قدرت کا ایک انمول خزانہ سی ویڈ
سی ویڈ (Sea Weed) ایک سمندری حیات یا جسے سمندری پودا کہہ لیں ہے جو اس کی گہرائی میں پایا جاتا ہے۔ اسے انگریزی میں ایلگی اور اردو میں طحالب کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ ایک خلیے یا بہت سارے خلیات کا مجموعہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر یہ ایک خلیے پر مشتمل ہوتو اسے مائکرو سی ویڈ کہا جاتا ہے اور جب یہ حیات بہت سارے خلیات پر مشتمل ہو تو اسے میکرو سی ویڈ کہتے ہیں۔ جو سبز و بھورے رنگ یا سرخی مائل ہوتی ہیں۔ سی ویڈ اپنے اندر قدرتی غذائی اجزاء کا بے بہا خزانہ رکھے ہوئے ہیں۔ جو سب سے چھوٹی ایک خلیے کی سی ویڈ مثلاً فائٹو پلینکٹن جسے صرف خورد بین سے دیکھا جاسکتا ہے، یہ چھوٹی سمندری حیات کو خوراک مہیا کرنے کا کام دیتی ہیں۔ جب کہ کئی خلیات پر مشتمل سی ویڈ سمندر کے اندر جنگلات کی مانند پائی جاتی ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے قدرت کا یہ انمول خزانہ بنی نوع انسان کے کس کام کا ہے اور اس کے کیا فوائد ہیں۔ اگر اس کی ساخت کو دیکھا جائے تو اس میں سیلولوس (شوگر کی ایک قسم) کے علاوہ کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں لیکن اس میں سب سے اہم آیوڈین، کیلشیم، فاسفورس، میگنیشیم، لوہا، نمک، پوٹاشیم اور کلورین کے اجزاء پائے جاتے ہیں۔ اب اس پودے کو تقریباً تمام کھانوں میں زیر استعمال لایا جا رہا ہے۔ اس کے اجزاء جن کا پہلے ذکر کیا گیا، انسانی خوراک کے لئے نہ صرف سود مند بلکہ جن کیسوں میں تھائرائڈ گلینڈز ہوں (گلے کی ایک بیماری) ان میں مدد گار ہے۔ اس میں کئی دوسری نمکیات بھی پائی جاتی ہیں جن میں وٹامنز بی اور کے، زنک، آئرن وغیرہ انسانی خلیوں کی بیماری کے دوران ان کو توڑ پھوڑ سے بچاؤ کا کام کرتی ہیں۔
سی ویڈ انسانی جسم کے لئے کیا فوائد رکھتی ہے؟ یہ اپنے اندر مختلف اجزاء رکھنے کی بدولت انسانی حیات کے لئے بے بہا خزانہ رکھے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا اس کے اجزاء غذائی افادیت رکھتے ہیں اور یہ سب اپنی اپنی جگہ انسانی حیات کو فائدہ پہنچانے والے ہیں۔ غذائیت کے علاوہ صحت کے لئے بھی مفید ہیں جو بیماریوں کی صورت مدافعتی نظام کو بیرونی خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لئے مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ اس میں پایا جانے والا مادہ فیوسیڈن انسانی حیات کے لئے بیش بہا خزانہ رکھے ہوئے ہے۔
جس میں انسانی زندگی کی عمر میں اضافہ، اس کا مدافعتی نظام اور دل کے امراض میں اکسیر ثابت ہو رہا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ اس کی روزانہ کی کتنی مقدار ایک بالغ انسان کے لئے مفید ہوگی۔ ایک تحقیق کے مطابق اس میں آئیوڈین کو مد نظر رکھتے ہوئے انیس سال سال کی عمر سے لے کر بڑھاپے تک 150 مائکرو گرام کی مقدار روزانہ کے حساب سے لینی چاہیے۔ چین، انڈونیشیا اور فلپائن دنیا میں سب سے زیادہ اسے سمندر سے حاصل کر رہے ہیں اور ان کی برآمدات کا یہ حصہ بھی ہے۔
اس کے علاوہ کئی ممالک میں ان کی افزائش کے لئے فارموں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان میں سر فہرست تنزانیہ، برازیل، چلی اور امریکہ ہیں اس کے علاوہ انڈیا بھی اس میدان میں سرگرم عمل ہو رہا ہے۔ ہماری بدقسمتی کہ ہم اتنی بڑی ساحلی پٹی رکھتے ہوئے بھی اس طرف توجہ نہیں دے رہے جو ہماری برآمدات کو کئی ملین ڈالرز تک بڑھا سکتی ہے۔ ہمارے احباب اختیار اس اہم سمندری پودے کو سمندر سے نکالنے اور اسے مارکیٹ میں لانے کے لئے کوئی پیش بندی کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ اور نہ ہی اس بارے ہماری ملکی پالیسی دکھائی دیتی ہے۔
ایک سروے کے مطابق انڈونیشیا سی ویڈ کی برامدات میں سب ممالک پر سبقت لئے ہوئے ہے۔ اسی کے ساتھ چین بھی مقابلتا کھانے والی سی ویڈ کی ایک قسم کھومبو تقریباً 5 ملین ٹن کی مقدار سمندر سے حاصل کر رہا ہے۔ کھومبو سی ویڈ نسل کی سب سے عمدہ ورائٹی جاپان سے حاصل کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ جاپان کی دو اور سی ویڈز کی ورائٹیز واکامے اور نوری بھی مشہور ہیں۔ اس میں بھی سرخ رنگ کی نوری سی ویڈ نہایت قیمتی ہے جس سے جاپان ایک بلین ڈالرز کما رہا ہے۔
اس کی سبز رنگ کی قسم جو کیلپ کہلاتی ہے، کھانے کے لئے نہایت مفید ہے جس میں کیلشیم، میگنیشیم، فائبر اور آیوڈین پائی جاتی ہیں اور یہ وزن کم کرنے اور نظام انہضام کو بہتر بنانے میں مفید ہے۔ اب یہ نوڈلز اور فلیکس میں بھی دستیاب ہے۔ اسے ٹوتھ پیسٹ، شیمپو، سلاد کی ڈریسنگ، کیک، ڈھیری پراڈکٹس، فروزن فوڈز اور ادویات میں زیر استعمال لایا جا رہا ہے۔
اسکے بھورے رنگ کی قسم جسے ہجیکی کہا جاتا ہے اس میں دودھ کے مقابلے 14 فیصد زیادہ کیلشیم اور فائبر کی مقدار پائی جاتی ہے۔ یہ گردے، لبلبہ اور کلیجی کے لئے بھی مفید ہے۔
سی ویڈ کے بہت فوائد نظر آتے ہیں اور یہ بذات خود مہلک نہیں لیکن اس کے نقصانات کو بھی دیکھنا ہو گا۔ اس کی ایک چھوٹی قسم جسے سرگاسم کہا جاتا ہے انسانی جسم کی جلد کے لئے مضر ہے۔ اس میں پایا جانے والا مادہ ہائیڈروجن سلفائیڈ آنکھوں، گلے اور ناک میں بیماری پیدا کر سکتا ہے اور جن کو دمہ یا سانس کی بیماری لاحق ہو تو وہ اس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
سی ویڈ صدیوں سے جاپان، چین اور کوریا میں زیر استعمال ہے یہ ان کے کھانوں کا حصہ بھی ہے اور اب رہتی دنیا میں بھی زیر استعمال ہے۔ ان میں بعض تو صرف مہمانوں کے زیر استعمال لائی جاتی ہیں۔ پوٹاشیم کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث گردوں کی بیماری میں مبتلاء مریضوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اسی کے ساتھ جو مریض خون پتلا کرنے کی ادویات لے رہے ہیں انہیں بھی اس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔ جن کو تھائی رائیڈ کا مسئلہ ہو انہیں بھی احتیاط لازم ہے۔
کیا مسلمانوں کے لئے سی ویڈ حلال ہے؟ مسلمانوں کے لیے سمندری حیات کو جو وہ بطور خوراک پکڑیں اور زیر استعمال لائیں، کو حلال قرار دیا گیا ہے ۔ سی ویڈ سمندری حیات کے لئے بھی ازحد ضروری ہے یہ آکسیجن کا ذریعہ بھی ہے۔ اگر سمندر سے تمام نباتات کا خاتمہ ہو جائے تو اس کا دوسری حیات پر گہرا اثر پڑے گا اور انہیں آکسیجن کی سپلائی معطل ہونے سے نہ صرف دوسری حیات بلکہ سمندری حیات بھی نا پید ہو جائیں گی۔ اسی لئے قرآن بنی نوع انسان کو ہر چیز کے استعمال میں میانہ روی کا درس دیتا ہے۔


