ شدید پر جوش ہوتا ہے۔
کافی وقت گزر چکا تھا دوربین والے افراد بھی تقریباً ہار مان چکے تھے۔ اسے بھی اب یقیں ہو چلا تھا کہ جبریل بھی کل ہی آئیں گے لہذا وہ مایوس ہو کر سونے چلا گیا۔
۔ وہ نیند میں تھا۔
جبریل اس کے سرہانے بیٹھے تھے اس کے بیدار ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ اس نے کروٹ بدلی۔
اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اس کے سرہانے بیٹھا ہے۔
اس نے آنکھیں کھولیں تو جبریل کو اپنے سرہانے بیٹھا پایا۔
وہ فوراً اٹھا اور ادب سے سلام کیا۔ آپ تو کل نہیں آنے والے تھے؟
ہاں! مگر! ۔ تم جانتے تو ہو! رمضان کے چاند کا اعلان ہوتے ہی لوگوں کاconcept ہے کہ تمہیں قید کر لیا جاتا ہے!
قید؟ وہ بے ساختہ ہنس پڑتا ہے۔ یہ تو میری چھٹی کے دن ہیں بہترین دن۔
آپ کب سے انتظار کر رہے ہیں! مجھے اٹھا دیا ہوتا۔
ارے تمہاری نیند نہیں خراب کر نا چاہتا تھا۔
خیر! یہ بتاؤ ہمدم دیرینہ کیسا ہے جہان رنگ و بو۔
ابلیس ایک سرد آہ بھرتے ہوئے جواب دیتا ہے :
سوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزو۔
کچھ دیر کی خاموشی ہو جاتی ہے۔
ابلیس کی نظر پاس ہی کھڑے ساتھیوں کے پاس موجود زنجیروں اور بیڑیوں پر پڑتی ہے وہ مسکراتے ہوئے کہتا ہے۔
کئی سو سالوں سے آپ آرہے ہیں ہر بار یہ بیڑیاں کیوں؟ جانتے ہیں نا کہ آپ کو دیکھتے ہی آپ کے ساتھ ہو لوں گا پھر یہ ”اہتمام“ کیوں؟ لوگوں کا concept ہے؟
جبریل مسکراتے ہیں۔
ساتھی اس کی اجازت سے ہاتھ پاؤں اور گردن میں بیڑیاں باندھتے ہیں۔
ابلیس: ایک عرض کروں آپ سے؟
جبریل: ہاں بولو؟
ابلیس: چونکہ رمضان کے مبارک مہینے کا آغاز ہو چکا ہے اور میری ”قید“ کا فرماں بھی جاری ہو چکا ہے اور میں۔ میں تو اب آپ کی پر سکون قید میں ہوں۔ ہر سو رونق ہو گی، بازاروں میں گلیوں میں گھروں میں سب طرف، میں جاتے جاتے رمضان کی رونق دیکھنا چاہتا ہوں، مجھے لے جانے سے پہلے کچھ دیر کے لئے باہر لے چلیں گے؟
جبریل کچھ دیر خاموش رہے شاید وہ کسی کی اجازت کا انتظار کر رہے تھے۔
انہوں نے ہامی بھر لی انہیں اجازت مل چکی تھی۔
واقعی چار سو رونق تھی لوگ سحری کے اہتمام کے لئے بازاروں کا رخ کیے ہوئے تھے۔
ہر چیز دگنے داموں بیچی جا رہی تھی، اشیاء کم تھیں اور خریدار زیادہ سو ملاوٹ سے بھی کام چلایا جا رہا تھا۔
وہ یہ سب دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں ایک موٹر سائیکل سوار آیا اور ایک خاتون کے پاس رکا اس کے ساتھ غیر مناسب حرکات کیں اس کا پرس چھینا اور تیزی سے نکل گیا۔
یہ سب مناظر جبریل و ابلیس دیکھ رہے تھے۔
جبریل نے مایوسی سے نظریں جھکا لیں
ابلیس نے اوپر آسمان کر طرف نظر اٹھائی اور مسکرایا
۔


