اور پھر کسی کی محبت غالب آ گئی انصاف پہ


پچھلے کئی دنوں سے پاکستان سیاسی اکھاڑا بنا ہوا ہے۔ سیاسی معاشی معاشرتی عدم استحکام کا سبب بنا ہوا ہے۔ ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک کے بڑے جو ملک کا نظم و نسق چلانے کے ذمے دار ہیں کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب کرتے جس سے سیاسی تناؤ میں کمی آتی اور ملک میں معاشی عدم توازن کو متوازن بنانے کی کوئی سعی کی جاتی۔ مگر افسوس ہے کہ ملکی قومی مفادات پہ، آئین و قانون کی پاسداری پہ، پارلیمان کی بالادستی اور تکریم پہ کسی کے ذاتی عناد، گھروں کے اندر پنپتی پسند و نا پسند اور کسی کی انفرادی انسیت بھاری پڑ گئی۔

قانونی موشگافیوں میں جانے سے بہتر ہے سیدھی دو ٹوک کھری بات کریں کہ آج ارض پاک اس ادارے ان چند مخصوص شخصیات کی ذاتی انا کی وجہ تاریخ کے انتہائی بدترین سیاسی قانونی آئینی و اخلاقی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔

پاکستان آج تک جسٹس منیر، جسٹس مولوی مشتاق، جسٹس افتخار چودھری جسٹس، ثاقب نثار جیسے عدل و انصاف کا چہرہ بگاڑنے والے منصفوں کے متنازعہ متعصبانہ اور جانبدارانہ ذاتی پسند و ناپسند، شخصی نفرت و عناد میں کیے گئے فیصلوں کی وجہ سے عدل و انصاف کے ان تقاضوں کی گرد کو بھی نہ چھو سکا ہے جن کی بنیاد پہ پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔

ہماری سیاسی تاریخ عدلیہ میں بیٹھے منصفوں کی ذاتی خواہشات کے طابع عدل و انصاف کے نجانے کتنے بھنڈ بھگت چکی۔ ان بلنڈرز میں سے ایک شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل تھا۔ ایک بے گناہ معصوم شخص کا قتل، جس نے دولخت ملک کو نہ صرف سجایا سنوارا بلکہ اسے اقوام عالم میں ایک منفرد جداگانہ مقام دیا۔ بھٹو نے پاکستان کے تباہ حال اداروں کی تعمیر نو کی۔ پاکستان کو متفقہ آئین دیا، ایٹمی قوت بنایا۔ شہید بھٹو کا وہ کارنامہ جس کی وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ وہ سولی لٹائے گئے وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا تھا۔

شہید بھٹو کے عدالتی قتل کے کئی برسوں بعد جب ان کے خون ناحق کا ذمے دار خود زمین و آسمان کے بیچ ریزہ ریزہ ہو گیا تو اس کے بعد ان کے عدالتی قتل میں شریک ایک ملزم جسٹس نسیم حسن شاہ نے اعتراف جرم کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ بھٹو بے گناہ تھے اور انہیں ایک شخص جنرل ضیاء الحق کی خواہش پہ سولی چڑھایا گیا

جسٹس نسیم حسن شاہ کے اعتراف کے بعد پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ میں شہید بھٹو قتل کیس دوبارہ شروع کر کے بھٹو شہید کو انصاف فراہم کرنے کے لیے پٹیشن دائر کی جو آج تک فائلوں میں کہیں نیچے دھول چاٹ رہی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال صاحب کو چاہیے کہ ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم، خالق آئین ملک کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے عوام کے دلوں کی دھڑکن ایک بے گناہ و معصوم عوامی رہنما شہید بھٹو کو فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا کر سپریم کورٹ پہ لگے ایک بے گناہ کے خون کے دھبے صاف کریں، مگر افسوس آج کے منصفوں کو انصاف دینے سے کم کسی انفرادی شخصیت کا سہولت کار بننے میں زیادہ دلچسپی ہے۔

عمران خان کی محبت میں اگر یہ کہیں کہ ”عجب تیری ہے اے محبوب صورت، نظر سے گر گئے تمام خوبصورت“

عمران خان کے لیے عدل و انصاف کے تقاضوں کی ہیئت ہی تبدیل کردی گئی۔ عمران جب تک نہ آئے عدالتیں کارروائی شروع نہیں کرتیں۔ دس دس مقدمات میں دس منٹ میں بنا پیش ہوئے ضمانتیں تیار پڑی ملتی ہیں۔ خان صاحب مہربانی فرما کر اتنے بجے آجائیں، چلیں دو گھنٹے مزید بڑھا لیتے ہیں، کوئی بات نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ آپ پاکستان کے سب سے محبوب و مقبول ترین عوامی رہنما ہیں آپ کے لیے ہم نگاہیں بچھائے بیٹھے ہیں ”نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں، کسی کے آنے کی ہم لے کے آس بیٹھے ہیں“ آپ اگر آج نہیں آ سکتے تو کوئی بات نہیں ہم کل پھر آپ کے لیے دکان کھول لیں گے۔

کتنے خوش قسمت شخص ہیں خان صاحب کہ اقتدار سے بے دخل ہونے کے باوجود آج بھی کئی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے ہوئے ہیں، دل کا چین و سکون ہیں، چوریاں، ڈاکے، فراڈ، جھوٹ کے ہوشربا انکشافات، اخلاق باختہ آڈیوز وڈیوز کی بھرمار کے باوجود ابھی تک صداقت و امانت کے منصب پہ فائز ہیں اور ابھی تک ایمانداری دیانتداری بھی ان ہی پہ ختم ہے۔

پچھلے چند مہینوں سے عمران خان اور عدالتوں کے معاشقے میں اب شدت آ گئی ہے۔ اب عشق سر چڑھ کر بولنے لگا ہے، بنا کسی ڈر و خوف کھل کر اظہار محبت ہو رہا ہے۔ اسمبلیاں توڑنے کے غیر آئینی فیصلے کے خلاف جن معزز ججوں کو دنیا بھر میں لتاڑا گیا، جن کی شان میں وہ وہ "قصیدے” پڑھے گئے کہ شیطان بھی سنے تو شرما جائے، آج انہیں ججوں کی آرتیاں اتاری جا رہی ہیں۔ آئین کی تشریح کرنے اور اس کی رکھوالی کرنے والے ہیں آئین سے کھلواڑ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

اسلامی عدل و انصاف کی تعریف اس طرح ہے کہ حضرت علی خلیفہ وقت تھے ان کے اور ایک یہودی کے بیچ زرہ کو لے کر ایک تنازع تھا، دونوں قاضی کی عدالت میں پیش ہوئے، موقع کے گواہ نہ تھے نہ ہی کوئی گواہی تھی، قاضی القضاء نے حضرت علی کے بیٹوں کی گواہی قبول نہ کی اور علی رضہ مقدمہ ہار گئے یہودی اسلام کا نظام عدل دیکھ کر دنگ رہ گیا اس نے نہ صرف اسلام قبول کر لیا بلکہ حضرت سے معافی مانگ رزہ واپس کر دی۔ آج اسی اسلام کے ماننے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کے منصف ذاتی خواہشات کے غلام بنے پسند و ناپسند کی بنیاد پہ انصاف کے پیمانے طے کر رہے ہیں۔

آج چیف جسٹس اور ان کے من پسند ججوں اعلیٰ عدلیہ میں جو ہو رہا ہے اس سے دنیا بھر میں نہ صرف پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے بلکہ اسلامی عدل و انصاف کو بھی شرمسار ہونا پڑا ہے۔ آپ سپریم کورٹ تقسیم کے اس نہج پہ پہنچی ہوئی ہے جہاں سے صرف ادارے کی تباہی نظر آتی ہے۔ آئین اور قانون بنانا پارلیمان کا کام ہے اور اس کی تشریح عدالتوں کا لیکن اگر پارلیمان عدالتیں لگا کر فیصلے کرنے لگے یا عدالتیں آئین اور قانون لکھنا اور بنانا شروع کر دیں تو ملک نہیں چل سکے گا بلکہ ایک ایسے گہری دلدل میں دھنس جائے گا جہاں سے نکلنا پھر شاید ممکن نہ ہو اس لیے چیف جسٹس پاکستان سے التماس ہے کہ اہم آئینی معاملات میں مشاورت سے دل کورٹ بنا کر فیصلے کریں گے تو ان کی اہمیت بھی ہوگی اور سب کو اکثریت ان کو قبول بھی کرے گی۔ لیکن اگر چیف جسٹس اپنی اناؤں کے خول میں رہیں گے تو پھر تاریخ میں جسٹس منیر جسٹس مولوی مشتاق کہلائے جائیں گے۔

Facebook Comments HS