ابتدائی اطلاعاتی بیان یا ایف آئی آر سے متعلق عام مغالطے

ہماری عدالتی ضابطہ جاتی کارروائی کے لئے دو مشہور اور مقبول ضابطے ہیں ایک ضابطہ دیوانی اور دوسرا ضابطہ فوجداری۔ ضابطہ دیوانی میں منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد سے متعلق دعوی جات سول یا دیوانی نالش کے ذریعے عدالتی کارروائی کے لئے انفرادی طور پر فریق اول فریق دوم کے خلاف داخل دفتر کرائے جا سکتے ہیں جس میں اسی وقت کسی سزا یا جزا یا کسی ضمانت یا گرفتاری کا کوئی حکم نامہ جاری نہیں ہوتا البتہ ایگزیکیوشن کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
جبکہ ضابطہ فوجداری میں اگر کوئی جرم قابل دست اندازہ پولیس ہو تو ملزم کو نہ صرف اسی وقت پکڑا جائے گا بلکہ ان کے خلاف ایف آئی آر ہوگی اور اسی ایف آئی کار سے ہی فوجداری مقدمہ کی شروعات ہو جاتی ہے۔ فوجداری مقدمہ میں نجی شکایت یا پرائیویٹ یا براہ راست کمپلینٹ یا شکایت جبکہ زیر دفعہ دو سو ضابطہ فوجداری کے تحت براہ راست متعلقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں داخل دفتر کیا جاسکتا ہے جس کی نوعیت بھی فوجدار ہوتی ہے چی پر پھر کسی اور وقت تفصیلی بات کریں گے۔
تو بات ہم ایف آئی آر کی کر رہے تھے۔ تو ایف آئی آر کے بارے میں بھی مغالطہ پایا جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ بعض لوگ اس کی تشریح ابتدائی انکوائری رپورٹ کرتے ہیں بعض اس کو ابتدائی انویسٹیگیشن رپورٹ بولتے ہیں اور بعض اس کی تشریح کو ابتدائی اطلاعی رپورٹ کے کرتے ہیں اور بالکل درست کرتے ہیں۔ کیوں درست کرتے ہیں کیونکہ ایف آئی آر ضابطہ فوجداری کے دفعہ ایک سو چون کے تحت درج ہوتی ہے اور اس کا مطلب ہی صرف واقعے سے متعلق ریاست مشینری کو آگاہی دینا ہوتی ہے اور یہ کسی بھی متعلقہ تھانے کے آپریشن برانچ میں دی جا سکتی ہے اور پولیس پر یہ لازم ہے کہ وہ آپ کے اس درخواست کا زبانی بیان کو مذکورہ دفعہ کے تحت ضبط تحریر میں لائے اگر جرم قابل دست اندازہ پولیس ہو تو ایف آئی آر درج کرائیں گے اور اگر جرم کی نوعیت قابل دست اندازہ پولیس نہ ہو تو پھر زیر دفعہ ایک سو پچپن کے تحت تحریر کر کے متعلقہ مجسٹریٹ کے پاس اندراج ایف آئی آر کے لئے بھیجیں گے۔
ایف آئی آر بذات خود کوئی شہادتی دستاویز نہیں ہوتی البتہ کسی شہادت کا بنیاد ہو سکتی ہے یا درج ہونے کے بعد اس پر مزید تفتیش ہو سکتی ہے جسے حرف عام میں چالان یا چارج شیٹ کہا جاتا ہے جس کو قانونی طور پر پولیس رپورٹ بھی کہا جاتا ہے جو ضابطہ فوجداری کے زیر دفعہ ایک سو تہتر کے تحت عدالت میں جمع کرائی جا سکتی ہے۔
ایف آئی آر میں ایک ابتدائی عنوان ہوتا ہے جس میں متعلقہ مجسٹریٹ کو مخاطب کیا جاتا اس کے بعد ایف آئی نمبر، متعلقہ تھانے کے نام کے ساتھ ساتھ متعلقہ ضلع کا نام اور تاریخ وقت وقوعہ بھی درج ہوتا ہے۔ اس کے بعد نیچے پانچ کالمز بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ پہلے کالم میں تاریخ اور وقت اور تھانے سے روانگی اور وہ ذریعہ لکھا جاتا ہے جس کے ذریعے یہ رپورٹ تھانے پہنچا ہے۔ اس کے بعد دوسرے کالم میں نام اور سکونت اطلاع دہندہ ہوتا ہے خواہ وہ بذریعہ سرکار ہو یا پرائیویٹ درج کیا جاتا ہے۔
تیسرے کالم میں مختصر کیفیت جرم مع مال اگر کچھ کھو گیا ہو کا اندراج ہوتا ہے جس میں دفعات لکھی جاتی ہیں اور ریکوری لکھی جاتی ہے اس کے بعد چوتھے کالم میں تھانے سے جائے وقوعہ کا فاصلہ اور سمت لکھا جاتا ہے اور پانچویں اور آخری کالم یا خانے میں تفتیش سے متعلق لکھا جاتا ہے کہ اس ایف آئی آر پر کون تفتیش کرے گا اور ساتھ ساتھ یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ اگر ایف آئی آر میں کوئی دیر کی گئی ہو تو جو توقف ہو تو اس کا ذکر ہوتا ہے کہ یہ توقف کسی اور کی وجہ سے ہوا ہے۔
اس کے بعد کالم ختم ہو جاتے ہیں اور نیچے درج کرنے والے ڈیوٹی افسر کا نام اور دستخط ہوتا ہے اور اگر کسی پرائیویٹ شخص نے بیان دیا ہو یا درخواست دی ہو تو اس کا بھی دستخط ہوتا ہے۔ اس کے بعد پورا واقعہ لکھا جاتا ہے تفصیل کے ساتھ جس میں دفعات، ریکوری، گواہان ہونے یا نہ ہونے ملزمان کے گرفتاری یا عدم گرفتاری ریکوری کے مشیر نامے سیل سر بہ مہری اگر کیمیکل یا ایف ایس ایل کے لئے بھجوانا ہو تو اس کا جس کی پولیس کے پاس باقاعدہ انٹری ہوتی ہے تھانے سے نکلنے اور واپس جانے کی تمام تحریر کی جاتی ہے۔
اس طرح نوعیت جرم اور کارروائی کا لکھ دیا جاتا ہے اور اس کے بعد ایک پیراگراف پولیس کارروائی کے لئے اور ایف آئی آر کی کاپیوں کی تقسیم کا لکھا جاتا۔ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اس ایف آئی آر کی ایک کاپی متعلقہ مجسٹریٹ کے آفس میں پہنچائی جاتی ہے اور اگر ملزمان پکڑے گئے ہوں تو ملزمان کو بھی ریمانڈ کے لئے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر پیش کیا جاتا ہے۔ جو کہ تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وہ اس لئے کہ ایف آئی آر کے درج ہونے کے بعد تفتیش کے لئے پروسیکیوشن کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ جو ایف آئی پر تفتیش کرتی ہے۔ اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ایف آئی آر سچ ہو اور اس پر ہر کیا ہوا تفتیش سچا ہو اور اس سے متعلقہ مجسٹریٹ متفق ہو وہ اس سے غیر متفق بھی ہو سکتا ہے یا تفتیشی افسر بھی اے کلاس بی کلاس یا سی کلاس کی رپورٹ پیش کر سکتے ہیں۔
اے بی اور سی کلاس پر بھی کسی اور کالم میں بات کریں گے لیکن یہ یاد رکھیں کہ اس سے بھی متعلقہ مجسٹریٹ کا متفق ہونا یا نہ ہونا ضروری نہیں ہے اور متعلقہ مجسٹریٹ یا تو اس کو منظور کرتا ہے یا پھر تفتیشی افسر کو حکم دیتا ہے کہ اس کیس کا باقاعدہ کیلنڈر لسٹ اف چالان پیش کیا جائے تاکہ یہ مقدمہ آگے زیر سماعت لایا جا سکے۔ لیکن متعلقہ مجسٹریٹ کا یہ حکم بھی حتمی نہیں ہوتا ہے اس کو بھی ایگریوڈ پارٹی اعلی عدلیہ میں چیلنج کر سکتی ہے دونوں صورتوں میں چاہے متعلقہ مجسٹریٹ مانے یا رد کرے اور دونوں صورتوں میں کوئی ایک پارٹی ضرور ایگریوڈ ہوتی ہے جو اس کے چیلنج کرنے کا حق رکھتی ہے۔

